عید کی آمد قریب تھی ہم سب نے اپنی تیاری مکمل کرلی تھی مگر ابا جان نے اپنے لیے ابھی تک کچھ بھی نہیں خریدا تھا ہماری ساری فرمائشیں تقریباً پوری ہوچکی تھیں بس جوتے لینا باقی تھے۔ رات بہت دیر تک ہم خریداری کرتے رہے مگر ابا جان کو کوئی جوتا پسند نہیں آیا وہ بس جوتا اٹھاتے قیمیت دیکھتے اور واپس رکھ دیتے جبکہ ہم سب نے اپنی پسند کے جوتے خرید لیے۔لیکن ابا جان اسی طرح واپس آگئے مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ابا جان کو کوئی چیز کیوں پسند نہیں آرہی صبح فجر کی نماز کے بعد چہل قدمی کرتے ہوئے استاد جی سے ملاقات ہوگئی میں نے ان سے پوچھا کہ عید کی تیاری کے وقت ابا جان کا رویہ بہت عجیب ہوتا ہے وہ اپنے لیے کچھ خریدتے ہی نہیں جب بھی پوچھو تو کہتے ہیں کچھ پسند نہیں آیا استاد جی زیر لب مسکرائے اور ایک نظم سنائی ۔ ‘ باپ ہی وہ ہستی ہے ! جس کے دم سے ساری مستی ہے ’ جو چیز ہمارے لیے بہت ہی مہنگی ہے پرایک باپ کی محبت کے آگے بڑی سستی ہے جب زمانے کی دھوپ ہم کو ڈستی ہے وہیں اس کی شفقت رحمت بن کر برستی ہے باپ بڑی نعمت ہے اولاد کے واسطے یہ چھن جائے تو ساری دنیا ہم پہ ہنستی ہے۔ اس ک...