ٹی وی لگائو۔ اخبار پڑھو یا سوشل میڈیا پر جھانک لو مجال ہے کوئی اچھی خبر یا چیز نظر آجائے روز ایک عجیب اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آجاتا ہے ابھی دو دون پہلے ہی ایک خبر دیکھی کہ بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے انجیئنرنگ ڈیپارٹمنٹ کے فائنل ائیر کے طالب علم ثاقب حسین (جوسندھ کے شہر گھوٹکی سے تعلق رکھتا تھا) نے خود کشی کرلی۔ نوجوان نے اس اقدام سے قبل ایک خط لکھا جس کے مطابق خودکشی کا سبب اسے سندھی ہونے کی بنا پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جانا اور بعض مضامین میں مسلسل فیل کیا جانا تھا۔ اس نے خط میں صاف لکھا کہ والدین نے اپنی ذمہ داری پوری کی لیکن پانچ سال سے مسلسل محنت کے باوجود اسے ہروقت اساتذہ کے روئیے کی وجہ سے ڈپریشن رہتا تھا ۔ دل بے چین ہوگیا کہ ماں باپ نے کتنے ارمانوں سے جواں سال اکلوتے بیٹے کو مستقبل سنوارنے کی غرض سے اتنی دور بھیجا اتنی بھاری فیسیں دیں اور ان کے ہاتھ میں کیا آیا جواں بیٹے کی لاش، بہنیں جو ارمان سجائے بیٹھی تھیں کہ بھائی ان کے سب خواب پورے کرے گا ان کی امیدوں کے دئیے ایک دم بجھ گئے ۔ یہ کوئی معمولی صورتحال نہیں بلکہ مسلسلہ خ...