Skip to main content

Posts

Showing posts from July, 2019

تھرکتے استاد اور سرکتے کردار

ٹی وی لگائو۔ اخبار پڑھو یا سوشل میڈیا پر جھانک لو مجال ہے کوئی اچھی خبر یا چیز نظر آجائے روز ایک عجیب اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آجاتا ہے ابھی دو دون پہلے ہی ایک خبر دیکھی کہ بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے انجیئنرنگ ڈیپارٹمنٹ کے فائنل ائیر کے طالب علم ثاقب حسین (جوسندھ کے شہر گھوٹکی سے تعلق رکھتا تھا)   نے خود کشی کرلی۔ نوجوان نے اس اقدام سے قبل ایک خط لکھا جس کے مطابق خودکشی کا سبب اسے سندھی ہونے کی بنا پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جانا اور بعض مضامین میں مسلسل فیل کیا جانا تھا۔ اس نے خط میں صاف لکھا کہ والدین نے اپنی ذمہ داری پوری کی لیکن پانچ سال سے مسلسل محنت کے باوجود اسے ہروقت اساتذہ کے روئیے کی وجہ سے ڈپریشن رہتا تھا ۔   دل بے چین ہوگیا کہ   ماں باپ نے کتنے ارمانوں سے جواں سال اکلوتے بیٹے کو مستقبل سنوارنے کی غرض سے اتنی دور بھیجا اتنی بھاری فیسیں دیں اور ان کے ہاتھ میں کیا آیا جواں بیٹے کی لاش، بہنیں جو ارمان سجائے بیٹھی تھیں کہ بھائی ان کے سب خواب پورے کرے گا ان کی امیدوں کے دئیے ایک دم بجھ گئے ۔ یہ کوئی معمولی صورتحال نہیں بلکہ مسلسلہ خ...

اللہ کی نعمتیں کھا کھا کر دانت ٹوٹ گئےمگرزبان اس کی ناشکری سے باز نہیں آتی

ہماری زندگی میں ایسی انگنت نعمتیں ہیں جن کا ہمیں اس وقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے ہونے کااحساس نہ دلائیں اور یہ وہ نعمتیں ہیں جو انسان کو زندگی کے ساتھ بالکل مفت ایک بونس کی طرح ملتی ہیں شائد اسی لیے ہم انہیں نعمت نہیں سمجھتے اور ان کی نا قدری کرتے ہیں۔ یقین مانیں ایک انگلی کی حرکت سے لے کر ہماری ہررگ وپے میں ہمارے لیے اللہ نے لا تعداد خزانے دئیے ہیں۔صحت اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے وہ نعمت ہے جس کی قدرعموماً اس وقت آتی ہے جب ہم اس سے محروم ہوتے ہیں۔ ہم جتنے مرضی فلاسفر بن جائیں ایک دانت کی تکلیف ہی ہمیں ہماری اوقات یاد دلادیتی ہے یہی کچھ جب میرے ساتھ ہوا۔ تین دن لگاتاردانت کی تکلیف سے چودہ طبق روشن ہوگئے،وقت اور پیسے بھی خوب لگے تو اندازہ ہوا کہ کتنی بڑی نعمت منہ میں چھپائے پھرتے ہیں اور کبھی اس بات پر اللہ کاشکر بھی ادا  نہیں کیا۔ زبان اس کی ناشکری سے باز نہیں آتی ایک دن یونہی نماز عصر کے بعد پارک میں چہل قدمی کرتے کرتے استاد جی سے ملاقات ہوگئی وہ پوچھنے لگے بچہ جی کیا بات ہے آج کل مصروف نظرآتی ہو میں نے اپنی تکلیف بیان کی تو صحت کی دعا دیتے ہوئے کہنے...

مناپن کا سحر ۔۔۔۔۔ راکا پوشی اور مدہوشی

قسط نمبر ۲                                               بابوسر ٹاپ پرجولائی میں برفباری کے مزے لوٹ کر جب بابوسر چلاس روڈ پر سفر کا آغاز کیا تو اس کے خطرناک موڑ دیکھ کر ایک بار پھر اللہ یاد آگیا۔ یہاں پر زرا سی لاپرواہی بہت برے حادثے کا سبب بن سکتی ہے ۔ شوہر نامدارمیاں شاہد محمود بہت مہارت رکھتے ہیں اسلیے انہوں نے بڑی احتیاط سےگاڑی چلائی اور ہم اللہ کے فضل سے ایک گھنٹے میں چلاس پہنچ چکے تھے۔ وہاں کا موسم لاہور کی طرح گرم تھا اور اتنی ٹھنڈک دیکھنے کے بعد وہاں ایک گھنٹہ بھی رکنے کا یارا نہ ہوا اور ہم نے سیدھا قراقرم ہائی وے سےگلگت کی راہ لی ۔ مگر سڑک کی حالت اتنی خراب تھی کہ پورے دن کےسفرکا مزا کرکرا ہوگیا جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ ،بڑے بڑے گڑھے،اونچے اونچے مختلف رنگوں کے خشک پہاڑ اورشورمچاتا دریائےسندھ ہماری بے چینی میں اضافہ کررہا تھا۔ قراقرم ہائے وے کا یہ حصہ ا...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...

کھیل سیاست کا شکارکھلاڑی حماقت کا شکارتماشائی فراغت کا شکار

پچھلے ایک ہفتے سے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاک بھارت کرکٹ میچ کا شور مچا ہوا تھا ہر کوئی اسی موضوع پربات کر رہا تھا مجھے ذاتی طور پر تو کرکٹ سے کبھی دلچسپی نہیں رہی لیکن میری ایک دوست کے بھائی کو باقی قوم کی طرح دیوانگی تک عشق تھا وہ آج مجھے ملی تو بتا رہی تھی کہ جس دن پاک بھارت کرکٹ میچ ہونا تھا اس دن صبح ہی سے وہ ذہنی الجھن کا شکار تھا ۔بار بار چینلز بدل کر مخلتف تجزیہ نگاروں کی گفتگو سنتا کبھی فیس بک پر کوئی سٹیٹس ڈال دیتا مجھے اس تمام صورت حا ل سے شدید ذہنی کوفت ہو رہی تھی۔ میچ شروع ہوا تو گویا پوری زندگی کا مرکز یہی ایک چیز تھی نہ نماز کی ہوش نہ ارد گرد کی خبر۔ میچ میں بارش اور پھر اس کے بعد لمحہ لمحہ صورتحال پاکستان کی شکست کو قریب تر کر رہی تھی اور بھائی کا بلڈ پریشر بڑھتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ پاکستان میچ ہار گیا اور پھر اس نے اپنا موبائیل اٹھا کر ٹی وی پر دے مارا۔ جس پر امی ابو نے اسے خوب لتاڑا ۔وہ بتا رہی تھی کہ میچ کے بعد ہمارے گھر میں دو روز تک سوگ کا سماں رہا۔ یہی نہیں میں نے اپنے ارد گرد کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو کرکٹ میچ کی خاطر سارا سارا دن ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے ہیں اس دو...