Skip to main content

Posts

Showing posts from 2019

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...

مثبت سوچ ۔۔۔۔۔۔ خوش آمدید سنہ دوہزار اکیس

یوں تو دسمبر ہر بار ہی ظالم ہوتا ہے مگر اس بار تو سائبیریا کی یخ بستہ ہوائوں نے ملک کے پہاڑی اور میدانی دونوں خطوں کو یکساں لپیٹ میں لے لیا ہوا ہے، مگر حسب سابق گیس کی عدم فراہمی نے اس موسم کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے اور ہماری بد قسمتی کے گیس کے اتنے ذخائر ہونے کے باوجود بھی آج ہم اس حالت زار میں مبتلا ہیں ،سردی کی شدت کچھ عجیب ہی نوعیت کی ہے کیونکہ گیس کی عدم فراہمی کے ساتھ سردی کے توڑ کے لیے ہمارے بڑے بوڑھے جو اقدامات کیا کرتے تھے ہم ان کا دس فیصد بھی بچوں کو نہیں دے رہے۔ مثلاً روزانہ کی بنیاد پر یخنی ، رات کو کشمیری چائے ،حلوہ جات اور پھر ڈرائی فروٹ وغیرہ یہ تقریباً روز رات کا معمول تھا اور اتنی فراخ دلی سے ہم استعمال کرتے تھے کہ کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ایک نسل ایسی بھی آئے گی جس نے کبھی چلغوزہ کاجو پستہ کا نام بھی نہ سنا ہوگا؟ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ آنے والے ترقی کے عظیم دور میں ہم اس حالت پر پہنچ جائیں گے کہ صحت ثانوی اور لگژری لائف سٹائل اول ترجیح ہو جائے گی ، مجھے یاد ہے ہمارے پاس قیمتی موبائیل یا برانڈڈ کپڑے نہیں تھے مگر اچھا ماحول ، سچے رشتے اور بہت اچھی خورا...

ہمارے دور کا مورخ کیا لکھے گا؟

تاریخ سے مجھے کبھی بھی ذاتی طور پر دلچسپی نہیں رہی لیکن نصاب کی وجہ سے کسی نہ کسی طور اس سے واسطہ رہا اور پھر بچوں کے سلیبس میں شامل ہونے کی وجہ سے چار و ناچار کئی اہم چیزوں کو جاننے کا موقع ملا۔ لیکن مجھے کبھی یہ سمجھ نہیں آئی کہ مورخ کون تھے اور کس طرح سے یہ تاریخ ہم تک پہنچی اور کس حد تک یہ باتیں ٹھیک ہیں یا صحیح، یا یوں کہہ لیں کہ تاریخ کا کون سا پہلو ٹھیک ہے یا غلط ، چلیں یہ تو ہو گئی پرانی باتیں، اس وقت ذرائع ابلاغ زیادہ نہ تھے اور چند لوگوں کے توسط سے ہی  باتیں ہم تک پہنچی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ جو چیز مجھے پریشان کرتی ہے وہ یہ کہ  ہمارے دور کا مورخ کیا لکھے گا جب کہ یہاں ہر انسان انفرادی طور پر ایک تاریخ لکھ رہا ہے  تمام ادارے ، میڈیا ، سوشل میڈیا ،کتابیں ،تحقیق یہ سب چیزیں مل کر کیا کسی ایک حقیقت پر متفق ہو سکیں گی کہ اس دور میں کون صحیح تھا اور کون غلط؟ ہماری حقیقی تباہی کا ذمہ دار دراصل کون تھا؟ یہ سوال مجھے بار بار پریشان کرتا ہے کہ ہماری نوزائیدہ نسل جب جوان ہوگی تو انہیں کیا سبق ملے گا وہ کس کو مورد الزام ٹھہرائیں گے؟  ابھی تو میری ...

رکشہ ڈرائیور ماہر تعلیم ۔۔۔۔۔۔ محمد سلیم

یوں تو اس کالم کا عنوان ہی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کیا اہمیت اور افادیت ہے لیکن یہ صرف ایک عنوان نہیں بلکہ یہ ہمارے نظام اور سماج کے منہ پرایک زناٹے دار تھپڑ ہے کہ جو لگتا تو ہے مگر درد اور ندامت کا احساس پیدا نہیں کرتا ۔ یہی ہمارے مردہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ میرے شوہر کو کسی کام کے سلسلے میں سیکرٹریٹ جانا پڑگیا تو انہوں نے رش سے بچنے کے لیے گاڑی نکالنے کےبجائے رکشہ پر جانا مناسب سمجھا ،انہوں نے رکشہ کو اشارہ کیا اور جب رکشہ قریب آیا تو اس کے پیچھے  یہ عنوان لکھا تھا۔ رکشہ ڈرائیور ماہر تعلیم ۔۔۔۔۔۔ محمد سلیم کوئی اور ہوتا تو خاموشی سے بیٹھ جاتا مگر چونکہ شاہد صاحب اس معاشرے کے حساس شہری ہیں اور ان کے دادا پروفیسر عمر الدین علی گڑھ یونیورسٹی میں شعبہ فلسفہ کے ڈین اورعلامہ اقبال کے قریبی ساتھی تھے جن کی کتابیں اج بھی یورپ کی کئی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں اس کی قدر نہیں ہوسکی۔ اوریہی علم دوستی انہیں ورثے میں ملی ہے۔ جس کے سبب رکشے پر لکھے اس عنوان سے انہیں بہت تکلیف ہوئی اور اپنے سفر کے دوران انہوں...

عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جراٗت پہ جائوں قرباں

نبیﷺ کا  لب  پر جو ذکر ھے  بے  مثال  آیا  ،  کمال  آیا جو  ہجر_طیبہ  میں  یاد   بن   کر   خیال   آیا  ، کمال آیا عمر کی جرآت پہ جاوں قرباں ہیں آج کافر بھی ان سے لرزاں   عمر کے  آنے  سے  کفر  پر  جو    زوال  آیا  ،  کمال      آیا ربیع الاول کے مبارک مہینے کے حوالے سے منعقدہ محفل میلاد میں ایک نعت کے یہ دو اشعار سنے تو ذہن اس مقام پر چلا گیا کہ جب دعوت اسلام کے ابتدائی دور میں چھپ چھپ کر گھروں میں نمازادا کی جاتی تھی اور جیسے ہی حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا تو مسلمانوں نے بلا خوف و خطر خانہ کعبہ میں اعلانیہ نماز ادا کی اور اس کے بعد اسلام کی دعوت میں بہت تیزی آگئی اور واقعی حضرت عمر کی جرائت سے کافر آج بھی لرزاں ہے اور ان کے اسلام لانے کے بعد کفر پر ایک عجیب سا زوال طاری ہوگیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کی قوت  میں بھی بہت اضافہ ہوا ۔ ح...