Skip to main content

رکشہ ڈرائیور ماہر تعلیم ۔۔۔۔۔۔ محمد سلیم


یوں تو اس کالم کا عنوان ہی یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی کیا اہمیت اور افادیت ہے لیکن یہ صرف ایک عنوان نہیں بلکہ یہ ہمارے نظام اور سماج کے منہ پرایک زناٹے دار تھپڑ ہے کہ جو لگتا تو ہے مگر درد اور ندامت کا احساس پیدا نہیں کرتا ۔ یہی ہمارے مردہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ میرے شوہر کو کسی کام کے سلسلے میں سیکرٹریٹ جانا پڑگیا تو انہوں نے رش سے بچنے کے لیے گاڑی نکالنے کےبجائے رکشہ پر جانا مناسب سمجھا ،انہوں نے رکشہ کو اشارہ کیا اور جب رکشہ قریب آیا تو اس کے پیچھے 


یہ عنوان لکھا تھا۔
رکشہ ڈرائیور ماہر تعلیم ۔۔۔۔۔۔ محمد سلیم

کوئی اور ہوتا تو خاموشی سے بیٹھ جاتا مگر چونکہ شاہد صاحب اس معاشرے کے حساس شہری ہیں اور ان کے دادا پروفیسر عمر الدین علی گڑھ یونیورسٹی میں شعبہ فلسفہ کے ڈین اورعلامہ اقبال کے قریبی ساتھی تھے جن کی کتابیں اج بھی یورپ کی کئی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں اس کی قدر نہیں ہوسکی۔ اوریہی علم دوستی انہیں ورثے میں ملی ہے۔ جس کے سبب رکشے پر لکھے اس عنوان سے انہیں بہت تکلیف ہوئی اور اپنے سفر کے دوران انہوں نے اس رکشے والے کا مکمل انٹرویو کیا اور وعدہ کیا کہ ان کی یہ سوچ کسی نہ کسی طرح عوام تک ضرور پہنچائیں گے ۔ان کی جو بات چیت ہوئی اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ محمد سلیم میانوالی سے تعلق رکھتے ہیں اور تعلیم کے سلسلے میں وہ لاہور آئے ، ان کو تعلیم سے نہ صرف عشق تھا بلکہ جنون کی حد تک لگائو تھا ، وہ محنت کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرتے رہے اور یہاں تک کہ چار ایم اے کر لیے جس میں ایم اے انگلش
ایم اے ایجوکیشن،
ایم اے تاریخ
ایم ایڈ پی ٹی سی  شامل ہے ، چونکہ تعلیم سے محبت جنون کی حد تک تھی تو جو کمایا ، صرف تعلیم  پر ہی لگایا۔  اس کے بعد انہیں تعلیم کے شعبے میں بہت معمولی ملازمت ملی جس سے گھر کا چولہا بھی نہ جلتا تھا۔  رفتہ رفتہ عمر زیادہ ہوتی گئی اور کہیں پر ڈھنگ کی ملازمت نہ ملی۔
اس لیے انہوں نے رکشہ چلانا شروع کردیا اور چونکہ تعلیم سے محبت تھی تو اس لیے یہ سلسلہ جاری رہا اور اس محنت کش علم دوست انسان نے انگریزی کی چار کتابیں  بھی لکھ ڈالیں۔ الغرض اس انسان نے جو کمایا تعلیم پر لگایا۔  اب حالت یہ ہے کہ اس بے چارے نے جو کتابیں لکھی ہیں جب وہ پبلشر کے پاس ان کی رائلٹی کے لیے جاتا ہے تو وہ خالی ہاتھ واپس بھیج دیتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں بچتا جب کہ محمد سلیم کے مطابق کتابیں ابھی بھی فروخت ہو رہی ہیں۔ان کتابوں کے نام ان کے رکشے پر بھی لکھے ہوئے ہیں۔

Tenses
Direct in direct
Active passive voice
 Short Tenses
محمد سلیم کا کہنا ہے کہ میں نے تعلیم کی لگن میں اپنا شہر چھوڑا ساری عمر تعلیم حاصل کی جو کمایا علم پر لگایا مگر مول نہ پایا ، کہیں نوکری نہ ملی اور جب رکشہ چلا چلا کر کتابیں لکھیں کہ چلو میرے علم اور تجربے سے کوئی فائدہ لے لے ،مگر اس غریب کو اب
پبلشر پیسہ نہیں دیتے اور خود کما رہے ہیں ۔
وہ بار بار یہ سوال پوچھتا ہے کہ میرا قصور کیا تھا ؟
کیاعلم سے محبت کرنا ؟
کیا اس معاشرے میں رہنا جہاں علم کی کوئی حیثیت نہیں؟
جہاں کتابیں تو تھڑوں پر بکتی ہیں لیکن جوتے مہنگے شوکیسوں پر رکھ کر بیچے جاتے ہیں۔
وہ آخر میں تڑپ کر بولا کہ یہ تعلیم ، میرے کسی کام نہیں آئی  اس سے اچھا تو رکشہ ہی چلاتا رہتا کم ازکم اپنی نا قدری کا دکھ تو نہ ہوتا۔
یقیناً آپ میں سے کئی لوگوں نے اس رکشے کو دیکھا ہوگا یا اس پر سفر کیا ہوگا اور ایسا بھی نہیں کہ کسی نے حکام بالا تک یہ بات نہ پہنچائی ہو ۔ مسئلہ بات پہنچانے کا نہیں ، ترجیحات کا ہے!
ہماری حکومتوں اور نظام کو دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہاں تعلیم ہماری بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
یہاں پر ایک ٹک ٹاک سٹار کو تو ایوانوں تک رسائی مل جاتی ہے لیکن ایک تعلیم یافتہ سکالر کی عزت بھکاری جیسی ہے!
افریقہ کے انقلابی صدر نیلسن منڈیلا سے کسی نے پوچھا کہ ایک لیڈر  اور سیاست دان میں کیا فرق ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ
کہ ایک سیاستدان سوچتا ہے کہ اگلا الیکشن کیسا ہوگا  اور میں کس طرح اس  الیکشن میں جیت سکوں گا؟
جبکہ ایک لیڈر سوچتا ہے کہ میرے ملک کی اگلی نسل کیسی ہو گی ؟
اور میں ایسا کیا کرسکتا ہوں جس سے میری اگلی نسل کو فائدہ ہو؟
 اس کی روشنی میں ہمارے سیاستدان  میٹرو ، لیپ ٹاپ ،
وطن کارڈ یا ہاوئسنگ سکیموں کا نعرہ لگا کر وقتی انقلاب کے خواب تو دکھا سکتے ہیں لیکن  ایک لیڈر کی طرح تعلیم کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھے بغیر اس ملک میں حقیقی انقلاب لانا بالکل نا ممکن ہے۔ چلیں آپ گوروں کی تقلید میں ہی سہی استاد اور تعلیم کو تھوڑی عزت دے دیں پتہ ہے نا کہ امریکہ میں دو لوگوں کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے ایک سائنس دان اور دوسرا استاد۔
اور ہمارے یہاں ایٹمی طاقت بنانے والا قوم سے معافیاں مانگتا نظر آتا ہے اور کئی کتابوں کا مصنف استاد رکشہ چلارہا ہے۔
آپ کو پتہ ہے کہ فرانس کی عدالتوں میں استاد کے علاوہ کسی بھی عہدے پر فائز شخص کو کرسی پیش نہیں کی جاتی۔
جاپان میں ٹیچر کو گرفتار کرنے سے پہلے اس کی حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے اور یہاں خواتین اساتذہ کو حق مانگنے کی پاداش میں رات بھر اندھیرے کمروں میں رکھا جاتا ہے ان پر ڈنڈے برسائے جاتے ہیں۔
کوریا میں سکالر یا ٹیچر اپنا کارڈ دکھا کر وہ سب سہولیات لے سکتے ہیں جو کوئی بھی ایم این اے یا ایم پی اے کو حاصل ہوتی ہیں۔
اب آپ بتائیں کیا ایسی صورتحال میں پاکستان کبھی ترقی کر سکتا ہے؟
یقین مانیں ، پاکستان کے زوال کی سب سے بڑی وجہ یہی تعلیم کی ناقدری ہے !
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تعلیم کی اہمیت کیا تھی اس کا اندازہ صرف ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔
غزوہ بدر کے وہ قیدی جو فدیہ نہیں دے سکتے تھے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا یہ سب پڑھے لکھے تھے ، حضور نے انصار کے بچے ان کے سپرد کرتے ہوئے یہ شرط رکھی کہ تم زر فدیہ کے عوض ان بچوں کوتعلیم دو ۔
حرف آخر یہ ہے کہ  ہمارے وزیراعظم میانوالی سے تعلق رکھتے ہیں اور خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ یقیناً ان تک یہ کالم پہنچے گا تو  وہ ضرور اس رکشے والے کو اس کا حق دلانے کے لیے احکامات جاری کریں گے۔ محمد سلیم ماہر تعلیم رکشہ ڈرائیور کا رابطہ نمبر یہ ہے ۔
0345. 8145358



Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...