پہلی قسط
لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہاتھ پھیرا، دعا دی پھر کہنے لگے بچہ جی۔
سفر میں جہاں موقع ملے رب سے مل لینا
صرف نظروں کی نہیں روح کی پیاس بھی بجھانا!
اس کے بعد انہوں نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور ایک کاغذ پر کچھ لکھنے لگے اور پھر وہ کاغذ مجھے دیا اور کہا بچہ جی جب بھی کوئی تمنا ہوگی تو اسے کھول کے پڑھ لینا۔
میں انہیں خدا حافظ کہہ کر گھر آگئی اور صبح سویرے ہم سفر کے لیے روانہ ہوئے۔ایک روز ایبٹ آباد میں قیام کے بعد ناران کا سفر کیا۔ وہاں کچھ دیرتوقف کرنے کے بعد بابوسر ٹاپ کیلیے روانہ ہوئے۔راستے میں تیزدھوپ تھی ہم نے گاڑی کے شیشے کھول رکھے تھے لیکن کچھ دیر بعد ہی راستے میں بڑے بڑے گلیشئیر آنا شروع ہوگئے جو دھوپ کے باعث پگھل رہے تھے۔ اس وجہ سے کئی مقامات پر آنے والی آبشاروں میں پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا جہاں سے گاڑیوں کا گزارنا بھی کسی ایڈوینچر سے کم نہیں تھا۔ گرچہ دھوپ تیزتھی پھر بھی ہوا میں ایک پرسکون ٹھنڈک کا احساس تھا۔سرسبز پہاڑوں،آبشاروں،جھیلوں سمیت ہر نظارے میں اللہ کی وحدانیت اور قدرت عیاں تھی۔موسم دلفریب تھا اورسورج بھی ہلکے ہلکے بادلوں کی اوٹ سے آنکھ مچولی کر رہا تھا۔ مگر بارش کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔اس وقت کچھ اشعار ذہن میں آئے جو فوراً قلمبند کر لیے۔
سر سبز بلند پہاڑوں میں
کبھی گرتی آبشاروں میں
ڈھونڈا ہے میں نے رب کو
قدرت کے حسیں نظاروں میں
تین گھنٹے کی مشقت کے بعد جب لولوسر جھیل پر پہنچے تو وہاں کا منظر ہی نرالا تھا،جون کا آخری ہفتہ اور جھیل میں ابھی تک برف جمی تھی،ہم لاہور سے جانے والوں کے لیے تو یہ مقام کسی جنت سے کم نہیں تھا۔ سڑک کے اطراف برف کے پہاڑ نما گلیشئیر دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی۔ لولوسر جھیل سے تھوڑا آگے پہنچے تو سڑک بلاک تھی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ آگے بابوسر ٹاپ پر برف کو کاٹ کر جو راستہ بنایا گیا ہے وہاں سے ایک وقت میں صرف ایک گاڑی گزر سکتی ہے لیکن کچھ لوگوں کی جلد بازی کی وجہ سے وہ ایک گاڑی بھی نہیں گزر پارہی جس کی وجہ سے دونوں طرف گاڑیوں،جیپوں اور
وینوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر کچھ لوگوں نے واپس گاڑیاں موڑنا شروع کر دیں کیونکہ آگے جانے میں کم از کم تین سے چارگھنٹے لگ سکتے تھے۔
ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اب جو بھی ہو ہم اس مرتبہ بابوسر ٹاپ ضرورجائیں گیاورپھروہاں سے بابوسرچلاس روڈ سے ہوتے ہوئے نگر اور چائنہ بارڈر تک سیرکرکے آئیں گے۔ اب اس میں کتنی دیر لگ سکتی ہے اس
کا کوئی اندازہ نہیں تھا چار بج چکے تھے جوں جوں وقت گزر رہا تھا، وہاں کی خوبصورتی اور سحر تھکاوٹ کی وجہ سے تھوڑا بے معنی لگنے لگے تھے ایک بار خیال آیا کہ کیا ضرورت ہے اتنا خوار ہونے کی ہم بھی واپس
چلتے ہیں۔ٹریفک بلاک ہونے کی وجہ سے بچے بھی پریشان تھے اور ایسے میں بھوک پیاس اور واش روم کے مسائل کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔کبھی کسی کا بلڈ پریشر ہائی ہوتا اس کو دوا دینی پڑتی کبھی کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا۔ اب اندازہ ہوا کہ سفر کی انہی مشقتوں اور تکالیف کی بناء پر سفر کو قطعۃ من العذاب یعنی عذاب کا ٹکڑا کہا گیا ہے۔ مگر پھر بھی میں نے رب سے ایک ہی دعا کی یا اللہ ہم تیری قدرت دیکھنے آئے ہیں اور اب کچھ لے کر ہی جائیں گے۔ یااللہ اپنا کرم کردے اپنا جلوہ دکھا دے۔
جولائی میں بابوسر ٹاپ پر برفباری۔۔اللہ کی قدرت
چار گھنٹے انتظار کے بعد اللہ اللہ کر کے ہماری باری آئی اس وقت تک ہمارے سر پر ایک بادل کا ٹکڑا منڈلا رہا تھا دور من میں ایک خواہش جاگی کہ کاش کبھی برفباری دیکھنے کا موقع بھی مل جائے لیکن پھر اس خیال کو جھٹک دیا کہ کہاں جون کا آخری مہینہ اور کہاں برفباری!
مگر قدرت تو شائد کسی اور ہی موڈ میں تھی ہم جونہی بابوسر ٹاپ پر پہنچے ایسا لگا جیسے سڑک پر روئی کے گالے گر رہے ہوں ہم سب نے خوشی سے چلانا شروع کر دیا یا اللہ اتنی خوش نصیبی یہ تو برف پڑ رہی ہے پھر کیا ہوا کہ سب تھکاوٹ اتر گئی اور بچے اور ہم سب ہر چیز بھلا کر برف کے گالوں سے کھیلنا شروع ہوگئے۔ سبحان اللہ! دل میں ایک خواہش جاگے اور میرا سوہنا رب اگلے ہی لمحے اسے پورا کردے تو کیا ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط نہیں ہو جائے گا؟ دل،زبان روح سب سے ایک ہی کلمہ جاری تھا۔
فبای آلا ربکما تکذبٰن
تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں
اس بات کا مطلب آج سمجھ آیا۔دیکھیں نا کاغان سے چلے تو تیز دھوپ نے ناران تک ساتھ دیا اورپھردیکھتے ہی دیکھتے ہلکی ٹھنڈی ہوا،پھر بادل، بارش اور برف کا روپ دھار لیا۔
بے شک میرا رب ہر چیز پر قادر ہے۔
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میرے رب کا نظام کتنا منفرد ہے، وہ جو جہاں جیسے چاہتا ہے کردیتا ہے کبھی بادل کبھی دھوپ کبھی بارش، وہی ہے جو ہمارے دل کی ہربات جانتا ہے اور کب کہاں کیسے نوازنا ہے وہ بہت خوب جانتا ہے۔ وہ جب کہتا ہے کہ ان المع العسر یسرا (بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے) تو بلاشبہ چار گھنٹے کی تنگی کے بعد اس جون کی برفباری نے ساری تھکاوٹ اتار دی اور اگلے چار گھنٹے کا سفر بہت آسانی سے گزر گیا۔ آگے بھی بہت سے جلوے اور معجزے منتظر تھے۔
سر سبز بلند پہاڑوں میں
کبھی گرتی آبشاروں میں
ڈھونڈا ہے میں نے رب کو
قدرت کے حسیں نظاروں میں
تین گھنٹے کی مشقت کے بعد جب لولوسر جھیل پر پہنچے تو وہاں کا منظر ہی نرالا تھا،جون کا آخری ہفتہ اور جھیل میں ابھی تک برف جمی تھی،ہم لاہور سے جانے والوں کے لیے تو یہ مقام کسی جنت سے کم نہیں تھا۔ سڑک کے اطراف برف کے پہاڑ نما گلیشئیر دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی۔ لولوسر جھیل سے تھوڑا آگے پہنچے تو سڑک بلاک تھی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ آگے بابوسر ٹاپ پر برف کو کاٹ کر جو راستہ بنایا گیا ہے وہاں سے ایک وقت میں صرف ایک گاڑی گزر سکتی ہے لیکن کچھ لوگوں کی جلد بازی کی وجہ سے وہ ایک گاڑی بھی نہیں گزر پارہی جس کی وجہ سے دونوں طرف گاڑیوں،جیپوں اور
وینوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر کچھ لوگوں نے واپس گاڑیاں موڑنا شروع کر دیں کیونکہ آگے جانے میں کم از کم تین سے چارگھنٹے لگ سکتے تھے۔
ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اب جو بھی ہو ہم اس مرتبہ بابوسر ٹاپ ضرورجائیں گیاورپھروہاں سے بابوسرچلاس روڈ سے ہوتے ہوئے نگر اور چائنہ بارڈر تک سیرکرکے آئیں گے۔ اب اس میں کتنی دیر لگ سکتی ہے اس
کا کوئی اندازہ نہیں تھا چار بج چکے تھے جوں جوں وقت گزر رہا تھا، وہاں کی خوبصورتی اور سحر تھکاوٹ کی وجہ سے تھوڑا بے معنی لگنے لگے تھے ایک بار خیال آیا کہ کیا ضرورت ہے اتنا خوار ہونے کی ہم بھی واپس
چلتے ہیں۔ٹریفک بلاک ہونے کی وجہ سے بچے بھی پریشان تھے اور ایسے میں بھوک پیاس اور واش روم کے مسائل کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔کبھی کسی کا بلڈ پریشر ہائی ہوتا اس کو دوا دینی پڑتی کبھی کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا۔ اب اندازہ ہوا کہ سفر کی انہی مشقتوں اور تکالیف کی بناء پر سفر کو قطعۃ من العذاب یعنی عذاب کا ٹکڑا کہا گیا ہے۔ مگر پھر بھی میں نے رب سے ایک ہی دعا کی یا اللہ ہم تیری قدرت دیکھنے آئے ہیں اور اب کچھ لے کر ہی جائیں گے۔ یااللہ اپنا کرم کردے اپنا جلوہ دکھا دے۔
جولائی میں بابوسر ٹاپ پر برفباری۔۔اللہ کی قدرت
چار گھنٹے انتظار کے بعد اللہ اللہ کر کے ہماری باری آئی اس وقت تک ہمارے سر پر ایک بادل کا ٹکڑا منڈلا رہا تھا دور من میں ایک خواہش جاگی کہ کاش کبھی برفباری دیکھنے کا موقع بھی مل جائے لیکن پھر اس خیال کو جھٹک دیا کہ کہاں جون کا آخری مہینہ اور کہاں برفباری!
مگر قدرت تو شائد کسی اور ہی موڈ میں تھی ہم جونہی بابوسر ٹاپ پر پہنچے ایسا لگا جیسے سڑک پر روئی کے گالے گر رہے ہوں ہم سب نے خوشی سے چلانا شروع کر دیا یا اللہ اتنی خوش نصیبی یہ تو برف پڑ رہی ہے پھر کیا ہوا کہ سب تھکاوٹ اتر گئی اور بچے اور ہم سب ہر چیز بھلا کر برف کے گالوں سے کھیلنا شروع ہوگئے۔ سبحان اللہ! دل میں ایک خواہش جاگے اور میرا سوہنا رب اگلے ہی لمحے اسے پورا کردے تو کیا ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط نہیں ہو جائے گا؟ دل،زبان روح سب سے ایک ہی کلمہ جاری تھا۔
فبای آلا ربکما تکذبٰن
تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں
اس بات کا مطلب آج سمجھ آیا۔دیکھیں نا کاغان سے چلے تو تیز دھوپ نے ناران تک ساتھ دیا اورپھردیکھتے ہی دیکھتے ہلکی ٹھنڈی ہوا،پھر بادل، بارش اور برف کا روپ دھار لیا۔
بے شک میرا رب ہر چیز پر قادر ہے۔
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میرے رب کا نظام کتنا منفرد ہے، وہ جو جہاں جیسے چاہتا ہے کردیتا ہے کبھی بادل کبھی دھوپ کبھی بارش، وہی ہے جو ہمارے دل کی ہربات جانتا ہے اور کب کہاں کیسے نوازنا ہے وہ بہت خوب جانتا ہے۔ وہ جب کہتا ہے کہ ان المع العسر یسرا (بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے) تو بلاشبہ چار گھنٹے کی تنگی کے بعد اس جون کی برفباری نے ساری تھکاوٹ اتار دی اور اگلے چار گھنٹے کا سفر بہت آسانی سے گزر گیا۔ آگے بھی بہت سے جلوے اور معجزے منتظر تھے۔
بابوسر ٹاپ پرجولائی میں برفباری کے مزے لوٹ کر جب بابوسر چلاس روڈ پر سفر کا آغاز کیا تو اس کے خطرناک موڑ دیکھ کر ایک بار پھر اللہ یاد آگیا۔ یہاں پر زرا سی لاپرواہی بہت بُرے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ شوہر نامدارمیاں شاہد محمود کار ڈرائیونگ میں بہت مہارت رکھتے ہیں اسلیے انہوں نے بڑی احتیاط سے گاڑی چلائی اور ہم اللہ کے فضل سے ایک گھنٹے میں چلاس پہنچ چکے تھے۔ وہاں کا موسم لاہور کی طرح گرم تھا اور اتنی ٹھنڈک دیکھنے کے بعد وہاں ایک
گھنٹہ بھی رکنے کا یارا نہ ہوا اور ہم نے سیدھا قراقرم ہائی وے سے گلگت کی راہ لی۔ مگر سڑک کی حالت اتنی خراب تھی کہ پورے دن کے سفرکا مزا کرکرا ہوگیا۔جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ،بڑے بڑے گڑھے،اونچے اونچے مختلف رنگوں کے خشک پہاڑ اورشورمچاتا دریائے سندھ ہماری بے چینی میں اضافہ کررہا تھا۔ قراقرم ہائے وے کا یہ حصہ اس جگہ سے خراب ہے جہاں پر دیامر بھاشا ڈیم بننے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہاں آکر ہمارا سلک روڈ ٹو چائنہ بارڈر والا خواب بڑا ڈراؤنا لگ رہا تھا۔ اللہ اللہ کرکے ایک گھنٹہ بعد سلک روڈ کا آغاز ہوا تو ایسا لگا دوزخ سے سیدھا جنت میں آگئے ہیں اس راستے میں نانگا پربت ویو، اور تین بلند ترین پہاڑی سلسلوں کے ویو بھی آتے ہیں۔ تقریباً اڑھائی گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم گلگت پہنچ گئے وہاں بھی حسب لاہورگرمی تھی اور رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ وہاں کی گرمی کھانے کا بالکل ارادہ نہیں تھا اسلیے ہم نے اس سلسلے میں محمد عثمان صاحب سے مشاورت کی جو ماشاء اللہ پاکستان کے محب وطن شہری ہیں اپنا کاروبار ہے مگر سیاحت کے دلدادہ اورپاکستانی ثقافت کے رسیا ہیں۔انہوں نے مشورہ دیاکہ آپ گلگت سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر واقع ضلع نگر کے گاؤں مناپن میں قیام کریں اور اس کی خوبصورتی،قدرتی حسن اور موسم سے لطف اندوزہوں۔سوا گھنٹے بعد ہم راکا پوشی ویو نگر کے پاس ایک گاؤں مناپن میں ماسٹر ذاکر کے گیسٹ ہاؤس میں پہنچ چکے تھے رات کافی ہوچکی تھی،ہم بھی اٹھارہ گھٹنے کے لگاتار سفر کے بعد نڈھال تھے۔شیف نے بہت مزیدارکڑاہی،سلاد اور گرما گرم روٹیاں بنائیں تھیں جسے ہم سب نے خوب انجوائے کیا۔ اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی بس یہ سکون تھا کہ بستر مل گیا موسم سردتھا ہم نے کمبل اوڑھا اور خواب خوگوش کے مزے لینے لگے۔
گھنٹہ بھی رکنے کا یارا نہ ہوا اور ہم نے سیدھا قراقرم ہائی وے سے گلگت کی راہ لی۔ مگر سڑک کی حالت اتنی خراب تھی کہ پورے دن کے سفرکا مزا کرکرا ہوگیا۔جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ،بڑے بڑے گڑھے،اونچے اونچے مختلف رنگوں کے خشک پہاڑ اورشورمچاتا دریائے سندھ ہماری بے چینی میں اضافہ کررہا تھا۔ قراقرم ہائے وے کا یہ حصہ اس جگہ سے خراب ہے جہاں پر دیامر بھاشا ڈیم بننے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہاں آکر ہمارا سلک روڈ ٹو چائنہ بارڈر والا خواب بڑا ڈراؤنا لگ رہا تھا۔ اللہ اللہ کرکے ایک گھنٹہ بعد سلک روڈ کا آغاز ہوا تو ایسا لگا دوزخ سے سیدھا جنت میں آگئے ہیں اس راستے میں نانگا پربت ویو، اور تین بلند ترین پہاڑی سلسلوں کے ویو بھی آتے ہیں۔ تقریباً اڑھائی گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم گلگت پہنچ گئے وہاں بھی حسب لاہورگرمی تھی اور رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ وہاں کی گرمی کھانے کا بالکل ارادہ نہیں تھا اسلیے ہم نے اس سلسلے میں محمد عثمان صاحب سے مشاورت کی جو ماشاء اللہ پاکستان کے محب وطن شہری ہیں اپنا کاروبار ہے مگر سیاحت کے دلدادہ اورپاکستانی ثقافت کے رسیا ہیں۔انہوں نے مشورہ دیاکہ آپ گلگت سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر واقع ضلع نگر کے گاؤں مناپن میں قیام کریں اور اس کی خوبصورتی،قدرتی حسن اور موسم سے لطف اندوزہوں۔سوا گھنٹے بعد ہم راکا پوشی ویو نگر کے پاس ایک گاؤں مناپن میں ماسٹر ذاکر کے گیسٹ ہاؤس میں پہنچ چکے تھے رات کافی ہوچکی تھی،ہم بھی اٹھارہ گھٹنے کے لگاتار سفر کے بعد نڈھال تھے۔شیف نے بہت مزیدارکڑاہی،سلاد اور گرما گرم روٹیاں بنائیں تھیں جسے ہم سب نے خوب انجوائے کیا۔ اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی بس یہ سکون تھا کہ بستر مل گیا موسم سردتھا ہم نے کمبل اوڑھا اور خواب خوگوش کے مزے لینے لگے۔
صبح کے چار ہی بجے تھے کہ کوئی ہمارے کمرے کی کھڑکیاں زور زور سے بجانے لگا ایک دم گھبرا گئے پتہ نہیں کون ہے جگہ بھی نئی لوگ بھی نئے،ڈرتے ڈرتے پردہ ہٹایا تو دو ننھے ننھے رابن ہڈ نما پرندے تھے جو بار بار آکر اپنی چونچ کھڑکی میں مارتے تھے گویا نماز فجر کے لیے اٹھا رہے ہوں اور بات درست تھی کیونکہ
جتنی تھکاوٹ تھی اگر وہ ہمیں نہ اٹھاتے تو نماز نکل جاتی۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو تقریباً روشنی تھی باہر چیری کے درختوں کی اوٹ سے دور راکا پوشی برف کا دوشالا لیے مسکرا رہی تھی ہم نے یہ منظر آنکھوں میں قید کیا اور پھرسو گئے۔ صبح جب آنکھ کھلی تو بچے غائب تھے پریشان ہو کر باہر دیکھا تو وہ باغ میں لگے تازہ پھلوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ مناپن میں اس وقت چیری کا موسم تھا،سب درخت چیری سے لدے ہوئے تھے بچوں کو کوئی روک ٹوک نہ تھی انہوں نے جی بھر کر چیری کھائی یہاں کے لوگوں کا اخلاق بھی بہت اچھا تھا۔ماسٹر ذاکر بھی گلگت کالج میں لیکچرر ہیں اور ڈبل ایم اے کیا ہے۔ان کے مزاج میں سادگی اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ان کے گیسٹ ہاؤس میں ہمیں بالکل گھر سا ماحول ملا۔مناپن میں ہر چیزمیں ایک سکون ایک ترنم تھا۔ ماحول فطرت کے عین قریب تھا۔ تھوڑا باہر نکل کردیکھا تو چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں بغیر سرپرست کے سکول جا رہے تھے انہوں نے ہمیں دیکھ کر سلام کیا
بچوں کے چہرے سرخ سفید تھے کوئی خوبانی لگی تو کوئی چیری۔
جتنی تھکاوٹ تھی اگر وہ ہمیں نہ اٹھاتے تو نماز نکل جاتی۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو تقریباً روشنی تھی باہر چیری کے درختوں کی اوٹ سے دور راکا پوشی برف کا دوشالا لیے مسکرا رہی تھی ہم نے یہ منظر آنکھوں میں قید کیا اور پھرسو گئے۔ صبح جب آنکھ کھلی تو بچے غائب تھے پریشان ہو کر باہر دیکھا تو وہ باغ میں لگے تازہ پھلوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ مناپن میں اس وقت چیری کا موسم تھا،سب درخت چیری سے لدے ہوئے تھے بچوں کو کوئی روک ٹوک نہ تھی انہوں نے جی بھر کر چیری کھائی یہاں کے لوگوں کا اخلاق بھی بہت اچھا تھا۔ماسٹر ذاکر بھی گلگت کالج میں لیکچرر ہیں اور ڈبل ایم اے کیا ہے۔ان کے مزاج میں سادگی اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ان کے گیسٹ ہاؤس میں ہمیں بالکل گھر سا ماحول ملا۔مناپن میں ہر چیزمیں ایک سکون ایک ترنم تھا۔ ماحول فطرت کے عین قریب تھا۔ تھوڑا باہر نکل کردیکھا تو چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں بغیر سرپرست کے سکول جا رہے تھے انہوں نے ہمیں دیکھ کر سلام کیا
بچوں کے چہرے سرخ سفید تھے کوئی خوبانی لگی تو کوئی چیری۔
اورتو اور گاؤں کے ماحول میں رہ کر ہمارے بچوں کے چہروں پر بھی رونق آگئی تھی۔ بچے یہاں بہت مطمئن تھے یہاں آکراحساس ہوا کہ فطرت میں کتنا سکون ہے۔یہ لوگ بناوٹ سے پاک سادہ زندگی گزارتے ہیں اور ان کے لہجوں،رویوں میں کوئی منافقت نہیں تھی۔ گاؤں میں ہربچہ سکول جاتا ہے پرائیویٹ اورکمیونٹی دونوں طرح کے سکو ل ہیں اور کوئی استاد ایم اے ایم ایس سی سے کم نہیں تھا۔بچوں سے بھی بات چیت کی تو ان میں وطن اور ثقافت سے محبت کا جذبہ عیاں تھا۔ ناشتے میں گائے کا دودھ دوپہر میں پھل صاف ستھرا پانی اور سادہ دال روٹی اور اپنی اگائی ہوئی سبزی کھاتے ہیں اور تو اورخوردنی تیل بھی خود بناتے ہیں اخروٹ اور خوبانی کا۔یہاں پر کوئی بندہ بیمار نظر نہیں آرہا تھا اور سو سو سال کے بوڑھے بھی کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر آرہے تھے مگر کسی کا سانس پھولا نہ ٹانگوں نے جواب دیا جبکہ ہم ہر دس منٹ بعد چل کر پانچ منٹ کو سستا لیتے۔ مناپن کی خوبصورت صبح تازہ آب ہوا خوشگوار موسم دلفریب
نظارے خدا کی قدرت یاد دلا رہے تھی۔ تازہ اور ٹھنڈی تازہ ہوا گویا زمین پر جنت کا سماں۔ یہ دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے اللہ کی بنائی ہوئی یہ عارضی خوبصورتی انسان کو اپنے بس میں کر لیتی ہے تواللہ کی بنائی ہوئی جنت کتنی خوبصورت ہو گی؟
جب نظر اٹھاؤ توکبھی چیری کے خوبصورت باغ اپنی طرف کھینچ لیتے کبھی برف کا آنچل اوڑھے پہاڑ اپنا جلوہ دکھاتے اور پھر بادلوں کی پہاڑوں اور دھوپ کے ساتھ آنکھ مچولی۔ کوئی ایک منظر بھی ایسا نہ تھا جسے نظر انداز کیاجاسکے۔ایک دم نیچے نظر گئی توصدیوں سے بہتی آبشارشور مچاتی اپنے ہونے کا احساس جگارہی تھی،مناپن کہنے کوایک چھوٹاسا گاؤں پرہرزمین پر سیاحوں کی جنت ہے۔ اس گاوں سے راکاپوشی اور دیران پیک کے بیس کیمپ کو راستہ جاتا ہے اس راستہ پردوسوسال پرانی آٹے کی چکی دیکھنے کو ملی جو پانی سے چلتی تھی،اس پر کمال یہ کہ مناپن کے قدرتی گلیشئر سے ایک ڈیم بنا یا گیا ہے جو اس گاؤں کے لیے بجلی پیدا کرتا ہے۔ اور یہ لوگ خوراک اور تعلیم کے بعد بجلی کے معاملے میں بھی خود کفیل ہیں۔
میں یہ سوچنے پر مجبور تھی کہ ہم کتنی مصنوعی اور غیر فطری زندگی گزار رہے ہیں۔ زہریلی کھاد والی سبزیاں، پانی اور کیمیکل ملا دودھ، ناقص خوردنی تیل،سپرے والے فروٹ،بیماری والا چکن مصنوعی اے سی یا کولر کی ٹھنڈک،دواؤں کے سہارے نیند، غیر معیاری تعلیم،انٹرنیٹ اور موبائیل کی تربیت یافتہ پیزا برگر شوارما کی رسیا ممی ڈیڈی نسل اور پھر مصنوعی اور خود غرض رشتے اور تعلقات۔ فطرت سے دور ہو کر ہم نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا ہے!
مناپن میں ابھی بہت کچھ دیکھنے کو باقی تھا،جس میں اسرار صاحب کا تاریخی ورثہ سے مزین ہوٹل اوشو تھونگ اور راکا پوشی ٹریک کی سیر شامل تھی لیکن آج ہمارا ارادہ چائینہ بارڈر دیکھنے کا تھا اسلیے ہم خنجراب کی طرف روانہ ہوگئے جو یہاں سے چارگھنٹے کی مسافت پر تھا۔
http://e.naibaat.pk/Magazine/Sunday/18-08-2019/index.html(جاری ہے)
نظارے خدا کی قدرت یاد دلا رہے تھی۔ تازہ اور ٹھنڈی تازہ ہوا گویا زمین پر جنت کا سماں۔ یہ دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے اللہ کی بنائی ہوئی یہ عارضی خوبصورتی انسان کو اپنے بس میں کر لیتی ہے تواللہ کی بنائی ہوئی جنت کتنی خوبصورت ہو گی؟
جب نظر اٹھاؤ توکبھی چیری کے خوبصورت باغ اپنی طرف کھینچ لیتے کبھی برف کا آنچل اوڑھے پہاڑ اپنا جلوہ دکھاتے اور پھر بادلوں کی پہاڑوں اور دھوپ کے ساتھ آنکھ مچولی۔ کوئی ایک منظر بھی ایسا نہ تھا جسے نظر انداز کیاجاسکے۔ایک دم نیچے نظر گئی توصدیوں سے بہتی آبشارشور مچاتی اپنے ہونے کا احساس جگارہی تھی،مناپن کہنے کوایک چھوٹاسا گاؤں پرہرزمین پر سیاحوں کی جنت ہے۔ اس گاوں سے راکاپوشی اور دیران پیک کے بیس کیمپ کو راستہ جاتا ہے اس راستہ پردوسوسال پرانی آٹے کی چکی دیکھنے کو ملی جو پانی سے چلتی تھی،اس پر کمال یہ کہ مناپن کے قدرتی گلیشئر سے ایک ڈیم بنا یا گیا ہے جو اس گاؤں کے لیے بجلی پیدا کرتا ہے۔ اور یہ لوگ خوراک اور تعلیم کے بعد بجلی کے معاملے میں بھی خود کفیل ہیں۔
میں یہ سوچنے پر مجبور تھی کہ ہم کتنی مصنوعی اور غیر فطری زندگی گزار رہے ہیں۔ زہریلی کھاد والی سبزیاں، پانی اور کیمیکل ملا دودھ، ناقص خوردنی تیل،سپرے والے فروٹ،بیماری والا چکن مصنوعی اے سی یا کولر کی ٹھنڈک،دواؤں کے سہارے نیند، غیر معیاری تعلیم،انٹرنیٹ اور موبائیل کی تربیت یافتہ پیزا برگر شوارما کی رسیا ممی ڈیڈی نسل اور پھر مصنوعی اور خود غرض رشتے اور تعلقات۔ فطرت سے دور ہو کر ہم نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا ہے!
مناپن میں ابھی بہت کچھ دیکھنے کو باقی تھا،جس میں اسرار صاحب کا تاریخی ورثہ سے مزین ہوٹل اوشو تھونگ اور راکا پوشی ٹریک کی سیر شامل تھی لیکن آج ہمارا ارادہ چائینہ بارڈر دیکھنے کا تھا اسلیے ہم خنجراب کی طرف روانہ ہوگئے جو یہاں سے چارگھنٹے کی مسافت پر تھا۔
http://e.naibaat.pk/Magazine/Sunday/18-08-2019/index.html(جاری ہے)
Comments
Post a Comment