Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2019

تلاش اس کو نہ کربتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں (قسط نمبر۳ )

جھیل عطاء آباد کے حیرت کدے سے نکلے تو اگلا پڑائو ہنزہ تھا مگر یہاں موسم بہت گرم تھا، سورج کی تمازت سے دل گھبرانے لگا مگر بچوں نے ہنزہ مین بلتت فورٹ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔ یہاں بھی فی بندہ پانچ سو روپے ٹکٹ تھا۔ قلعہ کے اندر 1000 سال پرانی ثقافت کو قریب سے دیکھا، ہنزہ کے بادشاہوں کو دیکھا جن کی اب بادشاہی کہیں نظر نہیں آ رہی تھی ہرطرف میرے اللہ کی بادشاہی ہی قائم تھی ۔ یہاں لوگوں کا اخلاق اچھا ہے ، کم کمیونٹی ہونے کی وجہ سے یہاں جرائم ریٹ صفر ہے ، آنے والے سیاحوں کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن یہاں مہنگائی کے اثرات کچھ زیادہ ہی نظر آئے۔ یہاں حلال گوشت نہیں ملتا۔ مقامی لوگ اپنے عقیدے کے مطابق جانوروں کا گوشت کاٹتے ہیں اس لیے ہم نے سنیکس پر اکتفا کیا اور مناپن کی جانب چل دئیے۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ ہنزہ میں سب سے مشہورعلاقہ کریم آباد ہے جس کے چاروں طرف اونچی چوٹیاں   راکا پوشی، دیران پیک، گولڈن پیک، التر پیک، لیڈی فنگر پیک ہیں۔ قریب ہی ایک اورالتت قلعہ 900 سال پرانا ہے۔۔ ہنزہ میں سب سے مشہور ایگل نیسٹ ہے جہاں جیپ کے ذریعے جایا جاسکتاہے جبکہ مناپن نگر راکا پوشی کے   دامن میں واقع ...

جو اپنے لہو سے مہکائی،جاگیر کا سودا مت کرنا

اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِاہتمام یوم آزادی کی مناسبت اورکشمیرکی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے ایک سیمیناراورمشاعرے کا انعقاد کیا گیا ،جس میں شرکت کی دعوت ملی توانکارنہ کرسکی کیونکہ یہ ایک ایسا فورم ہے جس کے ذریعے ادیب شاعراوردانشورایک انتہائی اہم نوعیت کے   مسئلے پر اپنی سوچ پوری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں ۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹرسعادت سعید نے کی جو اردو ادب کے نامور ادیب، محقق ، نقاد   اورگورنمنٹ یونیورسٹی لاہورکے شعبہ اردور کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور ابھی بھی اس سے منسلک ہیں جبکہ اس محفل کے مہمان خصوصی سابق آڈیٹر جنرل پاکستان اور گراں قدر شاعر کرامت بخاری تھے۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے اس موقع پرسیمینار سے خطاب کرتے ہوئےبرصغیراورپاک بھارت تاریخ کے کئی اہم پہلو اجاگرکیے جن سے ہماری نئی نسل بے بہرہ ہے۔اگر یہ سب باتیں ان کو معلوم ہوجائیں تو شائد ان کو اندازہ ہوسکے کہ ہندو بنیا صدیوں سے مسلمانوں کی نسل کشی اور مذموم سازشیں کرتا آرہا  ہے اور اس مقصد کے لیے کبھی انگریزوں کبھی سکھوں اور پھرمسلمانوں کو ہی اپنا آلہ کار بناتا رہا ہے۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے انتہائی جذبات...

مناپن نگر سے خنجراب نیشنل پارک تک کا یادگارسفرنامہ

مناپن نگر میں صبح کا موسم بہت سہانا تھا ہلکی ہلکی بارش ، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور بادلوں کی اوٹ سے برف کی دوشالا لیے راکا پوشی اور اس کے عین نیچے بہتی آبشار کی مدھر آواز مل کر ایک عجب مدہوشی کا سماں پیدا کر رہے تھے ۔ہم نے چند مناظر کیمرے میں قید کیے لیکن خنجراب (چائنہ بارڈر) کے لیے نکلنا تھا جہاں پہنچنے کے لیے کم از کم چار گھنٹے درکار تھے۔اس لیے تقریباً دس بجے ہم نے سفر کا آغاز کیا ۔ناشتہ ہم نے معمول کے مطابق بہت ہلکا کیا اور ساتھ گرم پانی کا تھرمس کافی چائے کا سامان اور کھانے پینے کا سامان رکھ لیا تھا کیونکہ ہمیں اندازہ تھا کہ خنجراب میں ہمیں ایسی کوئی سہولت میسر نہیں ہوگی۔ مناپن سے آدھے گھنٹے بعد ہنزہ پہنچے وہاں کا موسم مناپن کی نسبت گرم تھا۔وہاں رکنے کے بجائے ہم آدھے گھنٹے بعد مختلف سرنگوں کے ذریعے عطا آباد جھیل سے گزرے جو بلاشبہ پاکستانی اور چائینیز انجینئیرز کا ایک عظیم کارنامہ ہے ایک سرنگ تو اتنی لمبی تھی کہ دس منٹ تک گاڑی ڈرائیو کرتے رہے مگر وہ ختم ہونے کا نام نہ لے رہی تھی ،شسکت کے مقام پر عطا آباد جھیل پر چند منٹ رکے تصاویر لیں کیونکہ ہمارا ارادہ تھا کہ واپسی پرعطا آبا...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ہماری مائوں کو بھی حضرت ہاجرہؑ جیسی تڑپ کی ضرورت ہے

ذوالحجہ کا عظیم الشان مہینہ، حج اورعید الاضحٰی کی مبارک ساعتیں لیے آچکا ہے،یہ ماہ مقدس مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں ایک طرف تو دنیا بھر سے ہررنگ و نسل کے لاکھوں مسلمان حج کا فریضہ انجام دینے خانہ کعبہ پہنچے ہوتے ہیں۔جو اسلام کی اجتماعیت کا عکاس اوراتحاد بین المسلمین کا ذریعہ ہے۔ دوسری طرف اس موقع پر دنیا بھر کے مسلمان سنت ابراہیمی پرعمل پیرا ہوتے ہوئے اللہ کی راہ میں قربانی کرتے ہیں گویا اس ماہ مقدس میں اسلام اپنی پوری شان سے جلوہ گر ہوتا ہے۔ پر منظرایثار و قربانی،اتحاد، احساس اوراللہ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کوعیاں کرتا ہے۔میں یہ سوچ رہی تھی کہ حـضرت ابراھیم علیہ السلام نے تو اللہ کی رضا کے لیے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دی تھی مگر ہم اللہ کی خاطر اپنی انا بھی قربان نہیں کرسکتے جو ایک پرامن معاشرہ تعمیر کرنے کے لیے لازمی عنصر ہے رہی جانوروں کی   قربانی جو خالص اللہ کی رضا مانگتی ہے اس میں صرف مقابلہ اور دکھاوا آگیا ہے یا پھر اس عمل کو بھی درجہ بدرجہ مشکل اور استطاعت سے دور کیا جا رہا ہے۔ موضوع بہت وسیع ہے مگر آج ہم ایک عظیم ماں حضرت ہاجرہ علیہ السلام ...

کشمیر بنے گا پاکستان ۔۔۔ مٹ جائے گا یہ طوفان

کشمیری عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں اورپاکستانی عوام کے دل بھی ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں یہ حقیققت ڈھکی چھپی نہیں اوریہی محبت ہمارے ازلی دشمن بھارت کو انتہائی ناگوار گزرتی ہے اور قیام پاکستان سے آج تک پاک بھارت تنازعے کی اہم ترین وجہ بھی یہی ہے۔اس بارعید الاضحٰی   اورچودہ اگست پردل بہت اداس تھا بچوں کو اپنے بکروں کی جدائی کا غم تھا اور ہمیں کشمیرمیں بھارت کے قبضے کا اور اس کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا۔ لیکن پاکستانی غیورعوام نے اس بار یوم آزادی پرپہلی بارپاکستانی اورکشمیری پرچم ایک ساتھ لہرائے اوراس یوم آزادی کو کشمیر کے ساتھ منسوب کر کے یہ ثابت کردیا کہ کشمیر واقعی پاکستان کی شہہ رگ ہے اور انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔کشمیر کی آزادی کی جنگ میں جوخون بہا وہ یوں ہی رائیگاں نہیں جا سکتا ۔اللہ بہت بے نیاز ہے وہ دلوں کا بھید جانتا ہے دشمن جتنی مرضی چالیں چلتا رہے لیکن میرے اللہ کا ایک بس ایک کن ہی   فیصلہ کن ہوتا ہے۔ کہنے والے تو بہت کچھ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کا سودا ہوگیا مگر دل ہے کہ مانتا نہیں! جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ گزشتہ ستر دہائیوں سے حل نہیں ہو پار...

انسان تو انسان کوے بھی جنک فوڈ کے عادی نکلے!

آج میرے کالم کا عنوان شاید آپ کو تھوڑا عجیب لگے گا لیکن یقین مانیں یہی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ میں نے دو روزقبل ریس کورس پارک میں کیا۔ ہوا کچھ یوں کہ آسمان پر کالے بادل تھے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اورحبس کا نام و نشان نہیں تھا بچوں نے پارک جانے کی فرمائش کرڈالی۔ ہم نے بھی فوراً ہی آم ساتھ رکھ لیے۔سوچا کیوں نہ کمرے کی گھٹن سے چھٹکارا حاصل کریں اور تازہ ہوا میں مینگو پارٹی (دعوت آم ) کی جائے۔ گاڑی میں سامان رکھا اور چل دئیے۔موسم خلاف توقع کچھ زیادہ ہی خوشگوار تھا لہٰذا ہم نے ایک مناسب جگہ دیکھ کر دری بچھائی اورمینگو پارٹی میں مصروف ہوگئے۔ سامنے دیکھا تو ایک کوا بہت غصے سے ہمیں دیکھ رہا تھا ،سوچا کیوں نہ اس کو بھی شامل دعوت کرلیں۔ آم کے چند ٹکڑے اس کی طرف پھینکے تو وہ لپکا اورآم لے کردرخت پرجا بیٹھا تھوڑی دیرچونچیں ماریں پھراسکو وہیں چھوڑ کراڑ گیا۔ مجال ہے کسی اور کوّے نے بھی آم کی طرف دیکھا ہو۔ مجھ سے آم کی یہ بے حرمتی برداشت نہ ہوئی۔ لیکن وجہ سمجھ نہ آئی کہ آخر کوّے کو  آم مزے کا کیوں نہیں لگ رہا تھا؟ کچھ ہی دیر بعد دیکھا تو ہمارے ساتھ ہی ایک فیلمی بھی پکنک ...