Skip to main content

کشمیر بنے گا پاکستان ۔۔۔ مٹ جائے گا یہ طوفان

کشمیری عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں اورپاکستانی عوام کے دل بھی ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں یہ حقیققت ڈھکی چھپی نہیں اوریہی محبت ہمارے ازلی دشمن بھارت کو انتہائی ناگوار گزرتی ہے اور قیام پاکستان سے آج تک پاک بھارت تنازعے کی اہم ترین وجہ بھی یہی ہے۔اس بارعید الاضحٰی  اورچودہ اگست پردل بہت اداس تھا بچوں کو اپنے بکروں کی جدائی کا غم تھا اور ہمیں کشمیرمیں بھارت کے قبضے کا اور اس کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا۔ لیکن پاکستانی غیورعوام نے اس بار یوم آزادی پرپہلی بارپاکستانی اورکشمیری پرچم ایک ساتھ لہرائے اوراس یوم آزادی کو کشمیر کے ساتھ منسوب کر کے یہ ثابت کردیا کہ کشمیر واقعی پاکستان کی شہہ رگ ہے اور انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔کشمیر کی آزادی کی جنگ میں جوخون بہا وہ یوں ہی رائیگاں نہیں جا سکتا ۔اللہ بہت بے نیاز ہے وہ دلوں کا بھید جانتا ہے دشمن جتنی مرضی چالیں چلتا رہے لیکن میرے اللہ کا ایک بس ایک کن ہی  فیصلہ کن ہوتا ہے۔ کہنے والے تو بہت کچھ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر کا سودا ہوگیا مگر دل ہے کہ مانتا نہیں!
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ یہ مسئلہ گزشتہ ستر دہائیوں سے حل نہیں ہو پارہا اور کشمیری عوام کی دلی خواہش کو نظر انداز کرکے بھارت مسلسل اس کے اندرونی معاملات میں نہ صرف دخل انداز ہوتا آرہا ہے بلکہ اس کے معصوم عوام اس کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہتے ہیں جو کہ ایک معمول کی بات ہے مگر افسوس ہے ان تمام نام نہاد عالمی حقوق کی تنظیمیوں پرکہ جنہیں بھارت کی یہ بد معاشی نظر نہیں آتی بلکہ وہ اس معاملے میں چپ سادھے بیٹھے ہیں۔پاکستان کی جانب سے بھی تنازعے کے حل کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے بلکہ ہرحکومت صرف پالیسی بیان ہی جاری کرتی رہی ہے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ لیکن پانچ اگست کی صبح بھارت کا یہ اعلان کہ وہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کر کے اسے دو ٹکڑے کر کے بھارت کا حصہ بنا رہا ہے۔ کشمیری عوام اور پاکستانی عوام دونوں کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھا۔ کیونکہ ابھی چند روز پہلے ہی تو وزیراعظم عمران خان کی امریکی صدر سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے اس تنازعے کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی ۔ تو کیا چونکہ ٹرمپ کو پتہ تھا کہ مودی کیا کرنے جا رہا  اور اس نے ثالثی کی پیشکش بھارتی موقف کوسامنے رکھ کر کی تھی۔ تو پھر ہم کس بات کی خوشیاں منا رہے تھے؟ کیا صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کا مطلب یہ تھا کہ کشمیر بھارت کا حصہ بن جائے اور پاکستان خاموش رہے ؟




کیا پاکستان امریکی چال سمجھ نہ سکا یا سمجھنا نہیں چاہ رہا تھا؟
کیونکہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد امریکہ نے تو اسے بھارت کا اندرونی معاملہ  کہہ کر جان چھڑا لی باقی ممالک نے بھی کوئی خاص رد عمل نہیں دیا سوائے ترکی اور ایران کے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی بھی خاموش یہاں تک کہ خطبہ حج میں بھی مظلوم کشمیریوں سمیت ظلم کا شکارمسلمانوں کے لیے دو جملے بھی نہ کہے گئے۔
اس کڑے وقت میں جب کشمیری پاکستان کی جانب نظریں لگائے بیٹھے ہیں اور تمام حریت رہنما یا تو جیل میں ہیں یا نظر بند ۔عوام پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے۔ توایسے میں پاکستانی پارلیمنٹ کی کارروائی ان کی لیے مزید مایوسی کا سبب بنی ہوگی۔ ان کو پاکستانی پارلیمنٹ سے مشترکہ قومی بیانیے کی ضرورت تھی لیکن پاکستانی سیاستدانوں نے مشترکہ اجلاس کوسیاسی مخالفت کی نذر کر دیا۔ تاریخ کےاس دوراہے پرجب کچھ کر گزرنے کا موقع تھا ہم ایک دوسرے کوآئینہ دکھا رہے تھےاورایسا کرنے والوں کوان کا ضمیر ہمیشہ ملامت کرتا رہے گا۔
یوم آزادی ہر استاد جی پوری گلی سجایا کرتے تھے اس بار انہوں نے خصوصی طور پر کشمیری پرچم بھی لگوائے اور روز ہر نماز میں مسجد میں کشمیریوں کے لیے خصوصی دعا بھی کرواتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ سب کو ایسا لگتا ہے جیسے کشمیر کا سودا ہوگیا اور وہ ہمارے ہاتھ سے گیا تو پہلے تو مسکرائے پھر آنکھ سے دو آنسو ٹپکے ان کی آواز رندھ گئی بولے بچہ جی!
کشمیر اب بھی ہمارا ہے، سارے کا سارا ہے۔۔۔
وہ وقت دور نہیں جب بھارت دنیا بھر میں رسوا ہوگا اور
کشمیری عوام سر اٹھا کر جئیں گے میرے اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے!
بس تھوڑی ہمت کرنی ہوگی ۔۔کشمیر سے محبت کا جو پودا لگا ہے نہ بس اس کو اپنے سچے جذبوں کو پانی دیتے رہنا یہ ضرور درخت بنے گا اس کو کبھی مرجھانے نہ دینا ۔
اس کے بعد وہ بچوں کے ساتھ مل کر نعرے لگانے لگے
کشمیر بنے گا پاکستان
مٹ جائے گا یہ طوفان
ہے رب سوہنا مہربان
دکھلائے گا اپنی شان
مٹ جائے گا ہندوستان
کشمیر بنے گا پاکستان

یہ سن کر مجھے حوصلہ ہوا کہ واقعی کشمیر کے لیے ہمارے جذبے ترو تازہ ہیں اور یہ معاملہ اتنا آسان نہیں جتنا بھارت سمجھ رہا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت اپنی جگہ کہ بھارت  کشمیریوں کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی حد جا سکتا ہے۔ کشمیری بےبس ہیں، تڑپ رہے ہیں، وادی میں بارہ روز سے کرفیو ہے ،ادویات اور روز مرہ کا ساز و سامان ختم ہو چکا ہے ۔بچے بھوک سے بلک رہے ہیں مگر مائوں کی سانسیں اب بھی پاکستان پکار رہی ہیں۔ اتنی تعداد میں بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود نہتی کشمیری عوام روزسڑکوں پپر احتجاج کرتی نظر آتی ہے کہ شائد کوئی مسیحا ان کی مدد کو آنکلے۔ کشمیر کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں اپنی عزتوں کی رکھوالی کے لیے پاکستان کی مدد کی منتظر ہیں۔ کشمیر کے نوجوان آزادی کے لیے تڑپ رہے ہیں۔کشمیر کے بوڑھے آزادی کا سورج دیکھنے کے لیے اپنی سانسیں سنبھال کر بیٹھے ہیں۔ کیا ہم ان سب کی امیدوں کے دئیے یوں ہی بجھنے دیں گے۔ یاد رکھیں پاکستان کو کشمیر سے کیا اپنا وعدہ نبھانا ہو گا۔ یہ جنگ اب کشمیر کی آخری جنگ ہو گی ہر محاذ پراس کے بعد وہ پاکستان کی شہہ رگ ہے اور بنا رہے گا۔ ہمیں اس معاملے  پر کوئی لچک قبول نہیں کرنی چاہیے اور حکومت پر زور دینا چاہیے کہ انہوں نے تاریخ میں ٹیپو سلطان بن کر زندہ رہنا ہے تو یہی وقت ہے دو ٹوک موقف اپنانے کا ۔اب وہ وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں کی حمایت کے پارلیمنٹ کے اندر اور باہرمشترکہ موقف اپنایا جائے۔ ہمیں ایسی کوششیں کرنی ہیں کہ بھارت کو کشمیر سے نکلنا پڑے اور کشمیریوں کو آزادی ملے۔ہم سات دہائیوں سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس کڑے وقت میں ان کو اکیلا کیوں چھوڑ دیں۔آئیے مل کر کشمیر کے لیے آواز اٹھائیں تاکہ روز محشر شرمندہ نہ ہونا پڑے۔


Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...