کل بازار جانا ہوا تو راستے میں کئی عجیب چیزیں دیکھنے کو ملیں، کہیں اکیلی جاتی لڑکیوں کے ساتھ لڑکے مستی کرتے نظر آئے تو کہیں بوڑھے سبزی فروش سے ایک عورت بھائو تائو پرتلخ کلامی کررہی تھی۔ تھوڑا آگے دیکھا تو بائیک والا اور گاڑی والا آپس میں دست و گریباں تھے۔ کپڑوں کی دکان میں داخل ہوئی تو ایک بیٹی اپنی ماں سے نہایت بدتمیزی سے بات کرتی نظر آئی باہر نکلی تو شورمچا تھا ایک چورکسی لڑکی کا پرس لے کر بھاگ گیا اوروہ چِلاّ رہی تھی ۔اس ایک گھنٹے میں دل اتنا گھبرایا کہ کچھ خریدے بغیر ہی واپس آگئی۔آتے ہوئے سوچا استاد جی سے ملاقات ہوجائے۔ وہ اپنے صحن میں مرغیوں کو دانہ ڈالتے نظر آئے۔مجھے بڑی حیرت تھی جب بھی دیکھو یا تو نماز قرآن یا تدریس یا کوئی اور مشغلہ کبھی ٹی وی اور موبائیل کو ان کے قریب نہیں دیکھا ۔ استاد جی کو سلام کہنے کے بعد ادھر ہی چارپائی پر بیٹھ گئی اور بے ساختہ پوچھا۔ استاد جی ایک بات سمجھ نہیں آتی زمانہ کہاں سے کہاں چلا گیا ہے آج کل تو کوئی بھی انٹرنیٹ ٹی وی اور موبائیل کے بغیر نہیں رہ سکتا پھر پرانے وقتوں میں لوگ ان چیزوں کے بغیر کیسے رہ لیتے تھے؟ استاد...