Skip to main content

Posts

Showing posts from May, 2019

اخلاقی اقدار کا جنازہ۔۔۔ کون بھگتے گا خمیازہ

کل بازار جانا ہوا تو راستے میں کئی عجیب چیزیں دیکھنے کو ملیں، کہیں اکیلی جاتی لڑکیوں کے ساتھ لڑکے مستی کرتے نظر آئے تو کہیں بوڑھے سبزی فروش سے ایک عورت بھائو تائو پرتلخ کلامی کررہی تھی۔ تھوڑا آگے دیکھا تو بائیک والا اور گاڑی والا آپس میں دست و گریباں تھے۔  کپڑوں کی دکان میں داخل ہوئی تو ایک بیٹی اپنی ماں سے نہایت بدتمیزی سے بات کرتی نظر آئی باہر نکلی تو شورمچا تھا ایک چورکسی لڑکی کا پرس لے کر بھاگ گیا اوروہ چِلاّ رہی تھی ۔اس ایک گھنٹے میں دل اتنا گھبرایا کہ کچھ خریدے بغیر ہی واپس آگئی۔آتے ہوئے سوچا استاد جی سے ملاقات ہوجائے۔ وہ اپنے صحن میں مرغیوں کو دانہ ڈالتے نظر آئے۔مجھے بڑی حیرت تھی جب بھی دیکھو یا تو نماز قرآن یا تدریس یا کوئی اور مشغلہ کبھی ٹی وی اور موبائیل کو ان کے قریب نہیں دیکھا ۔ استاد جی کو سلام کہنے کے بعد ادھر  ہی چارپائی پر بیٹھ گئی اور بے ساختہ پوچھا۔ استاد جی ایک بات سمجھ نہیں آتی زمانہ کہاں سے کہاں چلا گیا ہے آج کل تو کوئی بھی انٹرنیٹ ٹی وی اور موبائیل کے بغیر نہیں رہ سکتا پھر پرانے وقتوں میں لوگ ان چیزوں کے بغیر کیسے رہ لیتے تھے؟ استاد...

عبادت میں شامل اگر ہو نمائش ۔۔۔ تو رب سے کس بات کی ستائش

رمضان المبارک کی پرنورساعتوں کا آغاز ہوتے ہی ظاہراورباطن کا سارا ماحول ایک دم تبدیل ہوجاتا ہے ہربندے کی ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عبادت اورسخاوت کرلے ،مگرساتھ ہی ساتھ یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے عزیزو اقارب کو رمضان میں بلا کر بہترین افطاری کرائی جائے۔یہی خواہش ذہن میں تھی تو سوچا کیوں کہ اس بار استاد جی کو بھی مدعو کر لوں ۔انہیں دعوت دینے کی غرض سے ملاقات کے لیے جانا ہوا تو وہ قرآن پڑھنے میں مصروف تھے جب وہ فارغ ہوئے تو مسکرا کر میری جانب دیکھا   گویا میرے دل کی بات جان گئے ہوں۔میں نے زیادہ تمہید باندھے بغیر بس اتنا ہی کہا کہ استاد جی میرا جی چاہتا ہے کہ جمعۃ المبارک کا روزہ آپ میرے گھر پر افطار کریں اور بھی بہت سے لوگ مدعو ہیں، مجھے بہت خو شی ہوگی۔میری بات سن کر استاد جی بولے بچہ جی ! ‘توُ آگے نکل گئی مجھ سے ، بس سادگی اختیار کرنا ’ استاد جی افطار پر تشریف لائے میں نے انواع و اقسام کے پکوان تیار کر رکھے تھے ۔استاد جی نے دستر خوان کی طرف دیکھا اور ایک لمبی سانس لے کر بولے ماشا اللہ ،اللہ تعالیٰ قبول کرے اور رزق میں برکت دے ۔استاد جی نے افطار میں صرف سادہ پ...

اپنے من میں ڈوب کر تلاش کر اس کی جس نے یہ عزت بنائی

موجودہ ملکی حالات، روزبروزبڑھتی مہنگائی اوربحیثت قوم دنیا میں اپنی نا قدری جیسے کئی عوامل کے باعث دل بہت اداس تھا اسی کیفیت میں بوجھل قدموں کے ساتھ استاد جی کی طرف جانا ہوا تو وہ سادہ روٹی پرشکراوردیسی گھی ڈال کر کھا رہے تھے میں نے کہا استاد جی کیا بات ہے آج توموجیں ہو رہی ہیں۔استاد جی نے ایک نظر مجھے دیکھا اورسر جھکا لیا لیکن کچھ بولے نہیں۔ میں نے دوبارہ استاد جی کو پکارا انہوں نے سراٹھایا توان کی پلکوں کے نیچے نمی تیر رہی تھی۔ وہ بھاری آواز میں بولے   ‘بچہ جی ، ایک میرے رب کی ذات  ہے جوعزت کے ساتھ روٹی دیتی ہے باقی تو سب رسوائی رسوائی ہے’۔   میں نے حیرت سے پوچھا استاد جی روٹی تو سب کھاتےہیں اس میں عزت ذلت والی کیا بات ہے؟ کہنے لگے عزت والا رزق حلال ہے جواللہ تعالی اپنے بندوں کو دیتا ہے اور اس کو کھانے والا اسے ذہنی سکون اورعزت سے کھاتا ہے‘ تو بس اس رزق کی تلاش کر’۔ بچہ جی وہ بھی کوئی روٹی ہوئی   جسے کھانے کے بدلے بندوں کا شکر ادا کرنا پڑے یا جیل جانے کا ڈر ہو یا پھرایروں غیروں کی خوش آمد درکار ہو۔   اقبال نے کیا خوب کہا ہے؛ اے طائرِلاہُوتی اُس ر...

رمضان کا مہینہ روح کی آکسیجن کا خزینہ

جیسے جیسے رمضان کی آمد قریب ہورہی ہے،دل کی حالت عجیب ہورہی ہے،ایسا لگتا ہےکہ وقت کم ہےاور بہت سے کام کرنا باقی ہیں ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا رمضان کی تیاری کیسےشروع کریں؟ استاد جی سے رہنمائی لینےکا ارادہ کیا تووہ نہرکنارے بیٹھےملے۔ مجھےدیکھ کرمسکرانے لگے گویا میری سوالیہ نظریں بھانپ گئے ہوں۔ میرے کچھ پوچھنےسے پہلے نہرکی طرف اشارہ کرکے بولےاس مچھلی کو دیکھو تھوڑی تھوڑی دیربعد اوپرآکرآکسیجن لیتی ہے پھراپنی دنیا میں چلی جاتی ہے کیا اس کواپنی دنیا میں آکسیجن نہیں ملتی؟ شائد یہ اپنے رب کا شکرادا کرنے پانی کی سطح پرآتی ہے۔ بچہ جی ! ہمیں بھی یہ آکسیجن حاصل کرنے کا موقع دن میں پانچ بارنمازکی صورت میں ملتا ہے۔ لیکن ہم دنیا کی رنگینیوں میں اتنا مگن ہیں کہ اس طرف نہیں جاتےاوراپنی روح کوآکسیجن سے محروم رکھتے ہیں۔اس کمی کوپورا کرنے کے لیےمیرے رب نے رمضان کا تحفہ دیا ہے جس میں سب سے پہلے توشیطان کوقید کردیا جاتا ہے پھراللہ اپنی رحمتوں کی سیل لگا دیتا ہے۔وہ اپنے بندوں کی نیکی اورعبادات کے بدلے آکسیجن کی مقدارمیں غیرمعمولی اضافہ کردیتا ہے۔ ایک مہینہ کے لگاتار روزے اورعبادت انسان کو سفید چادرکی ط...

ستاروں کی محفل ۔۔۔۔۔۔۔ دور ہے منزل

زندگی میں ہرکسی کی ترجیحات اورخوش ہونے کا معیارالگ ہوتا ہے کوئی ایک شمع جلا کر تنہا خوشیمحسوس کرتا ہے توکوئی ستاروں کی محفل سجا کر۔ کوئی دولت کو اپنا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتا ہے اور کوئی شہرت یا عہدے کو! لیکن درحقیقت مخلص اچھے صاف نیت کے لوگ اگر آپ کو کہیں مل جائیں تو وہ یقیناً آپ کی  زندگی کا بہترین سرمایہ ہوتا ہے۔اسی سرمائے کی جستجو میں 29 مارچ 2019 کو پرنٹ میڈیا  اور الیکٹرانک میڈیا کے منتخب ستاروں کو اپنے گھر مدعو کیا جن میں سے کچھ میرے سینئرزصحافی اور کچھ ہم عصر تھے۔ اس دعوت کا سب سے بڑا محرک سینئر خاتون صحافی رابعہ نور کو ملنے والا جمال خشوگی ایوارڈ تھا جو اس کی بے باک صحافت کی بنا پر پورے ایشیا میں صرف رابعہ کو اور پوری دنیا میں صرف پانچ لوگوں کو ملا ہے۔ چونکہ رابعہ اورمیں سابق کولیگ تھے تومیں نے سو چا اس کی بھرپور پذیدائی کی جانی چاہیے ۔ اسی دوران میرے شوہر نامدارمیاں شاہد محمود صاحب کے کالج زمانے کے دوست اورفرانس پیرس میں پاکستان پریس کلب کے صدرمیاں امجد بھی پیرس سے تشریف لائے ہوئے تھے تو سوچا ان سے بھی ملاقات ہوجائے اوروہ بھی چاہتے تھے کہ سب سینئر صحافیوں س...

ماں نے بنا تکبر کے کئی تکبر والوں کو گود لے لیا ہے

نمازعصر کے بعد استاد جی کے ساتھ   چہل قدمی جاری تھی ۔   کہ ایک قبرستان کے سامنے سے گزر ہوا استاد جی نے مڑکرمیری طرف دیکھا ، سرخ اور پرنم آ نکھیں لیے بے ساختہ بولے (ماں نے بغیر تکبر کیے کئی تکبرکرنے والوں کو گود لے لیا ہے) بات گہری تھی اورسمجھ سے باہر تھی ! ماں اورتکبر؟ یہ کون سی ماں ہے!   جب کچھ پلے نہ پڑا تواستاد جی سے پوچھا یہ کون سی ماں کا ذکر کررہے ہیں استاد جی نے لمبی سانس لی اور گھبیر آواز میں بولے؛ نہ کر بندیا میری میری نہ تیری نہ میری چار دناں دا میلہ دنیا فیر مِٹی دی ڈھیری مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا اِک بندے دا دل نہ ڈھاوِیں رَب دلاں وِچ رَیندا   بچہ جی ! ماں سے مراد یہ دھرتی، یہ مٹی ہےجس پر ہم اکڑ چلتے ہیں، جب موت آتی ہے   یہ مٹی بغیر تکبر کے ہمیں اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے یہ نہیں کہتی تو تو میرے اوپراکڑکرچلتا تھا تیری بڑی شان تھی ،آگے پیچھے ہزاروں لوگ چلتے تھے تو منہ سے کوئی بات نکالتا تو پوری ہوتی تھی میں گواہ ہوں تیری!   تو نے میرے سامنے لوگوں پرحکومت کی   تُو اپنے وقت کا بے تاج بادشاہ تھ...

بھکاری گینگ نے کیا جینا حرام معاشرہ حکومت کس کو دیں الزام

بچے کی دوا کے کر کلینک سے باہرنکلی تو ایک عورت نے فریاد کی باجی بچے نے صبح سے دودھ نہیں پیا، اللہ کے واسطے کچھ دے دیں!چونکہ میرا بیٹا بھی بیمار تھا تو اس کا بچہ دیکھ کر ترس آیا اور 100 روپے کا نوٹ اسے تھما دیا۔ نوٹ لے کر وہ عورت انتہائی  ناگواری سے بولی میرا بیٹا تو صرف لیکٹو جن 1 دودھ پیتا ہے،مجھے اس ۱۰۰ روپے کا کیا فائدہ یہ سن کر پہلے تو میں اس کی شکل دیکھتی رہ گئی پھر اچانک مجھے شدید غصہ آیا  تو میں نے اسے کہا کہ تم ہٹی . کٹی ہو جا کر مزدوری کرو اگر بچے کے دودھ کی اتنی فکرہے ! اسی طرح ایک ساتھی نے بتایا کہ ہماری گاڑی کے قریب ایک بابا جی آئے اور کہا کہ جائے نماز خرید لیں میں نے ان کو 100 روپے دیئے تو بولے اتنی بڑی گاڑی اور بس 100 روپے اور میں حیران رہ گئی کہ سو روپے ان کو جچتے ہی نہیں۔ میرے ایک جاننے والے نے بتایا کہ ان کے ہاں کافی عرصے تک اولاد نہ ہوئی تو کافی لوگ ان کے لیے دعا کرتے تھے انہی کے محلے میں ایک خواجہ سرا تھا اس نے دعا دی کہ اگر تہمارا بیٹا ہوا توپورے پانچ ہزارلوں گی۔بحرحال اس واقعے کے کئی سالوں بعد اللہ نے ان کو بیٹا بیٹی کی دولت سے نوازا۔ ان صاحب نے دل...

الکفرملت واحدہ حقیقت۔۔۔ مسلم ملت واحدہ خواب

نیوزی لینڈ واقعہ رونما ہونے کے بعد ہزارہا سوالات کو جنم دے گیا ہے جہاں یہ مغرب کے دوہرے معیار اور اسلام سے نفرت کی منہ بولتی تصویر ہے وہیں اس میں تمام مسلمانوں کے لیے ایک فکرانگیز پہلو بھی ہے کہ سفاک قاتل نے مسجد کا دروازہ کھلنے پرسامنے آنے والے ہرمسلمان کو گولی کا نشانہ بنایا۔اس نے کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ تم شیعہ ہو یا سنی، وھابی یا دیوبندی،اہل حدیث ہو یا جعفری، شافعی، حنبلی، حنفی یا مالکی ہو!اس نے نماز پڑھنے کے انداز،ہاتھ باندھنے کے طریقے یا کسی اور پہلو پرغور نہیں کیا یاد رکھیں اس کے نزدیک وہاں سب لوگ قابل نفرت تھے کیونکہ وہ مسلمان تھے کلمہ گو تھے بس اسی بغض میں وہ اندھا دھند گولیاں چلاتا رہا۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن کی نظر میں ہم بس مسلمان ہیں اور ہمارا کوئی مسلک نہیں اورہم نادان ہیں جوایک دوسرے پرہی کفرکے فتوے لگاتے رہتے ہیں۔ ایک وہ ہمارا دشمن جو ہمیں ایک مسلمان قوم کی نظر سے دیکھتا ہے اور ساری دنیا میں مسلمان صرف اسی لیے عتاب کا شکار ہیں کیونکہ وہ ان کی نظر میں صرف   مسلم   ہیں۔مگر کتنا افسوسناک پہلو ہے کہ ہم مسلمان اللہ کو تو مانتے ہیں مگر اللہ کی ایک نہیں مانتے ا...