Skip to main content

الکفرملت واحدہ حقیقت۔۔۔ مسلم ملت واحدہ خواب

نیوزی لینڈ واقعہ رونما ہونے کے بعد ہزارہا سوالات کو جنم دے گیا ہے جہاں یہ مغرب کے دوہرے معیار اور اسلام سے نفرت کی منہ بولتی تصویر ہے وہیں اس میں تمام مسلمانوں کے لیے ایک فکرانگیز پہلو بھی ہے کہ سفاک قاتل نے مسجد کا دروازہ کھلنے پرسامنے آنے والے ہرمسلمان کو گولی کا نشانہ بنایا۔اس نے کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ تم شیعہ ہو یا سنی، وھابی یا دیوبندی،اہل حدیث ہو یا جعفری، شافعی، حنبلی، حنفی یا مالکی ہو!اس نے نماز پڑھنے کے انداز،ہاتھ باندھنے کے طریقے یا کسی اور پہلو پرغور نہیں کیا یاد رکھیں اس کے نزدیک وہاں سب لوگ قابل نفرت تھے کیونکہ وہ مسلمان تھے کلمہ گو تھے بس اسی بغض میں وہ اندھا دھند گولیاں چلاتا رہا۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن کی نظر میں ہم بس مسلمان ہیں اور ہمارا کوئی مسلک نہیں اورہم نادان ہیں جوایک دوسرے پرہی کفرکے فتوے لگاتے رہتے ہیں۔ایک وہ ہمارا دشمن جو ہمیں ایک مسلمان قوم کی نظر سے دیکھتا ہے اور ساری دنیا میں مسلمان صرف اسی لیے عتاب کا شکار ہیں کیونکہ وہ ان کی نظر میں صرف مسلم ہیں۔مگر کتنا افسوسناک پہلو ہے کہ ہم مسلمان اللہ کو تو مانتے ہیں مگر اللہ کی ایک نہیں مانتے اور نہ ہی اس کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر رکھتے ہیں۔ قرآن بار بار کہتا ہے کہ کفر ایک ملت ہے ہمارا کھلا دشمن ہے مگر ہم ایک دوسرے کے ہی دشمن بنے ہوئے ہیں۔اپنے اپنے مسلک کی بنیاد پرایک دوسرے کو جان سے مار دینے تک بھی گریز نہیں کرتے ہم ایک دوسرے کو مسلمان نہیں سمجھتے کاش ہم اس واقعے سے سبق لیتے ہوئے صرف مسلمان بن جائیں اپنے اندرونی اختلافات کو ختم کریں اور بھائی بھائی بن جائیں۔ یہی وہ اللہ کی رسی ہے جس کی ہمیں اس وقت اشد ضرورت ہے جب تمام کفر ہمارے خلاف متحد ہوچکا ہے!دہشت گردی کا کوئی مذہب کوئی زبان نہیں ہوتی یہ تو خیالات ہیں جو ایک مسلمان کے دل ابھر رہے ہیں اور تصویر کا ایک رخ دکھا رہے ہیں!ایک طرف تو اس سفاک قاتل کو ذہنی مریض بنا دیا گیا! وہ کیسا ذہنی مریض تھا؟ جوجانتا تھا کہ یہ مسلمانوں کی مسجد ہے، اسے جدید اسلحہ استعمال کرنا بھی آتا تھا جمعے کے وقت کا بھی پتہ تھا! اس ذہنی مریض نے سڑک پر کھڑے ہوکر گولیاں کیوں نہیں چلا دیں صرف مسجد میں نمازپڑھنے والے معصوم مسلمان ہی کیوں اس کی زد میں آگئے؟



کرائسٹ چرچ کے واقعے کے بعد تاریخ میں پہلی بار نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی طرف سے اس قاتل کو دہشت گردقرار دے دیا گیا ہے جو بہت ہی حوصلہ افزا بات ہے!سمجھ میں نہیں آتا یہ فلسفہ ،صرف مسلمان ہی دہشتگردی کا نشانہ کیوں بنتے ہیں اورآخرکب تک بنتے رہیں گے؟ سارے کے سارے غیرمسلم دنیا میں تباہی مچا کر بھی امن کے داعی اور مسلمان کچھ نہ کر کے اور ظلم کے پہاڑ سہ کر بھی دہشت گرد!آخر ایسا کیوں ہے؟عراق افغانستان برما فلسطین کشمیراوراب نیوزی لینڈ میں مسلمان کا خون ہی بہہ رہا ہے مگر پھر بھی اسے ہی دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے!
وقت کرتا ہے پرورش برسوںحادثہ ایک دم نہیں ہوتا!

نیوزی لینڈ سانحے کے بعد بہت سارے سوالات جنم لے رہے ہیں ذہنوں میں!
کہیں یہ دو تہذیبوں کی جنگ کا آغاز تو نہیں! ایک پر سکون، قانوں و انصاف کے پابند اورترقی یافتہ معاشرے میں ایسا واقعہ ہونا کوئی معمولی بات نہیں بلا شبہ یہ کسی اورطرف ہی اشارہ کرتا ہے!غور سے دیکھا جائے تو یہ باقاعدہ منصوبہ بندی پرمبنی واقعہ لگتا ہے جس کی کڑیاں کہیں اور ملتی نظر آتی ہیں۔قاتل کی رائفلوں پرتحریر1683 میں ترک افواج کی جانب سے ویانا کے محاصرے کی طرف اشارہ ہے،جبکہ دوسری جانب 2023 میں ترکی کا 100 سالہ معاہدہ بھی ختم ہونے جارہا ہے۔ اس چیز کو چھیڑ کر دو تہذیبوں کو پھر آمنے سامنے لانے کا اشارہ تو نہیں! کیا مسلمانوں کے لیے اس کی آڑ میں ایک نیا سلسلہ تو نہیں کھڑا کیا جا رہا! یا پھرکہیں یہ خوف تو نہیں کہ یورپ میں اسلام بہت تیزی سے پھیل رہا ہے!اس کے بعد بھی کئی ممالک میں مسجدوں پر باقاعدہ حملوں کی خبریں موصول ہو رہی ہیں آخر یہ اب کون سی نئی سازش ہے اور کس نئی آزمائش کی طرف اشارہ ہے؟ایک طرف تو مسلمانوں کو ان کی اوقات دکھائی جاتی ہے کہ لو یہ ہے تمہاری جان کی وقعت! کہ اتنا ظلم سہنے کے بعد بھی دہشت گرد تم ہی کہلاؤ گے اور تمہیں مارنے والا پاگل کہہ کر چھوڑ دیا جائے گا!دوسرا پہلو ایک بہت باوقار اورہمدردانہ اندازمیں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا با حجاب انداز میں ڈپٹی آوٹ کے مسلمانوں کے گھروں میں جا کر معافی مانگنا کہ وہ ان کا تحفظ نہیں کر سکے پھر ایک نوجوان کا ایک سنیٹر کے سر پے انڈا دے مارنا کہ اس نے مسلمانوں کو دہشت گرد کہا پھر اگلی نماز پر وہاں کے لوگوں کا دیوار بن کر کھڑا ہونا تاکہ مسلمان نماز ادا کرلیں یہ رد عمل بھی کسی اورطرف ہی اشارہ کرتا ہے!سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد نیوزی لینڈ کی فضا ابھی تک سوگوار ہے۔پہلی بار قرآن پاک کی تلاوت سے پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز ہونا،وزیراعظم جیسنڈا کا اسلام علیکم کہنا، اجلاس میں بہادر پاکستانی شہری نعیم رشید کو خراج عقیدت پیش کرنا بہت خوش آئیند پہلو ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے مسجد کے اندر عبادت کرنے والے لوگوں کو بچانے کیلئے اپنی جان گنوا دی۔انہوں نے کہا اس جمعے کی نماز میں ہم مسلمانوں کی خود حفاظت کریں گے۔وہاں پر توپاکستانی شہری کو اتنا خراج عقیدت پیش کیا گیا مگر خود ہمارے ملک میں کیا ہوا یہ بھی بہت افسوسناک ہے! ان سفاکانہ شہادتوں پر دنیا بھر کے عوام سراپا احتجاج ہوئے، ایفل ٹاور ایک رات کیلئے سوگ میں بند کر دیا گیا،ترکی کا نائب صدر ایک بھی شہادت نہ ہونے کے باوجود ان شہدا کے جنازوں میں شریک ہوا لیکن پاکستانی حکام ملک میں 9 شہدا کے باوجود ایک معمولی میوزیکل شو کو ملتوی نہ کرسکے۔اس تقریب کو مثبت انداز میں بھی با وقار بنایا جا سکتا تھا ہم چاہتے تو اس تقریب کے ذریعے پوری دنیا کو پیغام دے سکتے تھے کہ ہم کس قدر درد مند قوم ہیں مگر افسوس صد افسوس! یہی وہ چیزیں ہیں جہاں سے قوموں کے شعور کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے اور حکومتوں کی ترجیحات کا بھی!

آخر میں سب سے ضروری بات!
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہےاتنا ہی یہ ابھرے گا۔۔۔جتنا کہ دبا ئیں گے

خوش آئند بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے بعد نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی بار سپیکر پر اذان دی گئی جس کو ہزاروں کا مجمع سنتا رہا یہی اسلام کی کامیابی ہے۔واقعے کے ایک ہفتے کے دوران اسلام سے محبت کرنے والوں اور اس میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں جوق در جوق اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔یہی نہیں بلکہ اگلے جمعہ کو پہلی بار اذان نیوزی لینڈ کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو سے نشر کی گئی۔اور نہایت شان و شوکت سے نماز جمعہ ادا کی گئی۔
اسلام کی مقبولیت سے خوفزدہ تہذیبوں نے دیکھ لیا کہ مسلمانوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور ان کی جرأت میں بھی کمی نہیں لائی جا سکی۔اسلام ایک ایسا سمندر ہے جس کی لہروں میں ہر وقت تلاطم رہتا ہے اور اسے آگے بڑھنے سے کوئی سانحہ کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔یہ واقعہ بھی بلاشبہ اسلام کی مقبولیت میں حیرت انگیز اضافہ کا باعث بن گیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...