Skip to main content

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی


دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب 
کچھ جامد جامد ہے۔
ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی


یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔
مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔
بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی  لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ہے وہ بہت زیادہ ہے اور وہ ہے انسانیت !

 معاشی تنزلی تو بحر حال اپنی جگہ ٹھیک لیکن جو قدغن اقدار پر لگی ہے وہ شائد کبھی نہ مٹ سکے۔ یوں تو ہر روز ایک نیا سانحہ رونما ہوتا ہے اور کوئی دن خیر کی خبر نہیں لاتا۔ لیکن اس سال کا سب سے بدترین المیہ نہتے کشمیریوں پر بھارتی تسلط اور لگاتار چھ ماہ سے مسلسل کرفیو کا نفاذ ہے اور اس پر پوری امت مسلمہ کی مجرمانہ خاموشی اور کوئی عملی اقدام نہ اٹھانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ واقعی اس کا سودا ہو چکا ہے !
دہشت گردی کی ہر ممکنہ تعریف کے مطابق اس وقت کشمیر میں کھلم کھلا دہشت گردی ہو رہی ہے تو پھر بھارت کو اب تک دہشت گرد ملک قرار کیوں نہیں دیا جا رہا ۔ اس مسئلے کو تو آہستہ آہستہ اس طرح دبا دیا گیا گویا سرے سے تھا ہی نہیں!
 ارے کوئی اپنی شہہ رگ کے بغیر رہ سکتا ہے بھلا ! کہاں گئے وہ دعوے؟
اس تناظر میں جماعت اسلامی کا کشمیر کاز پر توجہ دلانے کے لیے اسلام آباد میں ہونے والا مظاہرہ ایک مثبت کوشش ہے۔لیکن حیرانی کی بات ہے کہ جوں جوں یہ مارچ قریب آرہا ہے، نئے نئے ایشو سر اٹھا رہے ہیں اور عوامی توجہ کشمیر سے دور لے جانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔اسی تسلسل میں ڈاکٹروں اور وکیلوں کا واقعہ ، پھر اسلام اباد میں اسلامی جمیعت طلبا کے معصوم طالبعلم کی شہادت کا واقعہ،وزیر اعظم کا ملائشیا کا دورہ کینسل کرنا، پرویزمشرف کی سزا کا فیصلہ آنا وغیرہ وغیرہ۔ ان ایشوز کو دیکھ کر لگتا یہی ہے کہ کچھ قوتیں یہی چاہتی ہیں کہ کہ قوم کشمیر کاز پر متحدہ نہ ہوجائے ان کو مختلف ایشوز پر الجھا دیا جائے ۔  
اب زرا اپنے اندرونی معاملات پر نظر دوڑائیں
ملک کے دو پڑھے لکھے طبقوں کو
آپس میں لڑایا گیا، اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اور پھر اپنی اپنی مرضی کا میڈیا خرید کر کسی ایک فریق کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کیا جا رہا ہے۔
بار بارایک لفظ سننے میں آتا ہے فلاں کی دہشت گردی سے یہ ہوا فلاں نے یہ دہشت گردی کی !
مغرب نے تو در اصل اسلام داڑھی اور جہاد کو دہشت گردی سے منسوب کر رکھا ہے باقی مسلمان چاہے فلسطین کے ہوں شام کے یا کشمیر کے ان پر جتنے بھی مظالم ڈھالیے جائیں وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتے۔
جبکہ یہاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے دو اہم طبقات کو لڑانا اور اپنے کوئی اور مقاصد حاصل کرنا بھی تو ایک قسم کی دہشت گردی ہی ٹھہری نا۔ مگر دردناک پہلو یہ ہے کہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے معصوم انسانوں کی جانوں کا ضیاع ہی کیوں کیا جاتا ہے، جیسا کہ سانحہ اے پی ایس میں کیا گیا۔
کیا اپنے منصوبوں پر اس کے بغیر عمل ممکن نہیں ؟
بحرحال میرے نزدیک ہمیں اب دہشت گردی کی تعریف کو تھوڑا بدلنا پڑے گا
وہ اس طرح کے وہ وکیل جو کسی بھی طرح کی مار پیٹ میں ملوث ہوئے وہ دہشت گرد ہیں ۔
اگر کوئی وکیل اپنی بھاری بھرکم فیس لے کر بھی سائل کے چکر لگواتا ہے یا عدالتیں بر وقت انصاف نہیں کرتیں تو وہ بھی اسی زمرے میں آتی ہیں؟
اسی طرح اگر ڈاکٹر اپنے مطالبات کے لیے یا انا کی جنگ کے لیے بار بار ہسپتالوں کو بند کر دیتے ہیں یا سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں سے جان چھڑا کر ان کو پرائیویٹ علاج پر مجبور کرتے ، مہنگی دوائیاں تجویز کرتے یا بلا وجہ لیب ٹیسٹ کروا کر اس کا کمیشن کھاتے ہیں تو وہ بھی دہشت گرد کہلائیں گے؟
تعلیمی ادارے بھاری بھرکم فیسیں لے کر بھی اگر بچوں کو اخلاقیات اور علم نہ سےسکیں تو یہ بھی دہشت گردی ہے۔
اس کے بعد عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے اگر خودعوام کو لوٹنے لگیں یا ان کے جان و مال کی حفاظت نہ کرسکیں تو یہ بھی دہشت گردی ہے
اگر میڈیا  سچ کو چھپائے اور کسی ایک طبقے کی  طرفداری کرے جانبداری کا مظاہرہ کرے
تصویر کا ایک رخ دکھائے
یا پھر کسی خبر کو بالکل غلط رنگ دے دے تو پھر یہ میڈیا کی دہشت گردی ہے جیسا کہ حال ہی میں اسلام آباد میں اسلامک یونیورسٹی میں جمیعت اسلامی کے پرامن پروگرام کے دوران ایک لسانی  تنظیم کے طلبا کے حملے کے دوران  میڈیا پر مسلسل یہ خبر چلتی رہی کہ دو طلبا تنظیموں میں تصادم کے نتیجے میں یہ ہوا جبکہ یہ بالکل جھوٹ ہے تصادم کا مطلب تو لڑائی ہے جبکہ یہاں تو  ایک اور پرامن پروگرام پر باقاعدہ حملہ کیا گیا جس کےدوران ایک نوجوان سید طفیل الرحمان کی شہادت ہوئی اور کئی طلبا زخمی ہوئے ۔
اس طرح کے کتنے ہی حقائق ہیں جن کو توڑ مڑور کر پیش کیا جاتا ہے جو بلاشبہ دہشت گردی ہے
اور پھر وہ عوامی نمائندے جن کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجا جاتا ہے لیکن وہاں وہ صرف مراعات کے بدلے میں ہر اس فیصلے کی تائید کرتے ہیں جس میں عوام کوصرف رگڑا لگتا ہے۔
۔ وہ سب حکمران دہشت گرد ہیں جن کی حکمرانی میں عوام بد سے بدترین حالات پر پہنچ گئے۔میرے دماغ میں دو ہزار انیس کی ایک فلم چل رہی ہے صلاح الدین، ساہیوال کیس، کشمیر کا سودا، مہنگائی کا طوفان ، انسانیت کا قتل الغرض ایک لامتناہی سلسلہ ہے!  
 میں کیوں نہ  افسردہ ہوں کہ ایک طرف ملک کو لوٹنے والے باعزت فرار ہورہے ہیں ،بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ پڑھے لکھے طبقے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں جبکہ  دوسری طرف
دسمبر کا جان لیوامہینہ ، سقوط ڈھاکہ اور اے پی ایس سانحہ کے بعد اب کشمیرمیں کیا ہونے جارہا ہے۔
یہ سوچ کر ہی مرا دل دھڑکنے لگتا ہے  
ڈبو نہ سے کہیں یہ ناخدا کی خاموشی (عنبر)

https://www.naibaat.pk/20-Dec-2019/28490

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...