دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...
یوں تو دسمبر ہر بار ہی ظالم ہوتا ہے مگر اس بار تو سائبیریا کی یخ بستہ ہوائوں نے ملک کے پہاڑی اور میدانی دونوں خطوں کو یکساں لپیٹ میں لے لیا ہوا ہے، مگر حسب سابق گیس کی عدم فراہمی نے اس موسم کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے اور ہماری بد قسمتی کے گیس کے اتنے ذخائر ہونے کے باوجود بھی آج ہم اس حالت زار میں مبتلا ہیں ،سردی کی شدت کچھ عجیب ہی نوعیت کی ہے کیونکہ گیس کی عدم فراہمی کے ساتھ سردی کے توڑ کے لیے ہمارے بڑے بوڑھے جو اقدامات کیا کرتے تھے ہم ان کا دس فیصد بھی بچوں کو نہیں دے رہے۔ مثلاً روزانہ کی بنیاد پر یخنی ، رات کو کشمیری چائے ،حلوہ جات اور پھر ڈرائی فروٹ وغیرہ یہ تقریباً روز رات کا معمول تھا اور اتنی فراخ دلی سے ہم استعمال کرتے تھے کہ کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ایک نسل ایسی بھی آئے گی جس نے کبھی چلغوزہ کاجو پستہ کا نام بھی نہ سنا ہوگا؟ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ آنے والے ترقی کے عظیم دور میں ہم اس حالت پر پہنچ جائیں گے کہ صحت ثانوی اور لگژری لائف سٹائل اول ترجیح ہو جائے گی ، مجھے یاد ہے ہمارے پاس قیمتی موبائیل یا برانڈڈ کپڑے نہیں تھے مگر اچھا ماحول ، سچے رشتے اور بہت اچھی خورا...