Skip to main content

عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جراٗت پہ جائوں قرباں



نبیﷺ کا  لب  پر جو ذکر ھے  بے  مثال  آیا  ،  کمال  آیا
جو  ہجر_طیبہ  میں  یاد   بن   کر   خیال   آیا  ، کمال آیا
عمر کی جرآت پہ جاوں قرباں ہیں آج کافر بھی ان سے لرزاں 
عمر کے  آنے  سے  کفر  پر  جو    زوال  آیا  ،  کمال      آیا
ربیع الاول کے مبارک مہینے کے حوالے سے منعقدہ محفل میلاد میں ایک نعت کے یہ دو اشعار سنے تو ذہن اس مقام پر چلا گیا کہ جب دعوت اسلام کے ابتدائی دور میں چھپ چھپ کر گھروں میں نمازادا کی جاتی تھی اور جیسے ہی حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا تو مسلمانوں نے بلا خوف و خطر خانہ کعبہ میں اعلانیہ نماز ادا کی اور اس کے بعد اسلام کی دعوت میں بہت تیزی آگئی اور واقعی حضرت عمر کی جرائت سے کافر آج بھی لرزاں ہے اور ان کے اسلام لانے کے بعد کفر پر ایک عجیب سا زوال طاری ہوگیا تھا۔

آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کی قوت  میں بھی بہت اضافہ ہوا ۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام ہمارے لئے ایک فتح تھی اور ان کی امارت ایک رحمت تھی۔ خدا کی قسم ہم بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ پس جب وہ اسلام لائے تو آپ نے مشرکین مکہ کا سامنا کیا یہاں تک کہ انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا۔ تب ہم نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی۔
تاریخ خلیفہ دوم عمر فاروقؓ کی خدمت، جرات ، عدل، عظیم کردار 

حضرت عمرؓکی جرأت پہ جائوں قرباں



وشاندار فتوحات سے بھری پڑی ہے۔
ایک روزپیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور آپ کے ہمراہ دائیں بائیں ابو بکر ؓ وعمرؓ بھی تھے اور آپ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اسی حالت میں آپ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ہم اسی طرح اٹھیں گے۔ (ترمذی)
سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کو عوام کی فلاح کی بہت زیادہ فکر رہتی تھی اسلیے کوئی بھی گورنر مقرر کرتے وقت لوگوں کے ساتھ معاملات اور دیانت کے بارے میں خوب تحقیق کرتے اوربعد میں اس کی مسلسل نگرانی بھی کرواتے۔
آپ اپنے حکام کی گرفت کرتے اور ان کو مقرر کرتے وقت ایک پروانہ لکھ کر دیتے جس پر یہ ہدایات درج ہوتیں!
باریک کپڑا نہ پہننا
 چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھانا
اپنے مکان کا دروازہ بند نہ کرنا
کوئی دربان نہ رکھنا تاکہ جس وقت بھی کوئی حاجت مند تمہارے پاس آنا چاہے بے روک و ٹوک آجاسکے
 بیماروں کی عیادت کو جانا
 جنازوں میں شرکت کرنا۔
الغرض
اگر ہم ان کی جرات کی بات کریں تو سیدنا حضرت عمر فاروقؓ نےبیت المقدس کو فتح کرنے کے ساتھ ساتھ قیصر وکسریٰ کو پیوند خاک  کیا۔
آپ کے عہد خلافت میں شام، مصر، عراق، جزیرہ خوزستان، عجم، آرمینہ، آذر بائیجان، فارس، کرمان، خرسان اور مکران سمیت دیگر کئی علاقوں میں اسلام کی عظمت کا پرچم لہرایا گیا محمکہ خزانہ ،عدالتیں، قاضی، فوجی چھائونیاں ،جیل خانے ، پولیس ،فوجی دفتر،دفترمال ، ،مردم شماری ، مہمان خانے، مکاتب و مدارس ،نہریں ، شہر آباد کروانا یہ سب آپ ہی کے عظیم کارنامے ہیں۔
علامہ شبلی نعمانیؒ سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی سوانح عمری ”الفاروقؓ“ میں بیان کرتے ہیں
 کہ! تمام دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسا حکمران دکھا سکتے ہو....؟
جس کی معاشرت یہ ہو کہ قمیص میں دس دس پیوند لگے ہوں، کاندھے پرمشک رکھ کر غریب عورتوں کے ہاں پانی پھر آتا ہو، فرش خاک پر سو جاتا ہو، بازاروں میں پھرتا ہو۔ اور پھر یہ رعب و ادب ہو کہ عرب و عجم اس کے نام سے لرزتے ہوں اور جس طرف رخ کرتا ہو زمین دہل جاتی ہو، سکندر و تیمور تیس تیس ہزار فوج رکاب میں لے کر نکلتے تھے جب ان کا رعب قائم ہوتا تھا، عمر فاروقؓ کے ”سفر شام“ میں سواری کے اونٹ کے سوا اور کچھ نہ تھا چاروں طرف (شورو) غل پڑا تھا کہ ”مرکز عالم“ جنبش میں آگیا ہے۔
آپ اتنے صائب الرائے تھے کہ قرآن پاک کے متعدد احکامات آپ رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوئے مثلاً اذان کا طریقہ، عورتوں کے لئے پردہ کا حکم اور شراب کی حرمت۔ آپ رضی اللہ عنہ شجاعت، بلاغت اور خطابت میں یکتا تھے۔


حضرت عمر کا عہد کو یاد کیا تو پھر دل اداس ہونے لگا کہ آج ہمارے جذبوں میں وہ حرارت نہیں ہے کہ ہم اپنے دین کی خاطرکفر سے لڑ سکیں ہم صرف نام کے مسلمان ہیں جو صرف تماشا دیکھ رہے ہیں مگر عملی طور پر اسلام کے احیا کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کر رہے۔ ہمارے حکمران نہ تو دین کی عظمت اور نہ ہی عوامی فلاح کے لیے کوئی کام کر رہے ہیں۔ بلکہ یہ تو بچا کھچا دین بھی برباد کر رہے ہیں دنیا بھر میں مسلم حکمرانوں کا وطیرہ دیکھ کر تو یہی لگتا ہےْ۔  جبکہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں افواج ہونے کے باوجود غزہ، کشمیر ،شام سمیت دنیا بھر کے مسلمان کسی خدائی مدد کے منتظر ہیں مگر افسوس !
شائد اللہ کو یہ مایوسی پسند نہیں آئی اور پھر اگلے ہی لمحے ان آنکھوں نے وہ نظارہ دیکھا جب
محافظ قرآن ، عمر الیاس امت مسلمہ کا ہیرو بن گیا
اس دل کو اطمینان ہوگیا کہ
عمر کل بھی محافظ قرآن تھا
عمر آج بھی محافظ قرآن ہے
عمر الیاس شاباش !
تہماری ایک لات  کئی مسلم ممالک کی ہزاروں  افواج کے اسلحوں سے بڑھ کر ہے۔
تم نے اس دور میں نام عمر کی لاج رکھ لی واقعی یہ نام عمر بہت ہی جرات دیتا ہے۔
اس نے ثابت کیا کہ مومن کی زندگی میں بس ایک ہی لمحہ ہوتا ہے جو فیصلہ کن ہوتا ہے باقی ہم جیسے تو بس ایک دوسرے پر الزام تراشی ہی کرسکتے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عمر الیاس کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ ناروے میں باقاعدہ قانون نافذ کردیا گیا ہے کہ قرآن کی بے حرمتی پر اب باقاعدہ گرفتاری ہوگی۔اس کامیابی کا سہرا عمر الیاس کے سر جاتا ہے۔
آخر میں ایک اور حوصلہ افزا بات کہ کسی نے بھی عمر الیاس سے اس کا مسلک نہیں پوچھا ؟
عمر کی جرات پرتمام  مسلمانوں کا عمر الیاس کو اپنا ہیروسمجھنا اتحاد کی روشن علامت ہے ؟
قرآن پاک کی بے حرمتی کامعاملہ ہو  یا پھر توہین رسالت کا، دنیا کے سب  مسلمان ان دو باتوں پر سارے مسلک بھلاکر ایک ہو جاتے ہیں۔ مجاہد اسلام عمر الیاس کا گزشتہ دنوں ناروے میں اینٹی اسلامک احتجاج پر ایک عیسائی کے طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی پر دیے جانے والا ردعمل بہت  مثبت ہے اور ۔ ناروے میں قران پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کےبعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سڑکوں پر قران پاک کی تلاوت شروع کردی جو دشمن کو کرارا اور بہترین جواب ہے ۔


اس سے عیاں ہوتا ہے کہ تمام مسلمان آج بھی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔اس لیے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے اور شمع سے شمع جلاتے رہنا چاہیے تاکہ پوری دنیا میں اسلام کا نور دمکتا رہے۔ 












https://www.naibaat.pk/29-Nov-2019/28040

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...