یوں تواس قوم کی غیرت، انصاف ،ایمان داری اوراخلاقیات کا جنازہ تو نکل ہی چکا ہے لیکن جب سے کشمیرمیں بھارت ہٹ دھرمی سے داخل ہوگیا ہے اورپاکستانی عوام اپنے تمام تر مصائب کے باوجود ان کی آواز بلند کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہی ہے اوراس تحریک میں روز بروز شدت آرہی ہے تو اسی دوران دو حیرت انگیز واقعات؛ توجہ ہٹائو مہم؛ کے طور پر سامنے آئے ہیں ایک تو یہ خبر تبدیلی کے سب دعووں کو چکنا چور کرتی ہوئی بم بن کر گری کہ حکومت نے چند کاروباری حضرات کے تین سو ارب کے لگ بھگ قرضے معاف کر دئیے ہیں۔ دوسری جانب پولیس کی دہشت گردی سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں کا معاملہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پوری قوم کشمیر کے لیے ایک پیج پر ہے۔ قرضے معاف کرنے کا شوشہ چھوڑا گیا اورپھر اس کے بعد ایک ذہنی مریض صلاح الدین کو معمولی سی حرکت پر انتہائی بہیمانہ تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا اوراس کے بعد روزایک نیا واقعہ اورنیا سلسلہ تاکہ اس قوم کو صرف اپنی پڑی رہے کہیں ان میں شعور پیدا نہ ہوجائے۔ حال ہی میں ایک میڈیا گروپ نے ڈیڑھ سوملازمین کو فارغ کیا جس کے نتیجے میں...