Skip to main content

جوع سطاں ملک و ملت را فنا ست کشمیرمیں نسل کشی کرنے پرمودی کوایوارڈ



 اگست کے مہینے میں کشمیرسےمحبت کرنے والے پاکستانیوں کی دو بار روح چھلنی ہوئی ۔ایک جب پانچ تاریخ کو بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی اور بھارتی پارلیمنٹ نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور ہم دیکھتے رہ گئے ۔ دوسرا جب بھارتی گجرات میں ھزاروں مسلمانوں کے قاتل ،بلوچستان میں دھشتگردی کو فروغ دینے والے اور اب کشمیری عوام کی نسل کشی کرنے والے انتہا پسند نریندرمودی کو امریکیوں کی پروردہ آل سعود کے بادشاہ کی طرف سے سعودی عرب کا سب سے بڑا سول ایوارڈ پیش کیا گیا۔ اس وقت یہ شعرذہن میں گردش کرنے لگا۔ سجدہ خالق سے بھی ابلیس سے یارانہ بھی حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا تقریباً ایک ماہ ہونے کو آیا بجائے اس کے امت مسلمہ کی جانب سے کشمیر کی لیے کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا کوئی اتحاد کا مظاہرہ کیا جاتا بلکہ یہاں تو ظلم کرنے والوں کو ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے کئی سوالات کے جوابات مل گئے۔ میں بہت سوچتی تھی کہ وہ کیسے مسلمان ہوں گے جنہوں نے اس وقت یزید کا ساتھ دیا ہوگا؟ 




آج عرب کے بادشاہوں کو دیکھ کر یقین آگیا کہ تب بھی ایسے ہی بے حس اور مفاد پرست لوگ ہوں گے جنہوں نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے یزید کا ساتھ دیا تھا۔اور یہ ہیں وہ مسلمان جن کو دیکھ کر شرمائیں یہود ! رہی عرب ممالک کی بات تو جو اسلامی تاریخ کے عظیم ورثے فلسطین کے لیے کچھ نہ کرسکے،عراق افغانستان بوسنیا شام میں خون کی ندیاں بہنے پر بھی اپنی عیاشیوں میں مگن رہے ان سے کشمیر کے لیے امید لگانا کسی پاگل پن سے کم نہیں؟ علامہ اقبال تو یہ حقیقت ایک صدی قبل ہی بھانپ گئے تھےجب ہی تو فرمایا ۔ قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے؟ اس کو کیا سمجھیں بے چارے دو رکعت کے امام اب ہم جو مودی کو ایوارڈ ملنے پر واویلا کر رہے ہیں تو ہم نے کون سا تیر مار لیا ہے اس ایک ماہ میں سوائے بیان بازی کے ہماری ہی فضائی حدود میں دو گھنٹے گزارنے کے بعد مودی ایوارڈ وصول کرنے گیا عرب میں اور ہم ایک مضبوط قوم ہونے کے باوجود خاموش تماشائی ہیں کیونکہ ہماری غیرت مر چکی ہے ہم زندہ قوم نہیں ہیں ہمیں اپنے نوالے چھن جانے کا ڈر ہے یا یوں کہیں ہمارا ایمان اور اللہ پر یقین کمزور ہو گیا ہے۔ بس دل غمگین اور آنکھیں اشکبار تھیں یوں ہی اپنے خیالوں میں گم استاد جی سے سامنا ہوگیا پوچھنے لگے کیا بات ہے بچہ جی ۔۔دل بھرآیا بس کچھ کہنے کی سکت نہ تھی ۔۔پھر کچھ دیر بعد پوچھا استاد جی کیا مسلمان اتنے گئے گزرے ہیں کیا ہماری کوئی غیرت باقی نہیں رہی ۔۔کیا اللہ پر توکل ، خودی ، سب کتابی باتیں ہیں مجھے تو اس کی عملی مثال یا نمونہ کہیں نظر نہیں آتا اس معاشرے میں؟ استاد جی نے ایک گہری سانس لی اور بولے بچہ جی یہاں پرمجھےمثنوی اسرار خودی کا فارسی شعر یاد آرہا ہے آتش جان گدا جوع گدا است ۔۔۔ جوع سطاں ملک و ملت را فنا ست کہ ایک فقیر کی بھوک کی آگ صرف اس کی جان کھا لیتی ہے لیکن حکمران کی بھوک پوری ملک و ملت کو کھا جاتی ہے۔ میں شعر کی گہرائی چانچنا چاہتی تھی تو استاد جی بولے بیٹا اللہ پر توکل غیرت اور خودداری سیکھنی ہو تو کسی وقت لبرٹی گول چکر میں سپورٹس کمپلیکس کے ساتھ دیوار کے ساتھ مسواکیں بیچنے والے ایک بزرگ عبد الرشید سے ضرور مل لینا وہ تہمیں جینا سکھا دیں گے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی خیر اگلے ہی رات میں مسواک لینے کے بہانے ان کے پاس پہنچ گئی ۔سلام دعا کے بعد ان سے کچھ خریداری کی اور حال چال پوچھا۔وہ تقریباً اسی سال کے لگ بھگ بزرگ تھے رات کے دس بجے حبس کے موس میں اتنے ضعیف بزرگ کو انتہائی مطمئن پایا چہرے پر تھکاوٹ کے آثار تھے نہ لہجے میں حالات کی تلخی۔ باتوں باتوں میں تذکرہ ہوا کہ وہ کئی سالوں سے یہاں مسواک بیچتے ہیں اور ماہانہ آمدنی آٹھ سے دس ہزار ہے پاس ہی ایک گھر کے کوارٹر میں رہائش ہے تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ،بیٹا اور ایک بیٹی معذور ہے۔ ایک بیٹی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہےوہ باقی تعلیم حاصل کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ ٹیوشن پڑھا کر باپ کی مدد بھی کر رہی ہے میں نے پوچھا بابا جی کیسے گزارا ہوتا ہے کیا آپ کوکوئی مشکل تو نہیں میرا خیال تھا وہ پہلے تو حکومت کو برا بھلا کہیں گے پھر کوئی مدد کے لیے کہیں گے مگر جو کچھ انہوں نے کہا مجھے حیران کر دینے کے لیے کافی تھا ۔بولے بیٹا میں اپنے اللہ سے راضی ہوں میرا بہت اچھی طرح گزارا ہو جاتا ہے مجھے اللہ کے علاوہ کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ بیٹے کے لیے بھی ایک سائکل رکشہ بنوا رہا ہوں تاکہ وہ بھی کوئی کام کر سکے اور انہوں نےپر بات پر اللہ کاشکر ادا کیا ان کی صبر توکل غیرت خود داری دیکھ کر میں حیران رہ گئی میں نے کہا کوئی دعا کریں تو بولے بیٹا اللہ پر توکل کرو اتنا دے گا کہ سمیٹا نہ جائے گا اور اس کی رضا میں راضی رہنا سیکھو، رب راضی تو سب راضی ۔ جب دعا مانگنا تو بس برکت مانگنا دیکھنا ، کوئی محتاجی نہیں ہوگی میں ان سے ڈھیروں دعائیں اور اپنے سب سوالات کے جوابات لے کر واپس اپنے گھر آگئی۔ آپ زرا غورکریں کہ جب سے مسلمان قوم میں خودی کا عنصرغائب ہوا تو ان کا زوال شروع ہوگیا لیکن یہ عنصر خود بخود ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے لیے مسلمانوں کو قوم کو معاشی طور پر کنگال کیا گیا اورپھرجہاد کو حرام قرار دے دیا گیا اب ان قوموں کے نزدیک غیرت، حمیت، اورخودی جیسے لفظ بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہ معاشی غلامی ہی دراصل مسلمانوں کی تباہی کی سب سےبڑی وجہ ہے اور پھر اس کے بعد سودی قرضوں کے جال میں جکڑی معیشت ، حکمرانوں کی دین سے دوری، امن کے داعی کے نام پر اپنے حقوق سے دست برداری اورعوام کے وہی دو وقت کی روٹی کے رونے دھونے ۔بس یہ معاشی بدحالی قوموں کے زوال کا آغاز بھی ہے اور انجام بھی۔ بھوک چاہے اقتدار کی ہو طاقت کی ہوپیسے کی یا پھر روٹی کی وہ ہماری غیرت کو تباہ و برباد کرکے دم لیتی ہے۔ جن قوموں پر اقتدار کے بھوکے رہنما مسلط رہیں، ان کی قسمت میں سر اٹھا کر جینا نہیں لکھا جاتا۔ مگر بابا عبد الرشید سے مل کر اس بات کا اطمینان ہوا کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے جس دن ہمارے حکمرانوں اورعوام میں یہ توکل ،خودداری آجائے گی تو اسی دن سب مسئلے حل ہوجائیں گے۔ اس کے لیے ہمیں دیانت دار حکمرانوں کو چننا ہوگا اور عوام کو ان کا بازو بننا ہوگا جس دن ہم یہ تہیہ کر لیں گے تو اسی دن سے ہمارے ملک میں حقیقی معنوں میں تبدیلی آئے گی اور ہم دنیا کوبتا سکیں گے کہ ہم زندہ قو م ہیں۔

https://www.naibaat.pk/30-Aug-2019/25906

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...