Skip to main content

ایک بات پوچھوں ۔۔۔۔۔۔۔ مارو گے تو نہیں ؟



یوں تواس قوم کی غیرت، انصاف ،ایمان داری اوراخلاقیات کا جنازہ تو نکل ہی چکا ہے لیکن جب سے کشمیرمیں بھارت ہٹ دھرمی سے داخل ہوگیا ہے اورپاکستانی عوام اپنے تمام تر مصائب کے باوجود ان کی آواز بلند کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہی ہے اوراس تحریک میں روز بروز شدت آرہی ہے تو اسی دوران دو حیرت انگیز واقعات؛ توجہ ہٹائو مہم؛ کے طور پر سامنے آئے ہیں ایک تو یہ خبر تبدیلی کے سب دعووں کو چکنا چور کرتی ہوئی بم بن کر گری کہ حکومت نے چند کاروباری حضرات کے تین سو ارب کے لگ بھگ قرضے معاف کر دئیے ہیں۔ دوسری جانب پولیس کی دہشت گردی سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی ہلاکتوں کا معاملہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔




 ایک ایسے وقت میں جب پوری قوم کشمیر کے لیے ایک پیج پر ہے۔ قرضے معاف کرنے کا شوشہ چھوڑا گیا اورپھر اس کے بعد ایک ذہنی مریض صلاح الدین کو معمولی سی حرکت پر انتہائی بہیمانہ تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا اوراس کے بعد روزایک نیا واقعہ اورنیا سلسلہ تاکہ اس قوم کو صرف اپنی پڑی رہے کہیں ان میں شعور پیدا نہ ہوجائے۔ حال ہی میں ایک میڈیا گروپ نے ڈیڑھ سوملازمین کو فارغ کیا جس کے نتیجے میں  سینئر ایجوکیشن رپورٹر سجاد کاظمی کا بلڈرپریشر بڑھنے سے حالت نازک ہوگئی اورآج وہ ہسپتال میں زندگی موت کی کشمکش میں ہیں۔کچھ روز قبل کراچی میں ایک پندرہ سالہ بچے کو پانچ سو روپے چوری کے شبہ میں جان سے ماردیا گیا اور مرنے سے پہلے اس پر تشدد کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔اس کی شرٹ پر لکھا جملہ اپنا ٹائم بھی آئے گا اس معاشرے کو منہ چڑا رہا تھا۔
دل بہت اداس تھا ایک عجیب سی بے چینی تھی، سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کروں یوں ہی استاد جی سے ملاقات ہوگئی بزرگ ہیں، اللہ والے ہیں ان سے بات کرکے دل کا بوجھ بھی ہلکا ہوجاتا ہے اور سوچ کو نئی جہت مل جاتی ہے۔ ان سب واقعات پر بات ہوئی تو بہت افسردہ ہوئے۔  کہنے لگے بچہ جی یہ جو کچھ ہے ہمارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے ایسا تب ہوتا ہے جب ہم آنکھوں دیکھی مکھی نگل لیتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ یہ شخص با کردار نہیں صادق اورامین نہیں آنکھیں بند کر کے اس کو ووٹ دیتے ہیں اور اس کے مقابلے میں حق کی صدا بلند کرنے والوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو جب ہم اپنے ووٹ کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو پھر اس معاشرے کی عدالتوں، اداروں اور حکمرانوں سے کیسی توقع ۔۔یہ سب اللہ کی ناراضگی کی علامات ہیں وہ جب ناراض ہوتا ہے تو ہدایت سامنے ہو کر بھی نظر نہیں آتی۔ اگرہرشخص اپنے ضمیر کو زندہ رکھے غیرت خودداری اور اللہ پر توکل قائم رکھے تو آہستہ آہستہ انقلاب آنے لگتا ہے اورمعاشرہ تبدیل ہو کر رہتا ہے بس یہ یاد رہے کہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
تو بس اگر تبدیلی لانی ہے تو اپنے اندر سے لائو دیکھنا ، چراغ سے چراغ جلتے رہیں گے اور اندھیرا چھٹ جائے گا۔
میں نے گھر آکر ان باتوں پر غور کیا تو اندازہ ہوا کہ واقعی حالات کے ذمہ دار ہم خود ہیں یہ لوگ آسمان سے نازل نہیں ہوتے ہم ہی انہیں مسند اقتدار پر بٹھاتے ہیں ، ہمارے یہاں تو سیاست دانوں کی اتنی شخصیت پرستی کی جاتی ہے جس کے آگے بت پرستی بھی ایک معمولی لفظ نظرآتا ہے۔
مجھے پوچھنا ہے؟
 کیا یہ ہیں آپ کے منتخب نمائندے جو خود تو اربوں کے قرضے معاف کردیں اورآپ کی قسمتوں کو آئی ایم ایف جیسی بد معاش قوتوں کے حوالے کردیں جو ہمیں سود کھلا کر ہمارا ہی خون نچوڑ لے ۔ کیا جو لوگ اللہ اور اس سے رسول سے کھلی جنگ کرتے ہیں تو پھر وہ کیا توقع کرتے ہیں اس نظام سے ؟
 میرے کم فہم ساتھیو!  کبھی یہ سوچنا کہ کسی بھی حکمران نے کوئی فیصلہ جو آپ کے مفاد میں کیا ہو؟

پاکستان بننے سے اب تک 256ارب کے قرضے معاف ہوئے لیکن اس بار ایک ہی  سال میں 300ارب کےقرضے معاف کر دئے گئے۔
ڈالر ایک سو ساٹھ پر پہنچ گیا ، یونیورسٹی سکالرشپس بند ،
حاجیوں کو تین ارب سبسڈی نہیں دے سکے کہ خزانہ خالی ہے، ھسپتالوں میں فری علاج کیلئے 30 ارب نہیں دے سکے ، کوئی نوکریاں نہیں اورغریب کے لیے بس ٹیکس ہی ٹیکس!

 بے گناہ صلاح الدین کی موت ایک  بیماراوروحشت زدہ معاشرے کی عکاس ہے۔جہاں دو بندے ہوں اور دونوں کا جرم ایک جیسا ہو اورایک کو
موت ملے اوردوسرے کو صدارت ، تو سمجھ لینا کہ پہلے والا غریب تھا۔
۔ اصل میں اس ملک میں سب سے بڑے جرائم دو ہی ہیں ایک تو غریب ہونا اور دوسرا ڈٹ کر حق بات کرنا یا ایمان کے راستے پر چلنا۔
صلاح الدین کے لواحقین کا یہ کہنا ہے کہ وہ ذہنی مریض تھا جو ہمیشہ ادھر ادھر گھومتا رہتا تھا۔والد محمد افضل کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کے بازو پر نام اور ایڈریس کندہ کروایا ہوا تھا۔ پولیس کو کیسے یہ نہیں پتا چلا کہ وہ ذہنی معذور سے بات کر رہے ہیں؟
دیوانے کا اک سوال اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قبر تک پہنچا گیا
ریاست مدینہ کے دعووٗں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو بھی دفنا گیا
 اک ذہنی مریض ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم کو آئینہ دکھاگیا
ہم وحشی ہیں انساں نہیں ۔۔۔۔۔۔یہ راز بھی سمجھا گیا
مجھے پوچھنا ہے اپنے ارباب اختیار سے کہ
 اس ملک میں غریب کاایک پیسہ معاف نہیں ہوتا، پانچ سو روپے پر جان چلی جاتی ہے
لیکن من پسندوں کے سیکڑوں ارب معاف ہوجاتےہیں اتنا تضاد کیوں؟

آخر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی مثالیں دینے والوں کے لیے ایک روایت

حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے ایک چوری کا مقدمہ آگیا۔ آپ نے چور کے ہاتھ کاٹ دینے کا حکم صادر فرمایا کہ اتنے میں عدالت میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نمودارہوئے۔
انہوں نے پوچھا کہ ”اے خلیفة المسلمین! کیا آپ نے چوری کی وجہ پوچھی؟“ اس پر حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا ”نہیں“ جواباً حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ ”پہلے چوری کی وجہ پوچھی جائے کیونکہ نان و نفقہ کا بندوبست کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
جب چورسے وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ اس نے فاقوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر چوری کی ہے۔ اس جواب کے بعد اسے رہائی دی گئ اور علاقے کے گورنر کو بلا کر سرزنش کی بلکہ اس کے خاندان کے نان نفقہ کا انتظام کا حکم دیا گیا ۔
تو جناب محرم الحرام کا مہینہ ہے جس میں ہم یزیدیت کی جانب سے اہل بیت پرڈھائے جانے والے مظالم کا ماتم کرتے ہیں اوراہل کوفہ کی خاموشی پر حیران ہوتے ہیں ۔ موجودہ حالات کو دیکھ لیں توآپ کو اس دور کی صورت حال بھی سمجھ آجائے گی؟
 کربلا ، کوفہ ، یزیدیت اورح سے حق اورحسینیت یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ قیامت تک حق و باطل کے درمیان کشمکش کا استعارہ ہے اب آپ دیکھ لیں خود کو کہاں کھڑا پاتے ہیں؟
سنتے تو ہیں ہر ایک سے ہم نام کربلا
لیکن سمجھنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیغام کربلا
نام حسینؑ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندہ رہے گا ابد تلک
عنبر ملا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہمیں انعام کربلا



Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...