Skip to main content

Posts

Showing posts from October, 2019

خدارا ! اپنی اولاد کو موت کی طرف مت دھکیلیں ؟

  میرے پیارے ابو اور امی ! مجھے معاف کر دینا ،میرا رزلٹ بہت گندا آیا ہے اور جس کی وجہ سے میری اب کوئی عزت نہیں رہے گی مگر میں نے نمبر لینے کی کوشش کی تھی بس مجھے معاف کر دینا اللہ حافظ ! یہ خط بھکر کے فرسٹ ائیر کے ایک طالبعلم نے خود کشی سے پہلے لکھا تھا اور اگر غور کریں تو یہ صرف اس کے ماں باپ ہی نہیں بلکہ ہم سب والدین کے نام  خدارا ! اپنی اولاد کو موت کی طرف مت دھکیلیں ؟ ایک کھلا خط ہی نہیں بلکہ آنے والے طوفانوں کی پیش گوئی ہے۔ زاہد کا بیگ، جوتے اور خط تھل کینال کے کنارے ملا اور مقامی افراد نے ہیڈ فردوس پر لاش دیکھ کر اطلاع دی۔ یہ واقعہ والدین اساتذہ اور ہمارے نظام کو آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے اور ایک سوالیہ نشان بھی چھوڑ گیا ہے کہ   کہ ایسا کیا ہوگیا کہ   ایک   زندگی سے بھرپور انسان صرف اپنی ناکامی اور ماں باپ یا معاشرے کے خوف سے موت کو گلے لگانا قبول کرلیتا ہے آخر وہ اس نہج پر کیوں پہنچ جاتا ہے کہ اسے سوائے موت کے اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ ۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس طرح کے کئی واقعات سامنے آئے جہاں کبھی اساتذہ ...

کاش آج بھی مائیں ان پڑھ ہوتیں

آج میں نے اپنے کالم کا جو عنوان تجویز کیا ہے وہ بہت عجیب ہے اور اتنی بڑی بات اتنے وثوق سے کہنا آسان نہیں کیونکہ میں خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں اور یہ سب باتیں جو کہنے جا رہی ہوں   ہوسکتا ہے کہ میری کئی بہنیں مجھ سے اختلاف کریں لیکن موجودہ حالات اور نئی نسل کو سامنے دیکھ کر مجھے تو یوں ہی لگا کہ کاش آج بھی مائیں ان پڑھ  کاش آج بھی مائیں ان پڑھ ہوتیں ہوتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری مائیں جنہوں ن ے کبھی فیس بک دیکھی تھی نا یو ٹیوب لیکن انہیں معلوم تھا کہ گھر والوں کی صحت کا خیال کس طرح رکھنا ہے؟ ہماری مائوں کو کس نے یہ بتایا تھا کہ کالے چنے ، لال لوبیہ ، بیف ، مکھن والی روٹی ، چاٹی کی لسی ، پائے،   بونگ، ہمیں کس تناسب سے دینا ہے ؟ مجال ہے کبھی ہم تھکے ہوں یا نڈھال ہوئے ہوں۔وہ یہ بھی   جانتی تھیں کہ بچوں کو فریزر میں رکھی ہوئی چیز نہیں کھلانی اس سے بیماریاں ہوتی ہیں،ہمیشہ   تازہ کباب تازہ کھانا ،وہ تو انپڑھ تھیں لیکن ہم کیا کرتے ہیں ہمارا تو دارومدار ہی فروزن پر ہے؟ تو پھر ہم سمجھدار ہیں کہ وہ انپڑھ مائیں؟ موجودہ دور میں ماہرین بتا ت...

بھکاریوں کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو گیا

  آج کل ایک مسئلہ مجھے بہت زیادہ پریشان کررہا ہے شائد آپ لوگوں کوبھی اس بات سے پریشانی ہوتی ہو۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے میں آپ کو صرف ایک دن کی روداد سناتی ہوں۔ میرے شوہر بچوں کو سکول لینے گئے تو ایک اچھی بھلی صحت مند عورت نے گود میں ایک شیرخوار بچہ لیے گاڑی کا دروازہ کھٹکھٹایا اوربھیک مانگنے لگی۔ اسوقت صورتحال یہ تھی کہ چھٹی کے وقت سڑکوں پررش کی وجہ سےٹریفک بلاک تھی۔ جس پراسے منع کیا تو وہ باز نہ آئی اور بار بار دروازہ بجاتی رہی۔ جب میرے شوہر نےاسے جھڑکا تو بد دعائیں دینے لگی۔اس واقعے کا بچوں پر منفی اثر ہوا کہ باپ نے ایک ضرورت مند کی مدد نہیں کی۔   بھکاریوں کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو گیا     خیر ان کو میں نے سمجھایا کہ یہ لوگ عادتاً بھیک مانگتے ہیں ان کو چاہیے، کوئی مزدوری کریں اور اس سے بہتر ہے آپ کسی غریب پھل فروش کو زیادہ پیسے دے کر اس کی مدد کردیں۔ بات آئی گئی ہوگئی اس کے بعد میرے شوہر جب عصر کی نماز پڑھنے مسجد گئے تو نماز ختم ہوتے ہی ایک بہت ہی اچھے حلیے میں ایک شخص نے ان کے پاس آکر کہا کہ میرا بجلی کا بل آٹھ ہزار روہے آیا ہے جو میں...

عرش والا جب زمین ہلا دیتا ہے۔۔۔انسان کو اس کی اوقات دکھا دیتا ہے

عرش والا جب زمین ہلا دیتا ہے۔۔۔انسان کو اس کی اوقات دکھا دیتا ہے کوئی ایسا دن نہیں ہے جس میں کوئی انہونی نہ ہو، روز ایک دل خراش واقعہ ،ایک نیا سانحہ سامنے آتا ہے اور اس پر ہم سب کی بےحسی اور حکمرانوں کی عدم توجہی کا رویہ معاشرے میں ایک عجیب سی مایوسی پھیلا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیسی لاچاری اور بیماری ہے جس کا علاج نظر نہیں آرہا ۔ ایک ہجوم کی طرح ہم سب بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں ۔صبح سے شام ہو جاتی ہے اور پھر رات سے صبح مگر مجال ہے کہ کسی ایک دن کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے ۔گھر،دفاتر کے مسائل اپنی جگہ ، میڈیا اور سوشل میڈیا میں سامنے آنے والے لاتعداد واقعات بھی ہمیں جذباتی طور پر بہت کمزور بنا رہے ہیں ۔اس وقت ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں جنگل کا قانون نافذ ہے جہاں کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں سب کے اپنے اپنے مسائل اور اپنی اپنی جنگ ہے۔  اس لائف سٹائل میں دین ، اخلاق اور ضوابط کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہے۔ میں کس کس بات کا ذکر کروں ، چلیں اس ایک  ہفتے کے واقعات کو ہی دیکھ لیں۔ سب سے پہلے تو کشمیر کے معاملے پر اسلامی ممالک کی بے   ...

ہمارا سب سے بڑا المیہ ۔۔۔۔۔ کس سے فریاد کریں؟

زندگی مسائل سے عبارت ہے اور ان ہی مسائل کو خندہ پیشانی سے حل کرنا اور آگے بڑھتے جانا ہی زندہ دلی کی علامت ہے۔ لیکن ناجانے کیوں وہ پریشانیاں جو پہلے ہم منٹوں میں حل کرلیتے تھے اب وہ ہمیں ایک پہاڑ کی طرح لگتی ہیں شاید ہم تھک گئے ہیں یا پھر ہم آسائشوں کے عادی ہوگئے ہیں؟ گھر کے معاملات ہوں ، کاروبار ہو ،ملازمت ہو ، خریداری ہو، سفر ہو، بیماری ہو یا پھر بچوں کی تعلیم کا معاملہ ہر چیز الجھی الجھی نظر آتی ہے۔ کئی بار تو میں یہ سوچ فیصلہ ہی نہیں کر پاتی کہ آخر ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے کیا؟      گھروں میں بے سکونی ہے برکت نہیں، اولاد کی تربیت ٹھیک نہیں ہو رہی، رشتہ داریوں میں مفادات پرستی کا عنصر غالب آگیا ہے، گھر سے باہر نکلو تو آس پڑوس کی کوئی خبر نہیں ہر کوئی اپنے اپنے حال میں مست ہے۔ نوکریوں کا کوئی حال نہیں سرکاری ملازم ہوں تو وہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں معمولی سے کام کے لیے بھی رشوت دئیے بغیر آپ کا کام نہیں چل سکتا۔ ایک معمولی سا کلرک بھی آپ کو ناکوں چنے چبوا دیتا ہے۔ آپ کوعدالتوں کا سامنا کرنا پڑے توپتہ لگ جاتا ہے کہ زندگی کس بلا کا نام ہے پیسہ...