میرے پیارے ابو اور امی ! مجھے معاف کر دینا ،میرا رزلٹ بہت گندا آیا ہے اور جس کی وجہ سے میری اب کوئی عزت نہیں رہے گی مگر میں نے نمبر لینے کی کوشش کی تھی بس مجھے معاف کر دینا اللہ حافظ ! یہ خط بھکر کے فرسٹ ائیر کے ایک طالبعلم نے خود کشی سے پہلے لکھا تھا اور اگر غور کریں تو یہ صرف اس کے ماں باپ ہی نہیں بلکہ ہم سب والدین کے نام خدارا ! اپنی اولاد کو موت کی طرف مت دھکیلیں ؟ ایک کھلا خط ہی نہیں بلکہ آنے والے طوفانوں کی پیش گوئی ہے۔ زاہد کا بیگ، جوتے اور خط تھل کینال کے کنارے ملا اور مقامی افراد نے ہیڈ فردوس پر لاش دیکھ کر اطلاع دی۔ یہ واقعہ والدین اساتذہ اور ہمارے نظام کو آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے اور ایک سوالیہ نشان بھی چھوڑ گیا ہے کہ کہ ایسا کیا ہوگیا کہ ایک زندگی سے بھرپور انسان صرف اپنی ناکامی اور ماں باپ یا معاشرے کے خوف سے موت کو گلے لگانا قبول کرلیتا ہے آخر وہ اس نہج پر کیوں پہنچ جاتا ہے کہ اسے سوائے موت کے اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ ۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس طرح کے کئی واقعات سامنے آئے جہاں کبھی اساتذہ ...