Skip to main content

خدارا ! اپنی اولاد کو موت کی طرف مت دھکیلیں ؟



 میرے پیارے ابو اور امی !
مجھے معاف کر دینا ،میرا رزلٹ بہت گندا آیا ہے اور جس کی وجہ سے میری اب کوئی عزت نہیں رہے گی
مگر میں نے نمبر لینے کی کوشش کی تھی
بس مجھے معاف کر دینا
اللہ حافظ !
یہ خط بھکر کے فرسٹ ائیر کے ایک طالبعلم نے خود کشی سے پہلے لکھا تھا اور اگر غور کریں تو یہ صرف اس کے ماں باپ ہی نہیں بلکہ ہم سب والدین کے نام 


خدارا ! اپنی اولاد کو موت کی طرف مت دھکیلیں ؟




ایک کھلا خط ہی نہیں بلکہ آنے والے طوفانوں کی پیش گوئی ہے۔
زاہد کا بیگ، جوتے اور خط تھل کینال کے کنارے ملا اور مقامی افراد نے ہیڈ فردوس پر لاش دیکھ کر اطلاع دی۔ یہ واقعہ والدین اساتذہ اور ہمارے نظام کو آئینہ دکھانے کے لیے کافی ہے اور ایک سوالیہ نشان بھی چھوڑ گیا ہے کہ
 کہ ایسا کیا ہوگیا کہ  ایک  زندگی سے بھرپور انسان صرف اپنی ناکامی اور ماں باپ یا معاشرے کے خوف سے موت کو گلے لگانا قبول کرلیتا ہے آخر وہ اس نہج پر کیوں پہنچ جاتا ہے کہ اسے سوائے موت کے اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ ۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس طرح کے کئی واقعات سامنے آئے جہاں کبھی اساتذہ کے رویوں سے دل برداشتہ ہوکر تو کبھی والدین کے خوف سے نوجوان اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں مگر مجال ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہوں ، اجتماعی سطح پر نہ سہی کم از کم ہم انفرادی طور پر تو اپنے رویے کو بہتر بنا سکتے ہیں نا
سب سے پہلے تو دیکھتے ہیں کہ اس صورت حال کا ذمہ دار آخر ہے کون؟
جس معاشرے میں غربت ، مہنگائی ، نا انصافی ، تعلیم پرعدم توجہ ،بے حیائی کا فروغ،  غیر مساوی سلوک ، سود ی نظام ، گناہ آسان نیکی مشکل ، اساتذہ کا استحصال ہو۔ جہاں روزگار کے کوئی مواقع نہ ہوں  بلکہ
لاکھوں نوکریاں دینے کا دعوی کرنے والے صاف مکر جائیں کہ روزگار کے لیے ہماری طرف مت دیکھیں،جہاں روزانہ کی بنیاد ہر ہزاروں لوگوں کی نوکریوں سے فارغ کر دیا جائے، جہاں کاروبار بند ہورہے ہوں  تو یہ  سارا پریشر ایک سیلاب کی طرح والدین پر  آتا ہے جو اپنی اولاد کو پڑھا لکھا کر کچھ بنادینے کے چکر میں دن رات اپنی ہڈیوں کا قورمہ بنا دیتے ہیں اور اس کے باوجود ان کو وہ رزلٹ یا تعلیم میں دلچسپی نظر نہیں آتی تو ظا ہر ہے وہ اپنے بچوں پر ذہنی دبائو ڈالیں گے۔
لیکن یہاں جو سنگین غلطی ہم سب دہراتے ہیں وہ ہیں منفی الفاظ جو بچے کا اعتماد برباد کردیتے ہیں،
"فلاں کے بیٹے نے اتنے نمبر لیے ہیں۔۔
تمہیں کس چیز کی کمی ہے؟
دن رات محنت کرکے تمہاری فیس اور دیگر اخراجات پورے کررہے ہیں۔ پھر بھی تم ہی سب سے پیچھے ہو "۔
تم ہو ہی نالائق !
تم کبھی زندگی میں کچھ نہیں کر سکتے لگتا ہے ریڑھی لگا ئو گے !
کیاآپ کو اندازہ ہے کہ ایسے زہرآلود جملوں کا بچوں کےدماغ پر کیا اثر پڑتا ہے؟
سب سے پہلے  ان کے دل میں ایک احساس جرم اور پھر ایک احساس کمتری جنم لیتا ہے،اس کے بعد حسد ،جھوٹ ، بے حیائی ،نشہ ، بری صحبت اور انتقامی جذبات جنم لیتے ہیں یہ وہ کمزور لمحات ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر کوئی بھی آپ کے بچے کی زندگی سے کھیل سکتا ہے ، پھر آپ کو کیا حاصل ہوا ؟
ایک ہنستے کھیلتے زندہ دل انسان کو آ پ نے زندہ لاش بنا دیا۔

ویسے یہاں ایک بات اور بھی اہم ہے کہ ہم والدین بھی کتنے عجیب ہیں نا کہ دنیا کے امتحان کے رزلٹ سے اتنا ڈرادیتے ہیں کہ بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کاش کبھی ہم نے اپنی اس نسل کو اللہ سے ، یوم حساب اور اس دن کے رزلٹ سے بھی ڈرایا ہوتا تو آج ہمارے بچوں کا یہ حال نہ ہوتا ۔ کیونکہ جس کام میں اللہ کو شامل کریں تو پھر وہاں خیر ہی خیر ہوتی ہے لیکن جب ہمارے ہر عمل کا مقصد صرف دنیاوی فائدہ ، دنیا میں مقام حاصل کرنا شامل ہو تو پھر اللہ بھی ایسے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتا ۔
صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے ذکر کے لیے وقت نکالو ، میں تہمارے کام میں برکت عطا کروں گا ورنہ دنیاوی کاموں کی کثرت تم پر اس قدر مسلط کر دوں گا کہ تمہیں فرصت ہی نہ ہوگی اور سکون سے بھی محروم رہو گے۔
تو کیا ایسا نہیں ہے ؟  
اگر آج کے بچوں پرغور کریں تو ایک عجیب سی برائلر زدہ  مخلوق نظر آئے گی جس کی فطرت میں آرام طلبی ، ہٹ دھرمی ، انٹرنیٹ کے ذریعے فضول قسم کی سرگرمیوں میں وقت کا ضائع کرنے کا نشہ اتر چکا ہے۔ تربیت تو اب نہ گھروں میں کی جاتی ہے نہ سکولوں میں ۔ اب بچے وہی سیکھتے ہیں جو انٹرنیٹ یا حالات انہیں سکھاتے ہیں۔ ان کے لیے موجودہ دور میں کوئی رول ماڈل نہیں جس کے لیے وہ اپنے آپ کو بدل لیں اور جو رول ماڈل ہے ہمارے پیارے نبیﷺ کی ذات، ان کے بارے میں انہیں ہم کچھ نہیں بتاتے، پھر گھروں میں غیر متوازن رویہ یا تو بے جا لاڈ پیار یا پھر بہت زیادہ سختی کی جاتی ہے۔ یہاں سکولوں اور والدین کی  بس ایک ہی ہوس ہے نمبر لینے کی کیونکہ میرٹ کی تلوار جو لٹک رہی ہے، شخصیت  چاہے برباد ہوجائے نمبر پورے آنے چاہییں ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہر بچہ  ایک جیسی صلاحیت لے کر پیدا ہوا ہو، کوئی انگریزی میں اچھا ہے تو کوئی حساب میں، تو کوئی سائنس میں! اب ہر چیز میں پرفیکشن چاہیے تو وہ کہاں سے لائی جا سکتی ہے۔ہمارے گھوڑے اور گدھے کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے باعث  آج نئی نسل میں کوئی سائنس دان،مقرر، ادیب یا مفکر پیدا نہیں ہورہا۔
یا د رکھیں اللہ نے ہر بچے کو الگ الگ ذہنی استعداد سے نوازا ہے لیکن ہم معاشرے کے ہاتھوں مجبور ہوکر ان پر اتنا بوجھ لاد دیتے ہیں کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ انسان کم اور خلائی مخلوق زیادہ لگتے ہیں اور اس دبائو کے نتیجے میں ان کے اندر ایک عجیب سا انتقامی رویہ پیدا ہوجاتا ہے وہ ماں باپ استاد معاشرے اور پھر اپنے آپ سے بھی نفرت کرنے لگ جاتے ہیں یہاں اگر ان کو توجہ نہ دی جائے تو وہ خود کشی کے اقدام پر مجبورہوجاتے ہیں۔
نمبر کم آنے پر طالب علموں کی خودکشی درحقیقت قتل ہے جو اسکول ، والدین اور معاشرہ مل کر سرانجام دیتے ہیں۔ جن کی ناک بچے کے نمبر کم آنے پہ کٹ جاتی ہے کیا اب اس کے دنیا سے چلے جانے پر وہ عزت بحال ہوگئی ۔ہمیں تو آج تک یہی معلوم نہیں ہوسکا کہ
تعلیم کا اصل مقصد ، شعور حاصل کرنا ہے  نمبر اورنوکریاں حاصل کرنا نہیں اور اگر کامیابی کا دارومدار صرف نمبروں پر ہوتا تو دنیا کے بیشتر امیر ترین افراد پوزیشن ہولڈر ہوتے ۔
خدا را ابھی بھی وقت ہے ، صرف پندرہ بیس ہزار کی نوکری کے لیے اپنے بچوں کو ذہنی مریض مت بنائیں،زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اسے شرمندگی مت بنائیں۔
آپ کے دبائو سے ان کی خداداد صلاحیت دب کر رہ جاتی ہے کیا پتہ اگر وہ سامنے آجائے تو وہ بچہ انقلاب برپا کردے۔سوچیے گا ضرور!


https://www.naibaat.pk/Columnist/174


Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

آپ کا صرف ایک ریمارکس کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے ،امانت،،سچائی ،عدل ،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں ۔ظلم وناانصافی کےاس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی روئیوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔ دوسرے منقی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں  زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا  واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ  ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ ...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...