Skip to main content

بھکاریوں کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو گیا


 

آج کل ایک مسئلہ مجھے بہت زیادہ پریشان کررہا ہے شائد آپ لوگوں کوبھی اس بات سے پریشانی ہوتی ہو۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے میں آپ کو صرف ایک دن کی روداد سناتی ہوں۔ میرے شوہر بچوں کو سکول لینے گئے تو ایک اچھی بھلی صحت مند عورت نے گود میں ایک شیرخوار بچہ لیے گاڑی کا دروازہ کھٹکھٹایا اوربھیک مانگنے لگی۔ اسوقت صورتحال یہ تھی کہ چھٹی کے وقت سڑکوں پررش کی وجہ سےٹریفک بلاک تھی۔ جس پراسے منع کیا تو وہ باز نہ آئی اور بار بار دروازہ بجاتی رہی۔ جب میرے شوہر نےاسے جھڑکا تو بد دعائیں دینے لگی۔اس واقعے کا بچوں پر منفی اثر ہوا کہ باپ نے ایک ضرورت مند کی مدد نہیں کی۔ 

بھکاریوں کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو گیا    



خیر ان کو میں نے سمجھایا کہ یہ لوگ عادتاً بھیک مانگتے ہیں ان کو چاہیے، کوئی مزدوری کریں اور اس سے بہتر ہے آپ کسی غریب پھل فروش کو زیادہ پیسے دے کر اس کی مدد کردیں۔ بات آئی گئی ہوگئی اس کے بعد میرے شوہر جب عصر کی نماز پڑھنے مسجد گئے تو نماز ختم ہوتے ہی ایک بہت ہی اچھے حلیے میں ایک شخص نے ان کے پاس آکر کہا کہ میرا بجلی کا بل آٹھ ہزار روہے آیا ہے جو میں ادا نہیں کر سکتا میری تنخواہ پندرہ ہزار ہے پلیز میری مدد کردیں یہ اللہ کا گھر ہے یہاں سے مجھے خالی ہاتھ مت لوٹائیں۔ اس کے بعد وہ زار وقطار رونا شروع ہوگیا بحرحال وہاں لوگوں نے اس کی مدد کر دی ۔ شام کو ہم لوگ اپنے بھائی کے گھر گئے تو انہوں نے بتایا کہ دیکھیں لوگ کتنے پریشان ہیں آج ہماری مسجد میں ایک اچھا بھلا شخص عشا کی نماز کے بعد بھیک مانگ رہا تھا اس نے بجلی کا بل جمع کروانا تھا پھر ہم سب نے اس کی مدد کی ۔ میرے شوہر نے اس کا حلیہ پوچھا تو وہ ہو بہو وہی تھا جو عصر کے وقت ان کی مسجد میں مانگنے والے شخص کا تھا۔ آپ زرا طریقہ واردات چیک کریں کہ کتنے مقدس مقام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے اور کتنے بڑے ماہر نفسیات ہیں یہ بھکاری ۔ یہی کام وہ شخص لاہور کی دو تین مسجدوں میں روزانہ کر لے تو اس کی تو اچھی خاصی آمدن ہوگئی ،اس کو کام کرنے کی کیا ضرورت پڑی ہے اور پھر کتنے ضروت مندوں کا حق مارا جا رہا ہے؟
اچھا اب ہم بھائی کے گھر سے نکلے تو اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے تھے جیسے ہی پیسے لے کر باہر نکلے ایک بہت ہی بھلے چنگے نوجوان نے گاڑی کی کھڑکی بجادی ،ہم سمجھے کوئی جاننے والا ہے لیکن جیسے ہی شیشہ اتارا اس نے مدعا بیان کیا کہ میری ماں ہسپتال میں زندگی موت کی جنگ لڑ رہی ہے میرے پاس دوائی کے پیسے نہیں ہیں پلیز مجھے پانچ ہزار دے دیں اللہ آپ کا بھلا کرے۔
اس کے بعد مجھے میڈیکل سٹور سے دوائیں لینی تھیں میں جب دوائی لے کر نکلی تو ایک عورت اس طرح میرے پائوں سے لپٹ گئی کہ شائد میں منہ کے بل گر جاتی۔ کہنے لگی باجی صبح سے بچوں نے کچھ نہیں کھایا باجی خدا کے لیے کچھ مدد کریں ۔ میرا بچہ دودھ کے لیے بلک رہا ہے مجھے ترس آیا میں نے اس کو سو روپے کا نوٹ تھما دیا اس نے میری طرٖف بہت عجیب اندازمیں دیکھا اور بولی اس سے کیا بنے گا میرا بیٹا تو لیکٹو جن پیتا ہے وہ تین سو کا ڈبہ آتا ہے میرا دماغ گھوم گیا ۔
اس کے بعد جس چوک پر ہم کھڑے ہوتے کبھی دائیں کبھی بائیں گویا ایک بھکاریوں کی یلغار تھی جو ہمیں پاگل کردے۔ پٹرول پمپ سے پٹرول ڈلوایا تو باہر نکلتے ہی ایک انتہائی خوبصورت بچہ گلے میں بستہ ڈالے کھڑکی بجانے لگا کہ اللہ کے واسطے پیسے دے دیں میرے پاس سکول کی فیس نہیں ہے ، میں پڑھنا چاہتا ہوں۔
اس کے بعد پھر بچوں نے آئس کریم کھانے کی فرمائش کی وہاں بھی پانچ منٹ کے اندر اندر بیس لوگوں نے دروازہ بجایا ۔ گھر آنے تک ہر چوک پر کبھی نقاب پوش لڑکیاں کبھی زنخے کبھی لنگڑے کبھی اندھے کبھی بچے الغرض ایک بھکاریوں کا ہجوم تھا جس نے ہمارا سارا سفر دشوار بنادیا اور وہ وقت جو ہم اپنے بچوں کو تھوڑی سی خوشی دینے کے لیے رکھا تھا وہ سارا ذہنی اذیت میں گزر گیا۔
یہ تو ایک دن کی روداد ہے نا ، یہ روزانہ ہر لمحے پرجگہ پر چوبیس گھنٹے ہوتا ہے میڈیکل سٹور ہو ہسپتال ہو ، کوئی تفریحی مقام ہو ، فوڈ پوائنٹ ہو ، اسٹیشن ہو یا اشارہ ہو آپ کو ہر وقت اس اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار تو احساس گناہ بھی ہوتا ہے لیکن کیا یہ ہماری ذمہ داری ہے ان کا پیٹ بھرنا یا پھر ان کی جو ہمارے حکمران ہیں؟
موجودہ مہنگائی اور ٹیکسوں نے تو ہماری اپنی کمر توڑ دی ہے
میڈیکل سٹور ، اے ٹی ایم ، آئس کریم ، پٹرول ڈلوانے سے لے کر بل ہوں یا عام اشیائے ضرورت ،کون سی چیز ہے جس پر ہم ٹیکس نہیں دے رہے تو پھر یہ معاشرے میں روز بروز بڑھتے بھکاری کس کی ذمہ داری ہیں اور کیا ہمارے لیے اب سکون کا سانس لینا بھی ایک عذاب بن گیا ہے۔
ہمارےوزیر اعظم اقوام متحدہ گئے، تاریخی خطاب کیا جس سے ہمارا سر فخر سے بلند ہو گیا ،اس موقع پر انہوں نے گلوبل وارمنگ کے لیے اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا وہ بھی بلا شبہ ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ لیکن بس ایک درخواست ہے کہ اگر آپ کو واقعی ایک عظیم لیڈر بننا ہے تو پہلے اپنے ملک کے عوام کے مسئلے بھی تو حل کرنا ہوں گے نا۔
یہ مانا پچھلی حکومتیں کرپٹ تھیں چلیں آپ تو ایماندار ہیں نا آپ کیوں نہیں کوئی اچھا نظام بنا دیتے معاشرے کی بہتری کے لیے۔
ملک کے پر شعبےکے لیے بھاری تنخواہوں پر وزیر تعینات کیے جاتے ہیں تو ان کی کارکردگی کیا ہے ؟ آخر ان کو عوام کی فلاح کے لیے ہی اسمبلیوں میں بھییجا گیا ہے نا تو پھر فلاح کیوں نظر نہیں آرہی ؟
باقی تعلیم صحت ایک طرف ،آپ صرف اس ایک مسئلے کو سنجیدہ لے لیں کہ کسی طرح ان روز بروز بڑھتے بھکاریوں کے لیے کوئی نظام بنا دیں جو ان کو کنٹرول کرے۔ ان کی وجہ سے ضرورت مندوں کا حق مارا جاتا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ  پاکستن کاشمار سب سے زیادہ خیرات دینے والے ممالک میں ہوتا ہے شائد اسی لیے یہاں گداگری ایک پیشہ مافیا کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔

جناب وزیر اعظم صاحب!
 پسماندگی اورغربت کے باعث بھکاریوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ پورا نیٹ ورک ان گداگروں کے پیچھے کام کر رہا ہے جس کا سراغ لگایا جانا ضروری ہے۔ جس طرح پولیو کےخاتمے اور ڈیم بنانے کے لیے پوری منظم  مہم چلائی جاتی ہے ویسے ہی اس مسئلے کے لیے بھی چلائی جائے۔ یہ درست ہے کہ بہتر سالوں کے مسائل ایک سال میں حل نہیں ہوسکتے لیکن آپ خلوص نیت سے ٹھان لیں تو یقین مانیں ایک ایک کرکے سب مسئلے حل ہوجائیں گے او عوام آپ کا بازو بن کرکھڑے ہوں گے۔


https://www.naibaat.pk/Columnist/174

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...