Skip to main content

عرش والا جب زمین ہلا دیتا ہے۔۔۔انسان کو اس کی اوقات دکھا دیتا ہے

عرش والا جب زمین ہلا دیتا ہے۔۔۔انسان کو اس کی اوقات دکھا دیتا ہے
کوئی ایسا دن نہیں ہے جس میں کوئی انہونی نہ ہو، روز ایک دل خراش واقعہ ،ایک نیا سانحہ سامنے آتا ہے اور اس پر ہم سب کی بےحسی اور حکمرانوں کی عدم توجہی کا رویہ معاشرے میں ایک عجیب سی مایوسی پھیلا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیسی لاچاری اور بیماری ہے جس کا علاج نظر نہیں آرہا ۔ ایک ہجوم کی طرح ہم سب بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں ۔صبح سے شام ہو جاتی ہے اور پھر رات سے صبح مگر مجال ہے کہ کسی ایک دن کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے ۔گھر،دفاتر کے مسائل اپنی جگہ ، میڈیا اور سوشل میڈیا میں سامنے آنے والے لاتعداد واقعات بھی ہمیں جذباتی طور پر بہت کمزور بنا رہے ہیں ۔اس وقت ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں جنگل کا قانون نافذ ہے جہاں کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں سب کے اپنے اپنے مسائل اور اپنی اپنی جنگ ہے۔  اس لائف سٹائل میں دین ، اخلاق اور ضوابط کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہے۔ میں کس کس بات کا ذکر کروں ، چلیں اس ایک ہفتے کے واقعات کو ہی دیکھ لیں۔



سب سے پہلے تو کشمیر کے معاملے پر اسلامی ممالک کی بے
  حسی پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ آپ اپنے سامنے اپنے بہن بھائیوں کو تڑپتا دیکھ رہے ہیں مگر ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود آپ کو ڈرایا جاتا ہے بھوک اور افلاس سے اور ہمارے حکمران ببانگ دہل قوم کو منع کرتے نظر آتے ہیں خبردار جو نام لیا کشمیریوں کو بچانے کا ، یہ بہت بڑا ظلم ہوگا۔ پھر دنیا دیکھتی ہے کہ ٹرمپ اور مودی کس طرح کشمیر کی فتح کا جشن منارہے ہیں اور کھلے عام اسلام پر دہشت گردی کا لیبل لگا رہے ہیں جبکہ ہمارے وزیراعظم کو ملاقات میں چورن پیش کردیا جاتا ہے۔ عالمی منظر نامے میں ہم کہاں کھڑے ہیں یہ سوچ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ کیا ہم اتنے بے غیرت ہیں کہ کوئی کچھ بھی  کہےہم چپ کر کے سن لیں گے کیونکہ بھکاریوں کی کوئی غیرت نہیں ہوتی۔
پھر میں اپنے ملک کے واقعات پر نظر دوڑائوں تو کبھی معصوم ذہنی مریض صلاح الدین کی المناک موت کا منظر نظر آتا ہے کبھی ساہیوال کے ننھے فرشتے انصاف سے مایوس نظر آتے ہیں۔کبھی پتہ چلتا ہے کہ بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے مل جاتے ہیں۔
کبھی ٹک ٹاک کے ہاتھوں بگڑی نسل کا  انجام نظر آتا ہے کہ کس طرح میوزک میں مست ٹک ٹاک کی ویڈیو بناتے بناتے چار نوجوان موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ہاں البتہ ان کی موت پر سوشل میڈیا کے پر پلیٹ فارم پر ماتم ضرور نظر آتا ہے لیکن قصور ﻣﯿﮟ جہاں ﭼﺎﺭ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺑﭽﻮﮞ کےﺳﺎﺗھ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺎٹ دیا ﮔﯿﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻻﺵ ﭘﻮﺭی تھی تو کسی ﮐﯽ ﺁﺩﮬﯽ۔۔
لیکن ان کے حق میں کوئی آواز بلندہوتی نظر نہیں آتی ۔
سوچیں زرا کیا گزرہی ہوگی ان کے ماں باپ پرکیا گزﺭﯼ ﮨﻮﮔﯽ۔
تبدیلی حکومت سے پہلے اور بعد یہ واقعات مسلسل رونما ہو رہے ہیں کتنی مائوں کی گود اجڑ چکی ہے کون ہے ان کا پرسان حال ؟
حال ہی میں سرگودھا کے چک 47 کے ایک پیر نے جن  نکالنے کیلئے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک بچہ انتقال کر گیا۔

اچھا چلیں ایک اور واقعہ دیکھیں سندھ میں ایک بچہ کتا کاٹنے کے بعد ماں کی گود میں سسک سسک کر مرجاتا ہے کیونکہ اس کی ویکسین دستیاب نہ تھی آپ صرف ایک بار خود کو اس ماں کی جگہ رکھ کرسوچیں۔
چلیں یہ بھی معمولی بات صحیح ، ایک بچی کا ہسپتال میں انتقال ہو جاتا ہے وہ میت لے جانے کے لیے ایمبولینس کا دو ہزار مانگتے ہیں بچی کا باپ اور چچا غریب ہیں موٹرسائیکل پر ہی بچی کی میت لے جا رہے ہوتے ہیں کہ پریشانی میں ان کی بائیک کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے اور باپ اور چچا بھی اللہ کو پیارے ہوجاتے ہیں۔
تو ساتھیو یہ ہے ہمارے معاشرے کا مکروہ چہرہ !
کیا یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھاتھا یا یہ وہ روشن پاکستان ہے جس کی بنیاد قائد اعظم نے رکھی تھی ؟
کیا ستر سالوں میں ہم نے یہ ترقی کی ہے۔
 ارے ہم نے تو سب کچھ کھودیا اپنی عزت اپنا وقار اپنی غیرت اپنا سرمایہ اپنی ہستی اپنا ایمان
اور کہتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں!
یہاں پر ایک اور واقعہ سامنے آیا جب چہرے پر بے شمار زخم لگے ایک بزرگ کی سلاخوں کے پیچھے ایک تصویر نظر سے گزری پتہ چلا کہ یہ نہ تو کوئی مجرم ہے نہ ہی انہوں نے کوئی غبن کیا ہے بلکہ یہ پیشے کے اعتبار سے معلم اور پی ایچ ڈی فزکس ہیں ان کا نام پروفیسر جمیل ہے انہوں نے جہلم میں ڈی سی او آفس جا کر پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی کے خالف سرخواست دی ،جس پر ڈی سی صاحب نے پولیس کے ذریعے اس عظیم اُستاد پر خوفناک تشدد کروا کرانِہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا اب جس معاشرے میں سفید بالوں اور ایک معلم کی  یہ عزت ہو وہاں خشک سالی ہونا ،وباوں کا پھوٹ جانا اور زلزلوں کا آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔






ہم وہ بے حس قوم ہیں جو مینڈکوں کو ڈی پیز لگا کر، مینڈکوں کے سٹیٹس لگا کراور ویڈیوز بنا کر اپنا اپنا حصہ ڈال کر خوش ہےکہ ہم نے معاشرے کی بہتری کا حق ادا کردیا

مگر اوپر بتائے جانے والے کسی واقعے سے ہمارے اوپر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ یہ ہمارا درد نہیں ہے۔
کیوں کہ احساس، شرم مرچکی ہے یار اس قدر ہم بےحس ہوچکے ہیں ؟ کیا یہ مقصد تھا سُوشل میڈیا کا؟
افسوس صدافسوس کس کس چیز پہ روئے بندہ۔۔۔۔۔
اور پھر زرا دیکھیے کہ اگلے ہی پل میں
عرش والا جب زمین ہلا دیتا ہے۔۔۔انسان کو اس کی اوقات دکھا دیتا ہے
ہماری آنکھوں کے سامنے ہی منظر تھا جب چند لمحوں کے زلزلے نے مضبوط عمارتیں اور سڑکیں زمیں بوس کردیں ۔ اس کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بن گئیں پل میں منظر بدل گیا وہ بھی ہم میں سے ہی تھے اور ہم بھی ان میں ہوسکتے ہیں تو پھر غفلت کیسی یاد رکھیں ایک ایسا زلزلہ بھی آنا ہے جس کی ویڈیو یا تصویر بنانے والا کوئی نہ ہوگا۔ تو کیا آپ اس وقت تک خود کو نہیں بدلیں گے۔ 
انسان اس رب العالمین کے آگے بے بس ہے، وہ چاہے تو ایک جھٹکے میں زمین و آسمان ایک کردے اورایک سانس کی بھی مہلت نہ دے۔ لیکن ابھی جو مہلت ملی ہے اس کو غنیمت سمجھیں توبہ کریں اور ہر کوئی اپنے کیے کی معافی مانگے ۔اپنے آپ کو بدلنے کا آغاز کریں انشا اللہ یہ معاشرہ بھی ضرور بہتری کی طرف گامزن ہوجائے گا مگر یاد رہے قدرت بار بار موقع نہیں دیتی۔







https://www.naibaat.pk/27-Sep-2019/26578

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

آپ کا صرف ایک ریمارکس کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے ،امانت،،سچائی ،عدل ،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں ۔ظلم وناانصافی کےاس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی روئیوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔ دوسرے منقی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں  زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا  واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ  ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ ...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...