Skip to main content

کاش آج بھی مائیں ان پڑھ ہوتیں




آج میں نے اپنے کالم کا جو عنوان تجویز کیا ہے وہ بہت عجیب ہے اور اتنی بڑی بات اتنے وثوق سے کہنا آسان نہیں کیونکہ میں خود بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں اور یہ سب باتیں جو کہنے جا رہی ہوں  ہوسکتا ہے کہ میری کئی بہنیں مجھ سے اختلاف کریں لیکن موجودہ حالات اور نئی نسل کو سامنے دیکھ کر مجھے تو یوں ہی لگا کہ کاش آج بھی مائیں ان پڑھ 

کاش آج بھی مائیں ان پڑھ ہوتیں

ہوتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہماری مائیں جنہوں نے کبھی فیس بک دیکھی تھی نا یو ٹیوب لیکن انہیں معلوم تھا کہ گھر والوں کی صحت کا خیال کس طرح رکھنا ہے؟ ہماری مائوں کو کس نے یہ بتایا تھا کہ کالے چنے ، لال لوبیہ ، بیف ، مکھن والی روٹی ، چاٹی کی لسی ، پائے،  بونگ، ہمیں کس تناسب سے دینا ہے ؟ مجال ہے کبھی ہم تھکے ہوں یا نڈھال ہوئے ہوں۔وہ یہ بھی  جانتی تھیں کہ بچوں کو فریزر میں رکھی ہوئی چیز نہیں کھلانی اس سے بیماریاں ہوتی ہیں،ہمیشہ  تازہ کباب تازہ کھانا ،وہ تو انپڑھ تھیں لیکن ہم کیا کرتے ہیں ہمارا تو دارومدار ہی فروزن پر ہے؟
تو پھر ہم سمجھدار ہیں کہ وہ انپڑھ مائیں؟

موجودہ دور میں ماہرین بتا تے ہیں کہ جو بچے ناشتہ کر کے نہیں جاتے کس طرح ان کا معدہ السر کا شکار ہوتا ہے اور ان میں قوت مدافعت کمزور ہوجاتی ہے لیکن مائیں اولاد کے ہاتھوں اتنی مجبور کہ وہ جو مرضی کرے کھائے نہ کھائے اسی طرح خالی پیٹ سکول کالج جا کر کینٹین سے کوک پی لی یاچپس کا پیکٹ کھا لیا چلو جی ناشتہ ختم۔
ہمارے زمانے میں تو ماں ٹینڈے بھی پکاتی تھی تو کھانا کھاتے وقت اتنے غصے سے دیکھتی تھی کہ اس میں گوشت نظر آنے لگتا تھا۔
آج کل کی مائیں، بچہ کھانا نہ کھائے تو پچاس آپشن دیتی ہیں اچھا چلو فرائز بنا دیتی ہوں چلو برگر لے لو لیکن ہماری مائیں کہتی تھیں کھانا کھائو یا جوتا تیسرا آپشن کوئی نہیں تھا؟
ابھی کل ہی اشفاق احمد مرحوم کی ایک بات نظر سے گزری کہتے ہیں کہ آج اگر بچے کے ہاتھ سے نوالہ گر جائے تو ماں کہتی ہے رہنے دو، اسے مت کھائو جا کر ہاتھ دھو لو جراثیم لگ جائیں گے جب کہ پہلے ہم سے شاہی ٹکڑے کا نوالہ بھی گرجاتا تو ماں کہتی کہ بیٹا رزق ہے اٹھائو اور بسم اللہ پڑھ کر کھا لو ، کیونکہ انہیں جراثیم سے زیادہ اللہ کی ناراضگی کا خوف ہوتا تھا۔

ہماری مائیں ماہر غذائیات ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ماہر نفسیات بھی تھیں وہ چہرہ دیکھ کر دل کی حالت کا اندازہ لگا لتیی تھیں ۔
بیٹی ہو یا بیٹا ایسی اچھی تربیت کہ کوئی مثال نہیں میں تو حیران ہوں کہ کسی کے بھی آٹھ یا دس سے کم بچے نہیں تھے مگر کبھی کسی کی جرات نہیں کہ ماں باپ کے آگے اونچی آواز میں بات کر سکے۔  بچیوں کو کم عمری میں ہی دوپٹہ اوڑھنا ، غیرو ں سے فاصلہ رکھناسکھا دیا جاتا تھا ،ماں تو یہ بھی سکھا دیتی تھی کہ بیٹھنے وقت ٹانگیں کس طرح رکھنی ہیں دوپٹہ کیسے اوڑھنا ہے لیکن آج کل کی پڑھی لکھی مائوں کو کچھ کہا جائے تو فوراً جواب آتا ہے ابھی بچی ہے !
مائیں گھر داری سکھا دیتی تھی اور باتوں باتوں میں سسرال میں رہنے کے طور طریقے بھی۔
کسی کے سامنے اونچی آواز میں نہیں بولنا، ساس سسر کی خدمت کرنی ہے شوہر کا احترام کرنا ہے روز روز میکے نہیں آنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ نصیحتیں ہیں جو ماں اپنی بیٹی کو کرتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ شائد ہی کوئی طلاق کا واقعہ پیش آتا ہو سب لڑکیاں اپنے گھروں میں شاد آباد رہتی تھییں۔ فیملی سسٹم مضبوط تھا۔
ہماری ان پڑھ مائوں کی میک اپ کٹ میں بھی بس ایک مہندی، سرخی پائوڈر یا ایک دنداسہ ہوتا تھا ۔ جس کا خرچ دو روپے سے بھی کم تھا۔ اور آج مائیں فیس بک اور انسٹا گرام پر بیٹھی کتنے کتنے گھنٹے لائیو میک اپ سیکھ رہی ہوتی ہیں ان کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ ان کے بچے اس وقت موبائیل پر کیا دیکھ رہے ہیں؟
سب سے بڑی چیز جو اس وقت کی ان پڑھ ماں میں تھی وہ اپنی اولاد کی حفاظت، وہ تو ایک نظر میں پہچان لیتی تھی کہ سامنے والے کی نظر کیسی ہے کسی کی جرائت نہیں تھی کہ غلط نظر ڈال سکے تو اس دور میں کتنے واقعات تھے جو کسی نے سنے ہوں گے جنسی تشدد کے ۔۔۔
رشتوں کا احترام ، مہانوں کی تواضع، صبر و تحمل ، نماز روزہ قرآن ، سکو ل کا کام کون سی چیز ہے جو ماں نہیں سکھاتی تھی ؟
اب ذرا غور کریں کہ کیا آج کل کی پڑھی لکھی ماں ان میں سے کوئی ایک کام بھی کر رہی ہے اور یہ ماننا پڑے گا کہ ہم پڑھی لکھی مائیں اس معاملے میں ناکام ہیں
گزشتہ روز میں نے فیس بک پر ڈے کئیر سنٹر کی چار پانچ ویڈیوز دیکھیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں بچوں سے کتنا ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے میری تو روح ہی کانپ اٹھی ، بھئی ایک پڑھی لکھی ماں ہی برداشت کرسکتی ہے ان پڑھ ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہونے دیتی ۔ پہلے تو بچے چھ سال کے بعد ہی سکول داخل کرائے جاتے تھے اور ابتدائی تربیت ماں کی گود میں ہوا کرتی تھی، اب دو اڑھائی سال کا بچہ ہی ماں باپ سے دور کر دیا جاتا ہے اس مادہ پرستی کے دور نے اولاد کو ماں باپ سےکتنا دور کردیا ہے کہ ایک گھر میں رہتے ہوئے انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اولاد کیا کر رہی ہے ؟
ٹک ٹاک سٹار سولہ سالہ دانیال کی پانچ دوستوں سمیت  موت کا واقعہ  ہو یا چلتی ٹرین کے سامنے شوقیہ سیلفی لینے والے دو دوستوں کی  ہلاکت ، نوجوانوں میں روز بروز بڑھتی جنسی  بے راہ روی ہو یا خود کشی کا رحجان  ان سب کے پیچھے سب سے واضح ایک ہی عنصر ہے اور وہ ہے ماں باپ کی عدم توجہی ۔ بس یہ حالات دیکھتی ہوں تو دل کڑھتا ہے اور سوچتی ہوں کاش میں بھی ان پڑھ تنگ نظر اور دقیانوس ہوتی کیونکہ اگر تعلیم سے یہ شعور ملتا ہے تو پھر یہ تو نری تباہی ہے۔

اس تحریر سے ہرگز یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے کہ میں تعلیم کے خلاف ہوں بس افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے تعلیم کا نام صرف ڈگری لینا رکھ دیا ہے اور عمل کا پہلو بہت کم ہے۔ دوسرا تعلیم کے ساتھ ساتھ نسل در نسل منتقل ہونے والی اقدار کی پاسداری بہت معنی رکھتی ہے اگر عورت تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ان روایات کی امین بھی ہوں جن پر عمل کر کے ہماری مائوں نے ایک بہترین نسل کو پروان چڑھایا تو یقینا روایات اور تعلیم کا امتزاج ایک کامیاب معاشرے کا ضامن ہوگا۔ میری قوم کی مائوں سے درخواست ہے ملک کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے ابھی بھی وقت ہے آپ چاہیں تو اسے سنوار سکتی ہیں۔



Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...