Skip to main content

ہمارا سب سے بڑا المیہ ۔۔۔۔۔ کس سے فریاد کریں؟



زندگی مسائل سے عبارت ہے اور ان ہی مسائل کو خندہ پیشانی سے حل کرنا اور آگے بڑھتے جانا ہی زندہ دلی کی علامت ہے۔ لیکن ناجانے کیوں وہ پریشانیاں جو پہلے ہم منٹوں میں حل کرلیتے تھے اب وہ ہمیں ایک پہاڑ کی طرح لگتی ہیں شاید ہم تھک گئے ہیں یا پھر ہم آسائشوں کے عادی ہوگئے ہیں؟ گھر کے معاملات ہوں ، کاروبار ہو ،ملازمت ہو ، خریداری ہو، سفر ہو، بیماری ہو یا پھر بچوں کی تعلیم کا معاملہ ہر چیز الجھی الجھی نظر آتی ہے۔ کئی بار تو میں یہ سوچ فیصلہ ہی نہیں کر پاتی کہ آخر ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے کیا؟


     گھروں میں بے سکونی ہے برکت نہیں، اولاد کی تربیت ٹھیک نہیں ہو رہی، رشتہ داریوں میں مفادات پرستی کا عنصر غالب آگیا ہے، گھر سے باہر نکلو تو آس پڑوس کی کوئی خبر نہیں ہر کوئی اپنے اپنے حال میں مست ہے۔ نوکریوں کا کوئی حال نہیں سرکاری ملازم ہوں تو وہاں ان کا کوئی پرسان حال نہیں معمولی سے کام کے لیے بھی رشوت دئیے بغیر آپ کا کام نہیں چل سکتا۔ ایک معمولی سا کلرک بھی آپ کو ناکوں چنے چبوا دیتا ہے۔
آپ کوعدالتوں کا سامنا کرنا پڑے توپتہ لگ جاتا ہے کہ زندگی کس بلا کا نام ہے پیسہ پانی کی طرح بہہ جاتا ہے مگر سال ہا سال کیسوں کے فیصلے نہیں ہوتے فیسوں پر فیسیں دئیے جائو پوچھنے والا کون کوئی نہیں؟
آپ کو کوئی مسئلہ ہو اور اسپیشلسٹ ڈاکٹر پر جانا پڑ جائے تو وہ آپ سے پہلے پانچ ہزار فیس لے گا پھرمہنگی سے مہنگی دوا لکھ کر سے گا ،ساتھ ٹیسٹ اور پھر اگر وہ رپورٹس چیک کروانے جائو تو پھر سے آدھی سے زیادہ فیس دینی پڑتی ہے۔ اگر سرکاری ہسپتالوں میں جائو تو کوئی گارنٹی نہیں آپ کے ساتھ کیا ہو؟
پوچھنے والا کوئی نہیں؟
اللہ نہ کرے کسی غریب کو پولیس والوں کا سامنا کرنا پڑے۔ کیونکہ اثر ورسوخ ،پیسے کے بغیر یہ آپ کو زمین پر بٹھا دیں گے مگر آپ کا مسئلہ حل نہیں کریں گے؟ بڑے سے بڑا واقعہ ہوجائے معصوم شہریوں پر تشدد کر کے جان سے بھی مار دیں تو پوسٹ مارٹم رپورٹ ان کے حسن سلوک کی مظہر ہوتی ہے۔
اب ذرا تعلیمی اداروں کی طرف آتے ہیں ہر سال باقاعدگی سے فیسوں میں اضافہ ہوجاتا ہے مگر بچوں کے لیے نہ تو قابل اساتذہ تعینات کیے جاتے ہیں نہ ان کی تعلیم و تربیت پر کوئی توجہ دی جاتی ہے۔ سکول میں سال ہا سال باقاعدگی سے جانے کے باوجود سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ آپ کا بچہ بغیر اکیڈمی کے نویں دسویں کا امتحان پاس کر لے۔ پھر یہاں سے والدین کے نئے امتحانات کا آغاز ہو جاتا ہے وہ صبح شام کے لیے دوہری فیسیں بڑھتے ہیں اور پھر بھی ہزاروں طلبا ہیں جو میرٹ کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور پھر کوئی کیرئیر گائیڈ لائن نہیں بس پرائیویٹ کالجز میں پڑھ کر ایک عجیب سی نسل تیار ہورہی ہے۔ لاکھوں روپے فیسیں خرچنے کے بعد جو بچہ تیار ہوتا ہے جب وہ مارکیٹ میں اپنا سی وی لے کر جاتا ہے تو اس کی قیمت دس سے پندرہ ہزار لگائی جاتی ہے جس سے اس کا پٹرول بھی پورا نہیں ہوتا۔
اس نسل کو دین کا الف بے کا نہیں پتہ ، تربیت تو بہت دور کی بات ہے ان میں خودداری ،فرماں برداری ، توکل غیرت اور برداشت جیسے کوئی عوامل نہیں پائے جاتے۔
یہ تو ہمارے اندرونی مسائل ہیں اور بحیثیت قوم ہم کہاں کھڑے ہیں کچھ پتہ نہیں ۔
ستر سال سے کشمیر ہمارا ہے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگانے والے اب ایک ماہ سے کشمیر میں بھارتی کرفیو کے باوجود صرف کاغذ کے کھلاڑی بنے ہوئے ہیں۔ سڑک پر نکلو تو حلقے کی ایم این اے ایم پی اے، اور اہم سیاسی رہ نمائوں کی طرف سے بڑے دھواں دھار پوسٹر لگائے گئے تھے
کشمیر بنے گا پاکستان ،مٹ جائے گا ہندوستان
مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ کیا صرف ان پوسٹروں سے کشمیر پاکستان بن جائے گا؟
حد ہوتی ہے!
اب تو غصہ بھی نہیں آتا بلکہ ہنسی آتی ہے۔ کہ ہم کس معاشرے کا حصہ ہیں۔
آخر ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے کیا؟
معاشرتی بے راہ روی
 کسی سمت کا تعین کیے بغیر اندھا دھند تقلید
ہوس ،لالچ ،خود غرضی
اداروں کا اپنے اختیارسے تجاوز کرنا
غیرت خودداری سے پاک معاشرہ
مہنگائی ، بے اصولی ،بے ضمیری
استاد جی سے سوال کیا کہ سمجھ نہیں آتی عجیب الجھن ہے کہ آخر ہمارے ساتھ ہوکیا رہا ہے؟ ان سب مسائل کی جڑ کیا ہے اور آخر ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے کیا کچھ رہنمائی کریں!
استاد جی نے گہری سانس لی اور بہت گھبیر لہجے میں بولے
بچہ جی المیہ تو ہے اور بہت بڑا ہے !
ہماری سب سے بڑی مجبوری رب سے دوری ہے!
ہم اپنے رب سے بہت دور ہو گئے ہیں پھر اس نے بھی ہمیں خود سے دور کردیا ہے
وہ رب جو کہتا ہے کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا تم شکر کرو میں اور زیادہ دوں گا
تو ہم میں سے کتنے ہیں جو اس کی طرف رجوع کرتے ہیں؟
دن میں وہ پانچ بار اپنی طرف بلاتا ہے
آئو کامیابی کی طرف آئو نمازکی طرف تو ہم میں سے کتنے ہیں جو اس آواز پر کان دھرتے ہیں؟
جب بھی کہیں بھی نوکری کرتے ہیں تو ہم میں سے ہر کوئی کوشش کرتا ہے کہ اپنے باس کو خوش رکھنے کی کوشش کرے اس کو راضی رکھے اس کو جو کام پسند ہیں وہ کرے حالانکہ وہ ہمارا دنیاوی حکمران ہے جب کہ روزی کا ذمہ دار اللہ ہے ۔ ہمارا حقیقی حاکم بھی وہی ہے ہم ایک ایک سانس کے لیے اپنے رب کے محتاج ہیں۔ تو ہم جب ایک نوکری کے لیے اس باس کی ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں تو جو ہمارا رب ہے پالنے والا ہے اس کی باتیں کیوں نہیں مانتے؟
جب ہم اللہ کی بجائے دنیا کے بتوں سے ڈرنا شروع کردیں تو یہ شرک ہی ہوتا ہے۔ پہلے زمانے میں پتھر کے بت تھے اور اب خواہشات کے بت ہوتے ہیں ان بتوں کو خوش کرنے میں ہم نے اپنے رب کو ناراض کر لیا ہے۔ ہم تو یہ کہتے ہیں نہ کہ میں نے نماز نہیں پڑھی تو یہ غلط ہے دراصل تیرے رب نے تجھے اس کی توفیق نہیں دی ۔ ہمارا دنیاوی باس جب ناراض ہوتا ہے تو نوکری سے نکال دیتا ہے لیکن یاد رکھنا جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو روٹی نہیں چھینتا بلکہ سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے بس ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر ہم آج بھی اپنی خواہشات کے بتوں کو پاش پاش کردیں اور اس رب کے آگے سجدہ ریز ہوجائیں اور اپنے گناہوں کی توبہ کریں تو وہ مایوس نہیں لوٹائے گا اور آہستہ آہستہ اس معاشرے سے اندھیرا مٹ جائے گا ۔

  


  


Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

آپ کا صرف ایک ریمارکس کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے ،امانت،،سچائی ،عدل ،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں ۔ظلم وناانصافی کےاس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی روئیوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔ دوسرے منقی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں  زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا  واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ  ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ ...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...