لاہور کی
اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی
علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے
سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ
کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی
مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع
کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی
تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے
ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو
کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ
لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر
پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر
رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے
اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہاتھ پھیرا، دعا دی پھر کہنے لگے بچہ
جی ۔۔۔ جب سفر پر جائو تو وہاں سے کچھ لے
کرضرور آنا
میں نے
کہا جی کیوں نہیں میں وہاں جو بھی چیز اچھی ہوئی آپ کے لیے ضرور لائوں گی۔ وہ
مسکرائے اور کہنے لگے۔
بچہ جی میرے لیے نہیں اپنے لیے!
!
اور ہاں جہاں موقع ملے رب سے مل لینا
صرف
نظروں کی نہیں روح کی پیاس بھی بجھانا!
مجھے ان باتوں کی کچھ خاص سمجھ تو نہ آئی بحر
حال انہیں خدا حافظ کہہ کر میں گھر آگئی اور صبح سویرے ہم سفر کے لیے روانہ ہوئے
۔ایک روز ایبٹ آباد میں قیام کے بعد ناران کا سفر کیا ۔ وہاں کچھ دیرتوقف کرنے کے
بعد بابوسر ٹاپ کےلیے روانہ ہوئے ۔راستے میں تیزدھوپ تھی ہم نے گاڑی کے شیشے کھول
رکھے تھے لیکن کچھ دیر بعد ہی راستے میں بڑے بڑے گلیشئیر آنا شروع ہوگئے جو دھوپ
کے باعث پگھل رہے تھے۔ اس وجہ سے کئی مقامات پر آنے والی آبشاروں میں پانی کا
بہائو بہت تیز تھا جہاں سے گاڑیوں کا گزارنا بھی کسی ایڈوینچر سے کم نہیں تھا۔
گرچہ دھوپ تیزتھی پھر بھی ہوا میں ایک پرسکون ٹھنڈک کا احساس تھا ۔سرسبز پہاڑوں
،آبشاروں ،جھیلوں سمیت ہر نظارے میں اللہ کی وحدانیت اور قدرت عیاں تھی۔موسم
دلفریب تھا اورسورج بھی ہلکے ہلکے بادلوں کی اوٹ سے آنکھ مچولی کر رہا تھا۔ مگر بارش کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا ۔اس وقت کچھ
اشعار ذہن میں آئے جو فوراً قلمبند کر لیے۔
![]() |
| راکا پوشی |
![]() |
| راکا پوشی |
سر سبز
بلند پہاڑوں میں
کبھی
گرتی آبشاروں میں
ڈھونڈا
ہے میں نے رب کو
قدرت کے
حسیں نظاروں میں
کبھی
ڈوبتے سورج میں پایا
کبھی
دیکھا اسے ستاروں میں
کہیں قوس
قزح کے رنگ ملے
بوندوں
کے عجب شراروں میں
جینے کا
مقصد ڈھونڈ لیا
قدرت کے
ان ہی اشاروں میں
خوشیوں
کے پل کچھ بانٹ لیے
گھل مل
کر اپنے پیاروں میں
دل مہک
اٹھا ایسے عنّبر
جیسے
کوئی چمن بہاروں میں
تین
گھنٹے کی مشقت کے بعد جب لولوسر جھیل پر پہنچے تو وہاں کا منظر ہی نرالا تھا ،جون
کا آخری ہفتہ اور جھیل میں ابھی تک برف جمی تھی ،ہم لاہور سے جانے والوں کے لیے
تو یہ مقام کسی جنت سے کم نہیں تھا۔ سڑک کے اطراف برف کے پہاڑ نما گلیشئیر دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی
کہ وہ موسم جب اس جگہ پر ہلکی پھلکی ٹھنڈک کا احساس ضرور ہوتا ہےیہاں ابھی تک
سردیوں والے حالات ہوں گے یہ جان کر بڑی حیرانی ہوئی ۔ لولوسر جھیل سے تھوڑا آگے
پہنچے تو سڑک بلاک تھی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں ۔پوچھنے پر پتہ
چلا کہ آگے بابوسر ٹاپ پر برف کو کاٹ کر جو راستہ بنایا گیا ہے وہاں سے ایک وقت
میں صرف ایک گاڑی گزر سکتی ہے لیکن کچھ لوگوں کی جلد بازی کی وجہ سے وہ ایک گاڑی
بھی نہیں گزر پارہی جس کی وجہ سے دونوں طرف گاڑیوں ،جیپوں اور وینوں کی لمبی
قطاریں لگ گئیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر کچھ لوگوں نے واپس گاڑیاں موڑنا شروع کر دیں
کیونکہ آگے جانے میں کم از کم تین سےچارگھنٹے لگ سکتے تھے۔
ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ اب جو بھی ہو ہم اس مرتبہ
بابوسر ٹاپ ضرورجائیں گےاورپھروہاں سے بابوسرچلاس روڈ سے ہوتے ہوئے ہنزہ اور چائنہ
بارڈر تک سیرکرکے آئیں گے۔ اب اس میں کتنی دیر لگ سکتی ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں
تھا چار بج چکے تھے جوں جوں وقت گزر رہا تھا ، وہاں کی خوبصورتی اور سحر تھکاوٹ کی
وجہ سے تھوڑا بے معنی لگنے لگے تھے ایک بار خیال آیا کہ کیا ضرورت ہے اتنا خوار
ہونے کی ہم بھی واپس چلتے ہیں۔ٹریفک بلاک ہونے کی وجہ سے بچے بھی پریشان تھے اور
ایسے میں بھوک پیاس اور واش روم کے مسائل کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔کبھی
کسی کا بلڈ پریشر ہائی ہوتا اس کو دوا دینی پڑتی کبھی کسی کو کوئی مسئلہ درپیش
ہوتا۔ اب اندازہ ہوا کہ سفر کی انہی مشقتوں
اور تکالیف کی بناء پر سفر کو قطعۃ من العذاب یعنی عذاب کا ٹکڑا کہا گیا ہے اور
سفرکبھی وسیلئہ ظفر ہوتا ہے اور کبھی بے تحاشا تھکاوٹ کا باعث بن جاتا ہے۔
مگر پھر
بھی میں نے رب سے ایک ہی دعا کی یا اللہ ہم تیری قدرت دیکھنے آئے ہیں اور اب کچھ
لے کر ہی جائیں گے۔ یااللہ اپنا کرم کردے اپنا جلوہ دکھا دے۔
چار
گھنٹے انتظار کے بعد اللہ اللہ کر کے ہماری باری آئی اس وقت تک ہمارے سر پر ایک
بادل کا ٹکڑا منڈلا رہا تھا دور من میں ایک خواہش جاگی کہ کاش کبھی برفباری دیکھنے
کا موقع بھی مل جائے لیکن پھر اس خیال کو جھٹک دیا کہ کہاں جون کا آخری مہینہ اور
کہاں برفباری!
مگر قدرت
تو شائد کسی اور ہی موڈ میں تھی ہم جونہی بابوسر ٹاپ پر پہنچے ایسا لگا جیسے سڑک
پر روئی کے گالے گر رہے ہوں ہم سب نے خوشی سے چلانا شروع کر دیا یا اللہ اتنی خوش نصیبی یہ تو برف پڑ رہی ہے پھر کیا ہوا
کہ سب تھکاوٹ اتر گئی اور بچے اور ہم سب ہر چیز بھلا کر برف کے گالوں سے کھیلنا
شروع ہوگئے۔ سبحان اللہ ! دل میں ایک خواہش جاگے اور میرا سوہنا رب اگلے ہی لمحے
اسے پورا کردے تو کیا ایمان پہلے سے زیادہ مضبوط نہیں ہو جائے گا؟ دل ،زبان روح سب
سے ایک ہی کلمہ جاری تھا ۔ فبای آلا ربکما تکذبٰن
تلاش اس
کو نہ کر بتوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں
اس بات کا مطلب آج سمجھ آیا ۔دیکھیں نا کاغان
سے چلے تو تیز دھوپ نے ناران تک ساتھ دیا اورپھردیکھتے ہی دیکھتے ہلکی ٹھنڈی ہوا ،پھر
بادل ، بارش اور برف کا روپ دھار لیا۔
بے شک میرا رب ہر چیز پر قادر ہے۔
میں یہ
سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ میرے رب کا نظام کتنا منفرد ہے، وہ جو جہاں جیسے چاہتا ہے
کردیتا ہے کبھی بادل کبھی دھوپ کبھی بارش ، وہی ہے جو ہمارے دل کی ہربات جانتا ہے
اور کب کہاں کیسے نوازنا ہے وہ بہت خوب جانتا ہے۔ وہ جب کہتا ہے کہ ان المع العسر
یسرا ( ہر مشکل کے بعد آسانی ہے) تو بلاشبہ
چار گھنٹے کی تنگی کے بعد اس جون کی برفباری نے ساری تھکاوٹ اتار دی اور اگلے چار
گھنٹے کا سفر بہت آسانی سے گزر گیا۔ آگے بھی بہت سے جلوے اور معجزے منتظر تھے۔ (جاری
ہے)
۔


Comments
Post a Comment