Skip to main content

اللہ کی نعمتیں کھا کھا کر دانت ٹوٹ گئےمگرزبان اس کی ناشکری سے باز نہیں آتی


ہماری زندگی میں ایسی انگنت نعمتیں ہیں جن کا ہمیں اس وقت تک اندازہ نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے ہونے کااحساس نہ دلائیں اور یہ وہ نعمتیں ہیں جو انسان کو زندگی کے ساتھ بالکل مفت ایک بونس کی طرح ملتی ہیں شائد اسی لیے ہم انہیں نعمت نہیں سمجھتے اور ان کی نا قدری کرتے ہیں۔ یقین مانیں ایک انگلی کی حرکت سے لے کر ہماری ہررگ وپے میں ہمارے لیے اللہ نے لا تعداد خزانے دئیے ہیں۔صحت اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے وہ نعمت ہے جس کی قدرعموماً اس وقت آتی ہے جب ہم اس سے محروم ہوتے ہیں۔ ہم جتنے مرضی فلاسفر بن جائیں ایک دانت کی تکلیف ہی ہمیں ہماری اوقات یاد دلادیتی ہے یہی کچھ جب میرے ساتھ ہوا۔ تین دن لگاتاردانت کی تکلیف سے چودہ طبق روشن ہوگئے،وقت اور پیسے بھی خوب لگے تو اندازہ ہوا کہ کتنی بڑی نعمت منہ میں چھپائے پھرتے ہیں اور کبھی اس بات پر اللہ کاشکر بھی ادا 
نہیں کیا۔

زبان اس کی ناشکری سے باز نہیں آتی


ایک دن یونہی نماز عصر کے بعد پارک میں چہل قدمی کرتے کرتے استاد جی سے ملاقات ہوگئی وہ پوچھنے لگے بچہ جی کیا بات ہے آج کل مصروف نظرآتی ہو میں نے اپنی تکلیف بیان کی تو صحت کی دعا دیتے ہوئے کہنے لگے۔
بچہ جی ! شیخ سعدی رحمۃ اللہ سے کسی نے ان کی صحت کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ـ
اللہ کی نعمتیں کھا کھا کر دانت ٹوٹ گئےمگرزبان اس کی ناشکری سے باز نہیں آتی ـ
پھر کہنے لگے کہ ہم میں سے کبھی کوئی منہ میں پورے دانت ہونے پراتنی خوشی محسوس نہیں کرتا جتنا وہ ایک دانت کے ٹوٹ جانے پر ملامت کرتا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ انسان بڑا نا شکرا ہے۔اللہ نے سورہ رحمان میں انسان کو بڑا جھنجھوڑا ہے کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟ لیکن انسان پھر بھی نا شکری سے باز نہیں آتا۔ بچہ جی جب بھی فجر کی اذان ہو اور تم اپنا بستر چھوڑ کر رب کے سامنے عاجزی سے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو اور اس کے بعد اس کا شکر ادا کرو کہ اس نے تہمیں ایک نئی زندگی دی۔ ہمارا خود اٹھنا ،اپنے قدموں پر چلنا پھرنا، سانس کا آناجانا، اپنے ہاتھ سے کام کرنا،کھانے کا ہمارے حلق سے اترکرمعدے تک پہنچنا اور پھر ہضم ہوجانا بھی کسی نعمت سے کم نہیں مگر ہم تو اس کا بھی شکر ادانہیں کرتے۔ بچہ صبح اٹھنے سے رات سونے سے پہلے لینے والی کروٹ تک جتنا ہو سکے اپنے رب کا شکر ادا کر ،یاد رکھنا دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو ایک کروٹ لینے کے لیے بھی دوسروں کے محتاج ہیں۔ شکر کرو کہ روز صبح اٹھ کر منہ دھونے جاتے ہو ورنہ لاکھوں لوگ ہیں جو اٹھ کر گردے دھلوانے جاتے ہیں۔
بس بچہ اللہ کا شکر گزار بن جا تو اللہ مزید دے گا یہ میرے سوہنے رب کا وعدہ ہے بس شکر ادا کر!
یہ کہہ کر وہ اپنی راہ چل دئیے اور میں اپنے گھر کی طرف چل دی۔

راستے میں بار بار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ایک قول یاد آرہا تھا کہ جس انسان کو پانچ چیزیں مل جائیں وہ اپنے آپ کو دنیا کا خوش قسمت انسان سمجھے۔
،ذکر کرنے والا دل، مشقت اٹھانے والا بدن، وطن کی روزی، نیک بیوی شکر کرنے والی زبان.
جس شخص کو یہ پانچ نعمتیں نصیب ہوں وہ یوں سمجھے مجھے اللہ تعالٰی نے دنیا کی تمام نعمتیں عطا کر دی ہیں۔
واقعی سر تا پائوں ہم لاتعداد نعمتوں سے مالا مال ہیں اپنی مرضی سے سوتے ہیں اپنی مرضی سے جاگتے ہیں جو دل چاہے پہن لیتے ہیں جو دل چاہے کھا لیتے ہیں مگر پھر بھی نا شکری سے باز نہیں آتے میں نے اپنے ارد گرد بڑے بڑے نا شکرے دیکھے ہیں جنہیں اللہ نے دولت ،صحت اولاد اچھا روزگار گاڑی بنگلہ سب دیا ہے مگر جب دیکھو وہ نا شکری کی باتیں ہی کرتے ہیں زرا سا نقصان ہوجائے تو واویلا مچا دیتے ہیں مگر وہ جو کروڑہا نعمتیں دبائے بیٹھے ہیں کبھی اس پر شکر ادا نہیں کرتے کبھی ان کی زبان سے یہ لفظ نہ سنا کہ اللہ کا بڑا شکر ہے جس نے اتنی نعمتیں دیں۔ سوچو اس رب کو کتنا برا لگتا ہوگا ! کبھی ان کو یا ان اولاد کو نماز پڑھتے یا سجدہ     
آئیے اب زرا دانتوں  کی نعمت پر غور کریں جو اللہ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔ اس میں اللہ کی قدرت کی بے پناہ نشانیاں ہیں ان کی رنگت ساخت،جبڑوں سے نکلنا اورپھر ایک خاص لمبائی پرآکر رک جانا بے شک رب کی تخلیق کا عظیم شاہکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سامنے والے دانت تیز اور نوکیلے بنائے تاکہ ہم خوراک کو آسانی سے کاٹ سکیں اور پچھلے دانت چوڑے بنائے تاکہ خوراک کو پیسا جا سکے۔ دانتوں کا مادہ نرم ہوتا توہم اس سے چبانہ سکتے اور لوہے کی طرح سخت ہوتا تو ہماری زبان کو کاٹ دیتا۔ اگر غور کریں تو عقل والوں کے لئے دانتوں میں ہی قدرت کی واضح نشانیاں ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں  کس طرح انسان کے منہ میں دانتوں کو موتیوں کی لڑی کی طرح  پرو دیا ہے ان کا سفید رنگ انسان کی شخصیت کو مزید پر کشش بنا دیتا ہے اور دانتوں کے بغیر ہم صحیح طرح سے کلام بھی نہیں کر سکتے۔ کلام کے بعد آتے ہیں طعام کی طرف دانت خوراک کو نہ چبائیں تو معدہ اسے ہضم نہیں کر سکتا۔ اگر معدہ خوراک کو ہضم نہ کرے تو صحت خراب ہو جاتی ہے۔ کتنی غذائیں ایسی بھی ہیں کہ جب تک انہیں اچھی طرح چبایا نہ جائے، انسان ان کی لذت سے محروم رہتا ہے۔
اب ہم آتے ہیں دانتوں کی صفائی کی طرف،جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ اگر ہم ان کی صحیح صفائی نہ کریں تو بہت سی بیماریاں انسان کو گھیر لیتی ہیں اور دانتوں میں پیدا ہونے والے جراثیم انسان کوبے پناہ نقصان پہنچاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق انسان جو چیزیں کھاتا ہےوہ منہ کےاندرپلازما بن جاتا ہے جوصرف کلی کرنے سے صاف نہیں ہوتا اس کے لیےمسواک یا برش کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم دانت صاف کیےبغیرسو جائیں تو سونے کی حالت میں دانت زیادہ خراب ہوتے ہیں۔دینِ
 اسلام نے دانتوں کی صفائی کا 14 سو سال پہلے حکم دیا
  اور مسواک استعمال کرنے کی تلقین کی گئی ہے
۔
یہ اللہ کی وہ نعمت ہے جو دو بار مفت ملتی ہے مگر تیسری بار آپ کو خریدنی پڑتی ہے لیکن وہ پہلے کے مقابلے میں دس فیصد بھی نہیں ہوتی ۔ دانتوں کی صفائی ایمان کا جزو بھی ہےکیونکہ اس سےاللہ تعالیٰ کی نعمت کی شکرگزاری بھی ہوتی ہے۔
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے مسواک کیا کرتے تھے اور انہوں نےہمیں بھی تلقین کی ہے، لہٰذا مسواک کریں تو اس مقصد سے کریں کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس طرح نعمت پر شکر گزاری بھی ہوجائے گی اور دانتوں کی حفاظت بھی۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ ہماری قوم کافی عرصے سے آزمائشوں میں گھری ہے کہیں یہ اس کی نا شکری کا انجام تو نہیں تو چلیں کیوں نہ ہم سب اللہ سے معافی مانگیں اور اس کے شکر گزار بندے بن جائیں تاکہ وہ ہم سے راضی ہوجائے آمین

https://www.naibaat.pk/19-Jul-2019/24878


Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...