Skip to main content

کھیل سیاست کا شکارکھلاڑی حماقت کا شکارتماشائی فراغت کا شکار


پچھلے ایک ہفتے سے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاک بھارت کرکٹ میچ کا شور مچا ہوا تھا ہر کوئی اسی موضوع پربات کر رہا تھا مجھے ذاتی طور پر تو کرکٹ سے کبھی دلچسپی نہیں رہی لیکن میری ایک دوست کے بھائی کو باقی قوم کی طرح دیوانگی تک عشق تھا وہ آج مجھے ملی تو بتا رہی تھی کہ جس دن پاک بھارت کرکٹ میچ ہونا تھا اس دن صبح ہی سے وہ ذہنی الجھن کا شکار تھا ۔بار بار چینلز بدل کر مخلتف تجزیہ نگاروں کی گفتگو سنتا کبھی فیس بک پر کوئی سٹیٹس ڈال دیتا مجھے اس تمام صورت حا ل سے شدید ذہنی کوفت ہو رہی تھی۔ میچ شروع ہوا تو گویا پوری زندگی کا مرکز یہی ایک چیز تھی نہ نماز کی ہوش نہ ارد گرد کی خبر۔ میچ میں بارش اور پھر اس کے بعد لمحہ لمحہ صورتحال پاکستان کی شکست کو قریب تر کر رہی تھی اور بھائی کا بلڈ پریشر بڑھتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ پاکستان میچ ہار گیا اور پھر اس نے اپنا موبائیل اٹھا کر ٹی وی پر دے مارا۔ جس پر امی ابو نے اسے خوب لتاڑا ۔وہ بتا رہی تھی کہ میچ کے بعد ہمارے گھر میں دو روز تک سوگ کا سماں رہا۔ یہی نہیں میں نے اپنے ارد گرد کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو کرکٹ میچ کی خاطر سارا سارا دن ٹی وی کے آگے بیٹھے رہتے ہیں اس دوران انہیں اپنی نمازوں ،کاروبار یا تعلیم کی کوئی فکر نہیں ہوتی ہے۔  آخر یہ کیسا کھیل ہے جو وقت کے ضیاع اور اذیت کےعلاوہ کچھ نہیں دے رہا میرا دماغ بڑی الجھن کا شکار تھا۔ میں اپنی سوچوں میں گم استاد جی کے گھر چلی گئی۔ ان کے گھر معمول کے مطابق ٹی وی بند تھا ان کی بیٹی قرآن پڑھ رہی تھی اور استانی جی کھانا بنانے میں مشغول تھیں۔ استاد جی صحن میں پودوں کو پانی دے رہے تھے۔میں نے انہیں سلام کیا اور چارپائی پر بیٹھ گئی ۔استاد جی نے پوچھا کیا بات ہے؟


 بچہ جی کیا الجھن ہے جو تجھے یہاں لے کر آئی ہے؟
 میں نے بغیر تہمید باندھے پوچھا آخر اس کھیل کا فائدہ جس کا ماحصل صرف ذہنی اذیت، وقت کا ضیاع اور دین سے دوری ہو؟
استاد جی مسکرائے اور کہنے لگے بچہ جی!
 جب کھیل کا نشہ سر چڑھ کر بولنے لگے تو وہ پستی کا شکار ہوجاتا ہے۔
جب کھیل سیاست کا شکار ہو جائے تو پھراس سے وقت کے ضیاع کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا
جب کھیل کو کھیل تک دیکھا جائے تو ٹھیک ہے۔
جب کھیل کو کاروباریا جوا بنا دیا جائے یا پھر کھیل میں اقربا پروری کی جائے اورنظم وضبط کی کئی پرواہ نہ کرے،میرٹ کی دھجیاں اڑا دی جائیں ،بلاوجہ حکومتی مداخلت  اور ذاتی پسند نا پسند شامل ہو جائے تو پھر وہ کھیل نہیں رہتا وہ معاشرے کے لیے ایک ناسور بن جاتا ہے۔
بس ہماری خامی یہی ہے کہ ہم نے کھیل کو بھی سیاست بنا دیا ہے اس لیے اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پارہے۔
باقی رہی سہی کسر ملٹی نیشنل اشتہاری کمپنیوں نے پوری کردی ہے جوکھیل کواتنا اہم بنا کر پیش کرتے ہیں گویا سب سے اہم قومی مسئلہ یہی ہے اس قوم کا جینا مرنا ہی یہی کھیل ہے؟
مجھے معلوم ہے کہ جب میں کہوں گی کہ لگاتار آٹھ گھنٹے تک کرکٹ دیکھنا صرف اور صرف وقت کاضیاع ہے تو کئی لوگوں کو میری بات اچھی نہیں لگے گی کیونکہ ہماری آدھی سے زائد قوم اس وقت کرکٹ جنون میں مبتلا ہے۔ جب میں کرکٹ میچ کے دوران نوجوان نسل کو ٹیلی ویژن کے سامنے دنیا بے خبرفراغت سے بیٹھے سکرین پر نظریں جمائے دیکھتی ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ یہ کتنا قیمتی وقت کتنے بے مقصد کام میں ضائع کر رہے ہیں۔
 علامہ اقبال کا ایک  شعر ہے
 
تیرے صوفے ہیں افرنگی تیرے قالین ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے  جوانوں کی تن آسانی

اب میری اس بات کا ہرگزیہ مطلب نہ لیجیے گا کہ کھیل دیکھنا یا کھیلنا سرے سے ہی فضول کام ہے۔ کھیل کود بلاشبہ انسانی نشوونما کے لیے بے حد ضروری ہے بلکہ کھیل کود تو اﷲ کے نبی ؐ بھی پسند فرمایا کرتے تھے، کھیل کود جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔لیکن مجھے اس بات پر اعتراض ہے کہ  قوم کرکٹ میچ کے بخار میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی کے بہترین لمحات کو یوں ضائع کرتی ہے جیسے یہ وقت نہیں ،کوئی فضول چیز ہے جو بھی چیز ہماری اس قیمتی متاع کو ضائع کرنے کا باعث ہو، ہم اسے کیسے ایک اچھا عمل یا ایک اچھی سر گرمی کہہ سکتے ہیں؟
حالیہ ورلڈکپ ۲۰۱۹ میں پاکستانی کھلاڑیوں نے جس طرح  بھارت سے شکست کھائی اورجس طرح اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے والوں نوجوانوں کے دل ٹوٹے اس کے بعد ان کو چاہیے کہ اس کی جگہ ہاکی، فٹ بال اور باسکٹ بال جیسے کم وقتی کھیلوں کو اہمیّت دیں۔
یقین مانیں اگر چین،جاپان، فرانس، جرمنی، روس اوراس طرح کے کئی دیگر ممالک بغیر کرکٹ ٹیم کے رہ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟
میچ ہارنے کا غم تازہ ہی تھا کہ سوشل میڈیا پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی میچ سے سات گھنٹے پہلے رات  دو بجے ثانیہ مرزا کی دعوت کی تصاویر منظر عام پر آگئیں جن میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ جب پاکستانی قوم بھارت کو ہرانے کے لیے پرعزم تھی اس وقت پاکستان کی آدھی ٹیم کیسینو میں تھی ۔ ان کی شیشہ سموکنگ کی تصاویر وائرل ہوئیں تو قوم کے غم وغصہ میں مزید اضافہ ہوگیا ۔
کو یہ غم کھاگیا کہ ٹیم کی توجہ میچ سے زیادہ آوارہ گردی ، عیاشیاں کرنے اورکیفے میں شیشہ پینے پر تھی  اور تو اور میچ کے دوران کپتان سرفراز دن بھر جمائیاں لیتے رہے اور پاکستانی عوم پیچ و تاپ کھاتی رہی۔ سچ بتائیں کیا ایسے ہوتی ہیں تیاریاں ایک اہم ترین میچ کی ؟
کیا اس شرمناک شکست اورکروڑوں پاکستانیوں کے دل توڑنے پر پوری ٹیم ، کوچ ، چیف سلیکٹر کو فارغ اور کرکٹ بورڈ کو تحلیل نہیں کردینا چاہیئے؟
خصوصاً ایسے مقام پر جب موجودہ کرکٹ ٹیم اب پاکستانی قوم کیلئے وقت کا ضیاع بن رہی ہے،ایسے کھیل کا کیا فائدہ؟ بلکہ یہ تو کروڑوں لوگوں کے کروڑوں گھنٹے ضائع کرنے کا نقصان ہے۔یاد رکھیں وہی قومیں دنیا میں ترقی کرتی ہیں جو وقت کی قدر کرنا جانتی ہیں۔
باقی کرکٹ کی گیم مہارت،جذبہ،محنت اورمنصوبہ بندی مانگتی ہے ہم اسے خواہشوں، فیس بک اسٹیٹس اور اشہارات سے جیت نہیں سکتے۔
نیتوں میں فتور آئے تو
معجزے پھر ہوا نہیں کرتے
اسلیے میچ ہارتے ہیں ہم
کیونکہ رب سے دعا نہیں کرتے
ٹیم گر قوم سے ہو مخلص تو
ایسے لمحے دغا نہیں کرتے
آزمایا ہے بار بار انہیں
وقت پر یہ وفا نہیں کرتے
اسلیے کھیل کو بس ایک کھیل کی حد تک دیکھیں اور ان کی خاطر اپنا قیمتی وقت ضائع نہ کریں جو آپ کے قیمتی جذبات کی قدر کرنے کی بجائے اسے دھویں میں اڑا دیتے ہیں۔ 




Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...