Skip to main content

مناپن کا سحر ۔۔۔۔۔ راکا پوشی اور مدہوشی



قسط نمبر ۲
                                              بابوسر ٹاپ پرجولائی میں برفباری کے مزے لوٹ کر جب بابوسر چلاس روڈ پر سفر کا آغاز کیا تو اس کے خطرناک موڑ دیکھ کر ایک بار پھر اللہ یاد آگیا۔ یہاں پر زرا سی لاپرواہی بہت برے حادثے کا سبب بن سکتی ہے ۔ شوہر نامدارمیاں شاہد محمود بہت مہارت رکھتے ہیں اسلیے انہوں نے بڑی احتیاط سےگاڑی چلائی اور ہم اللہ کے فضل سے ایک گھنٹے میں چلاس پہنچ چکے تھے۔ وہاں کا موسم لاہور کی طرح گرم تھا اور اتنی ٹھنڈک دیکھنے کے بعد وہاں ایک گھنٹہ بھی رکنے کا یارا نہ ہوا اور ہم نے سیدھا قراقرم ہائی وے سےگلگت کی راہ لی ۔ مگر سڑک کی حالت اتنی خراب تھی کہ پورے دن کےسفرکا مزا کرکرا ہوگیا جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ ،بڑے بڑے گڑھے،اونچے اونچے مختلف رنگوں کے خشک پہاڑ اورشورمچاتا دریائےسندھ ہماری بے چینی میں اضافہ کررہا تھا۔ قراقرم ہائے وے کا یہ حصہ اس جگہ سے خراب ہے جہاں پر دیامر بھاشا ڈیم بننے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہاں آکر ہمارا سلک روڈ ٹو چائنہ بارڈر والا خواب بڑا ڈراونا لگ رہا تھا اللہ اللہ کرکے ایک گھنٹہ بعد سلک روڈ کا آغاز ہوا تو ایسا لگا دوزخ سے سیدھا جنت میں آگئے ہیں اس راستے میں نانگا پربت ویو اور تین بلند ترین پہاڑی سلسلوں کے ویو بھی آتے ہیں تقریباً اڑھائی گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم گلگت پہنچ گئے وہاں بھی حسب لاہورگرمی تھی اور رات کے آٹھ بج چکے تھے وہاں کی گرمی کھانے کا بالکل ارادہ نہیں تھا اسلیے ہم نے اس سلسلے میں محمد عثمان صاحب سے مشاورت کی جو ماشا اللہ پاکستان کے محب وطن شہری ہیں اپنا کاروبار ہےمگر سیاحت کے دلدادہ اورثقافت کے رسیا ہیں انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ گلگت سے ایک گھنٹہ کی مسافت پر واقع ضلع نگر کے گائوں مناپن میں قیام کریں اور اس کی خوبصورتی قدرتی حسن اور موسم سے لطف اندوزہوں ۔سوا گھنٹے بعد ہم راکا پوشی ویو نگر کے پاس ایک گائوں مناپن میں ماسٹر ذاکر کے گیسٹ ہائوس میں پہنچ چکے تھے رات کافی ہوچکی تھی،ہم بھی اٹھارہ گھٹنے ۔
مناپن کا سفر 

مناپن کا سفر 

کے لگاتار سفر کے بعد نڈھال تھے۔ اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی بس یہ سکون تھا کہ بستر مل گیا موسم سردتھا ہم نے کمبل اوڑھا اور خواب خوگوش کے مزے لینے لگے۔
 صبح کے چار ہی بجے تھے کہ کوئی ہمارے کمرے کی کھڑکیاں  زور زور سے بجانے لگا ایک دم گھبرا گئے پتہ نہیں کون ہے جگہ بھی نئی لوگ بھی نئے ڈرتے ڈرتے پردہ ہٹایا تو دو ننھے ننھے رابن ہڈ نما پرندے تھے جو بار بار آکر اپنی چونچ کھڑکی میں مارتے تھے گویا نماز فجر کے لیے اٹھا رہے ہوں اور بات درست تھی کیونکہ جتنی تھکاوٹ تھی اگر وہ ہمیں نہ اٹھاتے تو نماز نکل جاتی ۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو تقریباً روشنی تھی باہر چیری کے درختیوں کی اوٹ سے دور راکا پوشی برف کا دوشالا لیے مسکرا رہی تھی ہم نے یہ منظر آنکھوں میں قید کیا اور پھرسو گئے۔ صبح جب آنکھ کھلی تو بچے غائب تھے پریشان ہو کر باہر دیکھا تو وہ باغ میں لگے تازہ پھلوں سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ مناپن میں اس وقت چیری کا موسم تھا ،سب درخت چیری سے لدے ہوئے تھے بچوں کو کوئی روک ٹوک نہ تھی انہوں نے جی بھر کر چیری کھائی یہاں کے لوگوں کا اخلاق بھی بہت اچھا تھا۔ماسٹر ذاکر بھی گلگلت کالج میں لیکچرر ہیں اور ڈبل ایم اے کیا ہے ۔ان کے مزاج میں سادگی اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری  ہے۔مناپن میں ہر چیزمیں ایک سکون ایک ترنم تھا۔ ماحول فطرت کے عین قریب تھا ۔ تھوڑا باہر نکل کردیکھا تو چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں بغیر سرپرست کے سکول جا رہے تھے انہوں نے ہمیں دیکھ کر سلام کیا  بچوں کے چہرے سرخ سفید تھے کوئی خوبانی لگی تو کوئی چیری ۔اورتو اور گائوں کے ماحول میں رہ کر ہمارے بچوں کے چہروں پر بھی رونق آگئی تھی ۔ بچے یہاں بہت مطمئن تھے یہاں آکراحساس ہوا کہ فطرت میں کتنا سکون ہے یہ لوگ بناوٹ سےپاک سادہ زندگی گزارتے ہیں اور ان کے لہجوں رویوں میں کوئی منافقت نہیں تھی ۔ گائوں میں ہربچہ سکول جاتا ہے پرائیویٹ اورکمیونٹی دونوں طرح کے سکو ل ہیں اور کوئی استاد ایم اے ایم ایس سی سے کم نہیْں تھا ۔بچوں سے بھی بات چیت کی تو ان میں وطن اور ثقافت سے محبت کا جذبہ عیاں تھا۔ ناشتے میں اپنی گائے کا دودھ دوپہر میں پھل صاف ستھرا پانی اور سادہ دال روٹی اور اپنی اگائی ہوئی سبزی کھاتے ہیں اور تو اورخوردنی تیل بھی خود بناتے ہیں اخروٹ اور خوبانی کا ۔یہاں پر کوئی بندہ بیمار نظر نہیں آرہا تھا اور سو سو سال کے بوڑھے بھی کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر آرہے تھے مگر کسی کا سانس پھولا نہ ٹانگوں نے جواب دیا جبکہ ہم ہر دس منٹ بعد چل کر پانچ منٹ کو سستا لیتے۔  مناپن کی خوبصورت صبح تازہ آب ہوا خوشگوار موسم دلفریب نظارے خدا کی قدرت یاد دلا رہے تھی۔ تازہ اور ٹھنڈی تازہ ہوا گویا زمین پر جنت کا سماں۔ یہ دیکھ کر انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے اللہ کی بنائی ہوئی یہ عارضی خوبصورتی انسان کو اپنے بس میں کر لیتی ہےتواللہ کی بنائی ہوئی جنت کتنی خوبصورت ہو گی۔جب نظر اٹھاو توکبھی چیری کے خوبصورت باغ اپنی طرف کھینچ لیتے کبھی برف کا آنچل اوڑھے پہاڑ اپنا جلوہ دکھاتےاور پھر بادلوں کی پہاڑوں اور دھوپ کے ساتھ آنکھ مچولی۔ کوئی ایک منظر بھی ایسا نہ تھا جسے نظر انداز کیاجاسکے۔ایک دم نیچے نظر گئی توصدیوں سے بہتی آبشارشور مچاتی اپنے ہونے کا احساس جگارہی تھی ،مناپن کہنےکوایک چھوٹاسا گائوں پرہرزمین پر سیاحوں کی جنت ہے۔ اس گاوں سے راکاپوشی کے بیس کیمپ کو راستہ جاتا ہے اس راستہ پردوسوسال پرانی آٹے کی چکی دیکھنے کو ملی جو پانی سے چلتی تھی ،اس پر کمال یہ کہ مناپن کے قدرتی گلیشئر سے ایک ڈیم بنا یا گیا ہے جو اس گائوں کے لیے بجلی پیدا کرتا ہے۔ اور یہ لوگ خوراک اور تعلیم کے بعد بجلی کے معاملے میں بھی خود کفیل ہیں۔میں یہ سوچنے پر مجبور تھی کہ ہم کتنی مصنوعی اور غیر فطری زندگی گزار رہے ہیں۔ زہریلی کھاد والی سبزیاں، پانی اور کیمیکل ملا دودھ ، ناقص خوردنی تیل،سپرے والے فروٹ ،بیماری والا چکن مصنوعی اے سی یا کولر کی ٹھنڈک،دوائوں کے سہارے نیند، غیر معیاری تعلیم،انٹرنیٹ اور موبائیل کی تربیت یافتہ پیزا برگر شوارما کی رسیا ممی ڈیڈی نسل  اور پھر مصنوعی اور خود غرض رشتے اور تعلقات۔ فطرت سے دور ہر کر ہم نے کتنا گھاٹے کا سودا کیا ہے۔
مناپن میں ابھی  بہت کچھ دیکھنے کو باقی تھا لیکن آج ہمارا ارادہ بارڈر دیکھنے کا تھا اسلیے بادل ناخواستہ اس سے پھر ملنے کا وعدہ کر کے ہم بارڈر کی طرف روانہ ہوگئے جو یہاں سے ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت پر تھا۔
 (جاری ہے)


Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...