Skip to main content

مثبت سوچ ۔۔۔۔۔۔ خوش آمدید سنہ دوہزار اکیس





یوں تو دسمبر ہر بار ہی ظالم ہوتا ہے مگر اس بار تو سائبیریا کی یخ بستہ ہوائوں نے ملک کے پہاڑی اور میدانی دونوں خطوں کو یکساں لپیٹ میں لے لیا ہوا ہے، مگر حسب سابق گیس کی عدم فراہمی نے اس موسم کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے اور ہماری بد قسمتی کے گیس کے اتنے ذخائر ہونے کے باوجود بھی آج ہم اس حالت زار میں مبتلا ہیں ،سردی کی شدت کچھ عجیب ہی نوعیت کی ہے کیونکہ گیس کی عدم فراہمی کے ساتھ سردی کے توڑ کے لیے ہمارے بڑے بوڑھے جو اقدامات کیا کرتے تھے ہم ان کا دس فیصد بھی بچوں کو نہیں دے رہے۔ مثلاً روزانہ کی بنیاد پر یخنی ، رات کو کشمیری چائے ،حلوہ جات اور پھر ڈرائی فروٹ وغیرہ یہ تقریباً روز رات کا معمول تھا اور اتنی فراخ دلی سے ہم استعمال کرتے تھے کہ کبھی اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ایک نسل ایسی بھی آئے گی جس نے کبھی چلغوزہ کاجو پستہ کا نام بھی نہ سنا ہوگا؟
کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ آنے والے ترقی کے عظیم دور میں ہم اس حالت پر پہنچ جائیں گے کہ صحت ثانوی اور لگژری لائف سٹائل اول ترجیح ہو جائے گی ، مجھے یاد ہے ہمارے پاس قیمتی موبائیل یا برانڈڈ کپڑے نہیں تھے مگر اچھا ماحول ، سچے رشتے اور بہت اچھی خوراک تھی مگر نسل نو ان سب چیزوں سے محروم ہے۔
جب بڑے بوڑھوں سے پوچھو کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے تو وہ ایک ہی بات کہتے ہیں بیٹا جی اب تو اس ملک سے اور ہمارے گھروں سے برکت ہی اٹھ گئی ہے!
برکت کے لغوی معنی توبڑھنا یا اضافہ ہونا ہےلیکن ایک تحریر میری نظر سے گزری جس کو پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ آخر یہ برکت ہے کیا؟
برکت کوئی نظر آنے والی چیز نہیں ہے اس کو
صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔
برکت آپ کو کسی کے چہرے پر سجے نور سے بھی محسوس ہوسکتی ہے یا پھرتنگدستی میں گھرے انسان کو سجدہ شکربجا لاتا دیکھیں تو اسے بھی برکت کہا جاسکتا ہے۔
جب آپ آمدن و اخراجات کے حساب کتاب کے چکر میں پڑے بغیر اپنا کچن چلا رہے ہوں تو اسے برکت کہتے ہیں ، چاہے آپ کی آمدن ایک لاکھ ہو یا ایک ہزار۔
برکت کی سب سے بڑی نشانی دل کا اطمینان ہوتا ہے جو کہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کو نصیب نہیں ہوتا۔
 اگر برکت دیکھنی ہو تو سخت گرمیوں میں سڑک کھودتے کسی مزدور کو کھانے کے وقفہ میں دیکھ لیں جب وہ دیوار کی اوٹ لے کر اپنی چادر پھیلا کر بیٹھتا ہے، اپنا ٹفن کھول کر، اس پر روٹی بچھاتا ہے، پھر اچار کی چند قاشیں نکال کر اس پر ڈال دیتا ہے اور بسم اللہ پڑھ کر نوالہ توڑتا ہے۔ اس کیفیت میں جودلی اطمینان اس کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے وہ کسی لکھ پتی کو مہنگے ہوٹل میں کھا کر بھی نصیب نہیں ہوتا۔
برکت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالى آپ کو کسی بڑی بیماری یا مصیبت سے محفوظ رکھتا ہے
 ۔ برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیوی قناعت پسند اور شکرگذار ہے۔ وہ تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہے، کپڑوں، میک اپ اور دیگر فرمائشوں سے آپ کی جیب پر بوجھ نہیں بنتی، یوں آپ کو اطمینان قلب کے ساتھ ساتھ مالی مشکلوں سے بھی بچالیتی ہے۔
برکت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالى نے نیک اور شکرگذار اولاد عطا کی ہے۔
 برکت کا تعلق  درحقیقت اللہ تعالى کی غیبی امداد سے ہے، جو نہ صرف آپ کے قلب کو اطمینان کا سرور دے بلکہ آپ کی ضروریات بھی آپ کی آمدن کے اندراندر پوری ہوجائیں۔
 اسی طرح وقت اور زندگی میں برکت ہوتی ہے۔ وقت میں برکت یہ ہے کہ آپ کم وقت میں زیادہ اور نتیجہ خیز کام کر سكيں
 عمر میں برکت یہ ہے کہ آپ کی زندگی برے کاموں میں خرچ نہ ہو رہی ہو بلکہ اچھے کاموں میں صرف ہو رہی ہو۔
کم کھانا، زیادہ افراد میں پورا پڑ جانا بھی برکت ہے۔
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے کے لیے ’’خاص انعام‘‘ ہے۔
اب برکت حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟
اس کے لیے سب سے پہلے تو ہمیں توکل اور قناعت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔  
پھر اللہ کی راہ میں صدقہ کرنا بھی رزق میں برکت دیتا ہے۔
 کسی یتیم کی کفالت اور پرورش اسی طرح کرنا جیسے اپنی سگی اولاد ہو رزق میں برکت کا باعث ہے۔
یاد رکھیں حسد ، لالچ اور کینہ پروری رکھنے والوں کو یہ دولت کبھی نصیب نہیں ہوسکتی ۔
اور ہاں جس گھرمیں دیر تک لوگ سوتے رہتے ہوں وہاں برکت نہیں آئے گی۔ کیونکہ نبی كريم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کا مفہوم ہے کہ میری امت کے لیے دن کے اولین حصے میں برکت رکھ دی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کے لئے صبح کے وقت میں برکت کی دعا فرمائی ہے. لہذا اگر کوئی سوتا رہ جاتا ہے تو وہ واقعی برکت سے محروم ہو جاتا ہے.
اس کے علاوہ طہارت ، اور رزق حلال بھی برکت کے حصول کے لیے لازم ہے۔ کوئی بے حیا ہو، نماز روزے سے دور ہو یا پھر سود کھا رہا ہو اور برکت کی توقع رکھے بہت عجیب بات ہے۔

ان سب چیزوں کے علاوہ برکت حاصل کرنے کا سب سے آسان نسخہ یہ ہے کہ اللہ کی دی گئی ہر نعمت کا شکر ادا کیا جائے اور اس کی ناشکری سے بچا جائے۔

اگر دسمبر کی  یخ بستہ راتوں میں آپ گرم بستر پر سوتے ہیں تو صبح اٹھ کر الحمدللہ کہیں کیونکہ آپ کا تعلق دنیا کے اس تیس فیصد طبقے سے ہے جسے یہ سہولت میسر ہے۔
صبح سے رات تک کھانا پینا ، سواری، ملازمت، صحت ، چھت ہر چیزپر بار بار شکر اداکریں کیونکہ کروڑوں لوگوں کو یہ سہولت میسر نہیں۔ اور آخر میں اس بات پر اللہ کا شکر ادا کریں کہ اللہ نے آپ کو اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی، ورنہ کتنے ہی انسان ہیں جو ناشکری کی حالت میں قبروں میں جا پہنچے۔
ایک اور چیز یا نسخہ ہر روز اللہ سے اپنے گناہوں کی توبہ کرنا اور استغفار پڑھنا ہے۔ یہ وہ وظیفہ ہے جو ہمارے دلوں کے زنگ کو صاف کرتا اور مشکلات میں گھرے انسان کو نیا راستہ دکھاتا ہے۔ آئیں !
ساری الجھنیں ،پریشانیاں،  کدورتیں ایک طرف رکھ کر اس سال خود کو بدل کر دیکھیں۔ اللہ کے شکر گزار بندے بنیں، اللہ اور نبی آخرالزمان  صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے رستے پر چلیں جو انشا اللہ  آپ کی زندگی میں حقیقی برکتوں کا رنگ بھر دے گا۔



Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

آپ کا صرف ایک ریمارکس کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے ،امانت،،سچائی ،عدل ،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں ۔ظلم وناانصافی کےاس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی روئیوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔ دوسرے منقی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں  زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا  واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ  ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ ...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...