Skip to main content

اخلاقی اقدار کا جنازہ۔۔۔ کون بھگتے گا خمیازہ

کل بازار جانا ہوا تو راستے میں کئی عجیب چیزیں دیکھنے کو ملیں، کہیں اکیلی جاتی لڑکیوں کے ساتھ لڑکے مستی کرتے نظر آئے تو کہیں بوڑھے سبزی فروش سے ایک عورت بھائو تائو پرتلخ کلامی کررہی تھی۔ تھوڑا آگے دیکھا تو بائیک والا اور گاڑی والا آپس میں دست و گریباں تھے۔  کپڑوں کی دکان میں داخل ہوئی تو ایک بیٹی اپنی ماں سے نہایت بدتمیزی سے بات کرتی نظر آئی باہر نکلی تو شورمچا تھا ایک چورکسی لڑکی کا پرس لے کر بھاگ گیا اوروہ چِلاّ رہی تھی ۔اس ایک گھنٹے میں دل اتنا گھبرایا کہ کچھ خریدے بغیر ہی واپس آگئی۔آتے ہوئے سوچا استاد جی سے ملاقات ہوجائے۔ وہ اپنے صحن میں مرغیوں کو دانہ ڈالتے نظر آئے۔مجھے بڑی حیرت تھی جب بھی دیکھو یا تو نماز قرآن یا تدریس یا کوئی اور مشغلہ کبھی ٹی وی اور موبائیل کو ان کے قریب نہیں دیکھا ۔ استاد جی کو سلام کہنے کے بعد ادھر 


ہی چارپائی پر بیٹھ گئی اور بے ساختہ پوچھا۔
استاد جی ایک بات سمجھ نہیں آتی زمانہ کہاں سے کہاں چلا گیا ہے آج کل تو کوئی بھی انٹرنیٹ ٹی وی اور موبائیل کے بغیر نہیں رہ سکتا پھر پرانے وقتوں میں لوگ ان چیزوں کے بغیر کیسے رہ لیتے تھے؟
استاد جی زیِر لب مسکرائے اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
بچہ جی بالکل ویسے ہی جیسے آج لوگ اخلاق ، انسانیت ،مروت اور خلوص کے بغیر رہتے ہیں۔ میں نے استاد جی سے پوچھا کہ آخر ہم ادب اور اخلاق اب کہاں سے سیکھیں استاد جی گھمبیر آواز میں بولے ـ
‘بچہ جی اخلاق سیکھنا ہے تو علمائے کرام اور دین دار لوگوں کی صحبت میں بیٹھو’
 یہ کہہ کر وہ اپنے کام میں مشغول ہوگئے اورمیں سوچ کے سمندر میں غرق ہوگئی بات کوئی ایسی مشکل بھی نہ تھی ابھی بازارسے میں جو دیکھ کر آرہی تھی وہ سب کیا تھا یہی تو تھا؟
ہمارے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے انٹرنیٹ بھی اورجدید آلات بھی لیکن دیکھا جائے تو ہم اخلاق ، مروت ،شرم اوراحساس کے بغیر جی رہے ہیں۔
گھریلو، سماجی یا پھرعالمی سطح  بحیثیت قوم ہماری  اخلاقی برائیوں کی وجہ سے ہم نے اپنا اعتبار کھو دیا ہے۔ دنیا میں ہماری کوئی عزت ہے اورنہ ہی ہم پر کوئی اعتبار کرتا ہے؟
ذرا غور کریں ، پاکستان بننے سے آج تک  اس ملک میں کون سی اقدار کی  پاسداری کی گئی ہے ؟
کوئی ایسی حکومت جس نے معاشرے  اور قو م کی اخلاقی اقدار کی بہتری کے لیے کوئی کام کیا ہو؟
 یہ اخلاقی تربیت کس نے کرنی ہے؟   والدین، اساتذہ ، تعلیمی ادارے ، میڈیا ،علما یا سیاسی رہنما؟
لیکن یوں لگتا ہے کہ  سب نے اپنے  فرائض کی ادائیگی میں ضرورلاپرواہی کی ہے جس کی  وجہ سے معاشرتی بگاڑ میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں لگتا ہے سارے عوامل نے مل کر ایک ایسی نسل تیار کردی ہے جس کا خاصہ بد زبانی ، خود غرضی ،عدم برداشت اور بے مروتی ہے ۔ اس کا عملی نمونہ آپ سوشل میڈیا پر تو آئے روز دیکھتے ہی رہتے ہیں بلکہ حیرت تو اس بات کی ہے کہ کئی لوگوں اور پیجز کو تو باقاعدہ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے باقاعدہ فنڈز ملتے ہیں گالیاں نکالنے کیچڑ اچھالنے اور بد زبانی کرنے کے۔ جس ملک کے لیڈرز ایوانوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو گالیاں دیں، اپنی کرپشن بچانے کے لیے ایک دوسرے کی بہنوں بیٹوں کی چادریں اچھالیں ۔اس کے عوام سے آپ کس قسم کے اخلاق کی توقع کر سکتے ہیں؟
یہاں آکر مجھے اچانک استاد جی کی بات آئی کہ اخلاق سیکھنے کے لیے علما ئے کرام کی صحبت میں بیٹھو۔ واقعی یہ بات سچ لگی کیونکہ قیام پاکستان سے لے کرآج تک جتنے بھی علما یا دینی جماعتوں کے ممبران سینٹ اورقومی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے وہ کسی بھی ایشو یا قرارداد پیش کرنے کے موقع پرکبھی بھی اخلاق اورادب کے دائرہ کار سے باہر نہیں ہوئے۔ ان کی گفتگو ہمیشہ اخلاقیات کے دائرے میں رہی ۔ اس کے مقابلے میں باہرکی یونیورسٹیوں اور بڑے بڑے اداروں کے تعلیم یافتہ اسمبلی فلور پر ایک دوسرے کی نیچا دکھاتے اور ایک دوسرے کی عزت اچھالتے نظر آئے یہ بات واقعی دونوں لحاظ سے ایک ریکارڈ ہے۔
باقی جہاں تک بار رہی اخلاق کی تو کسی بھی ملک کی ترقی اورخوشحالی میں اخلاقی اقداروروایات  کی بہت زیادہ اہمیت ہے اگر آپ میں اخلاق مروت برداشت نہیں تو پھر آپ کس طرح کسی بھی چیز میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہرجا بے ایمانی ، ملاوٹ ، رشوت ،دھوکہ  ، قانون شکنی اورہوس کے ڈیرے ہیں اور یہ برائیاں حکمرانوں سے لے کر عوام تک موجود ہیں۔
آخر اتنے مکمل دین اور اتنی عظیم ہستی نبی آخر الزمان ﷺ کے امتی ہونے کے باوجود ہمارا ایسا امیج کیوں بن گیا ہے؟ کیونکہ ہم اپنی اسلامی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں ۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے،ہماری رگ رگ میں جھوٹ کا زہر سرایت کر گیا ہے۔ ہم تو اس نبیﷺ کے امتی ہیں جنہوں نے ان کے راستے میں کچرا پھینکنے والوں کی خبرگیری اور پتھر مارنے والوں کے لیے ہدایت کی دعا کی ۔ آپ ﷺ کی حیات طیبہ ایسے ہزارہا واقعات سے بھری پڑی ہے جن کو ہم مشعل راہ بنا کر اس معاشرے کو سنوار سکتے ہیں۔
خود اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی آخر الزماں کے اخلاق مبارکہ کوعظیم قرار دیا ہے جبکہ حضور پاکؐ نے اپنے ارشادات میں اخلاق حسنہ کو اپنانے کی ہمیں بھی تلقین فرمائی ہے
 حضور پاک نے ارشاد فرمایا کہ اکمل المومنین ایماناا حسنھم خلقا (ابو داؤد ترمزی)
ترجمہ:کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں
لیکن  افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہمارا رویہ اسلامی تعلیمات اور اسوہ رسولؐ سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا اور اکثریت اخلاق و کردار سے بالکل عاری ہے ۔وہ تمام اخلاقی برائیاں جو زمانہ جاہلیت  میں پائی جاتی تھیں وہ ہم میں موجود ہ ہیں۔ یاد رکھیں جب تک ہم مسلمان اپنے اخلاق کو نہیں سنواریں گے اور ہماری زندگیاں اسلام کی تعلیمات کا عملی نمونہ نہیں پیش کریں گی اس وقت تک ہم ترقی نہیں کر سکتے۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و سنت سے رہنمائی لیں اور اپنی زندگی کو سنواریں۔ والدین ،تعلیمی اداروں اور میڈیا کو بھی اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا جو اصلاح معاشرہ کیلئے نمایاں خدمات انجام دے سکتا ہے۔جبکہ علمائے کرام کی اہمیت کو تسلیم کیے بغیراور اس ضمن میں ان کے کردار کو نظر انداز کر کے ہم معاشرے کو اخلاقی بنیادوں پرکھڑا نہیں کر سکتے۔ اس وقت پاکستان میں غربت اور دہشت گردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کی بحالی بھی انتہائی اہم ہوگئی ہے تاکہ ہم اقوام عالم میں اپنا کھویا وقار بحال کر سکیں۔

Amber Shahid Columns

https://www.naibaat.pk/17-May-2019/23341?fbclid=IwAR0cQLEmVp13Tgf2SxnreSxo8ZIDD6VFEHlnd99xO-1mjpG-k1atM_VMWdI

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

آپ کا صرف ایک ریمارکس کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے ،امانت،،سچائی ،عدل ،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں ۔ظلم وناانصافی کےاس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی روئیوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔ دوسرے منقی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں  زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا  واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ  ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ ...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...