Skip to main content

عبادت میں شامل اگر ہو نمائش ۔۔۔ تو رب سے کس بات کی ستائش


رمضان المبارک کی پرنورساعتوں کا آغاز ہوتے ہی ظاہراورباطن کا سارا ماحول ایک دم تبدیل ہوجاتا ہے ہربندے کی ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ عبادت اورسخاوت کرلے ،مگرساتھ ہی ساتھ یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے عزیزو اقارب کو رمضان میں بلا کر بہترین افطاری کرائی جائے۔یہی خواہش ذہن میں تھی تو سوچا کیوں کہ اس بار استاد جی کو بھی مدعو کر لوں ۔انہیں دعوت دینے کی غرض سے ملاقات کے لیے جانا ہوا تو وہ قرآن پڑھنے میں مصروف تھے جب وہ فارغ ہوئے تو مسکرا کر میری جانب دیکھا  گویا میرے دل کی بات جان گئے ہوں۔میں نے زیادہ تمہید باندھے بغیر بس اتنا ہی کہا کہ استاد جی میرا جی چاہتا ہے کہ جمعۃ المبارک کا روزہ آپ میرے گھر پر افطار کریں اور بھی بہت سے لوگ مدعو ہیں، مجھے بہت خو شی ہوگی۔میری بات سن کر استاد جی بولے بچہ جی !


‘توُ آگے نکل گئی مجھ سے ، بس سادگی اختیار کرنا ’
استاد جی افطار پر تشریف لائے میں نے انواع و اقسام کے پکوان تیار کر رکھے تھے ۔استاد جی نے دستر خوان کی طرف دیکھا اور ایک لمبی سانس لے کر بولے ماشا اللہ ،اللہ تعالیٰ قبول کرے اور رزق میں برکت دے ۔استاد جی نے افطار میں صرف سادہ پانی،کھجور اور تھوڑی سی فروٹ چاٹ لی اور ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔اس کے بعد کہنے لگے بچہ جی ! اپنے ارد گرد جو غریب اور مستحق ہیں ان تک بھی یہ رزق پہنچا دو تمہارا ثواب دگنا ہوجائے گا۔
جاتے جاتے دروازے پر رک کر ایک دم مجھ سے مخاطب ہو کر بولے۔
بچہ تمہیں روزے کا فلسفہ تو معلم ہے نا!
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
( سورة البقرہ کی آیت 183)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کر دیے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیروؤں پر فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو گی۔
تو بس یہ یاد رکھنا
‘ اگرعبادت میں نمائش شامل ہوجائے تو پھررب سے ستائش کی طلب مت رکھنا’

استاد جی توچلے گئے اور میں سوچتی رہی کہ کیا واقعی ہماری عبادت اب نمائش بنتی جارہی ہے ۔ دوسروں کو روزہ افطار کرانا بلاشبہ بہت ثواب کا کام ہے لیکن کیا اس سے ہم تقوٰی کی صفت پیدا کر پا رہے ہیں یا صرف دکھاوا ہی مقصود ہے؟

اس بات پرتوکسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا کہ روزہ دارکوافطاری کروانے کا بہت زيادہ اجروثواب حاصل ہوتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اس طرح فرمایا:
 (جوکسی کوروزہ افطار کرواتا ہے اسے بھی روزہ دار جتنا ہی ثواب حاصل ہوتا ہے ، اورروزہ دار کے اجروثواب میں کچھ بھی کمی نہیں ہوتی ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 708 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الترغیب والترھیب ( 1078 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
 یہ ثواب ہرافطاری کروانے والے شخص کوحاصل ہوتا ہے، جسمیں یہ کوئي شرط نہیں کہ روزہ دارغریب مسکین اورفقیر ہو ، اس لیے کہ یہ افطاری کوئي صدقہ وخیرات نہیں ہوتی کہ اس کےلیے غریب ومسکین ہونا شرط یا لازمی ہے بلکہ یہ افطاری تو بطور ہدیہ ہے ، اورہدیہ میں یہ شرط نہيں کہ جسے ہدیہ دیا جارہا ہے وہ غریب ومسکین اورفقیر ہو بلکہ ہرغریب وفقیر اورمالدار کوہدیہ دینا جائز ہے اس میں آپ کی محبت اور خلوص اور اپنے رب کی رضا شامل ہوتی ہے۔لیکن  ہمارے ہاں یہ روایت فروغ پا رہی ہےکہ  لوگ افطاریاں اپنے مال دولت کی نمائش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ ہم لوگ جوبرانڈز کے عادی ہوگئے ہیں اب ہمارے روزے اورعبادات بھی ‘برینڈڈ ’ ہوگئی ہیں۔اس میں بھی مقابلے کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ اگر اس نے پانچ ڈشیں رکھی ہیں تو ہم نے کم از کم آٹھ رکھنی ہیں۔اس نے مٹن قورمہ کھلایا تو ہمیں بھی مٹن بریانی تو لازمی رکھنی ہوگی ۔کیا ایسی سوچ یا مقابلے بازی سے اورکیا اس نیت سے کی جانے والی تقریبات سے ‘ لعلکم تتقون’ کا مقصد پورا ہو رہا ہے یا نہیں؟
کیا یہ صرف نمائش ہے یا واقعی اس سے ہماری روح کو پاکیزگی حاصل ہو رہی ہے۔کیا رشتہ داروں کی تواضع کے ساتھ ساتھ غریب کی چارہ گری بھی ہو رہی ہے ؟۔اگر اس روٹین کے ساتھ آپ کی عبادات میں خلل پیدا نہیں ہو رہا تو پھرآپ اپنے مقصد میں کامیاب ہیں۔
مسند احمد میں حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے” رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا جس نے دکھاوے کا روزہ رکھا اس نے شرک کیا جس نے دکھاوے کے لئے صدقہ کیا اس نے شرک کیا” گویا دکھاوے کی عبادت ہو یا نیکی یا چاہے افطارڈنر ہی سہی اس کو شرک کے ساتھ مقام دے دیا گیا ـ
ہونا یہ چاہیے کہ اپنے جیسے با حیثیت لوگوں کوافطاری پر بلا کر لاتعداد قسم کے کھانے کھلانے کے ساتھ ساتھ اپنے قرب و جوار میں زیادہ سے زیادہ سفید پوش مستحقین کو چپکے سے افطاری کرادی جائے یا مہینے بھر کاراشن دے دیا جائے تاکہ وہ بھی اس ماہ کی برکتوں سے فیضیاب ہو اورآپ کو بھی روزے کا حقیقی ثواب حاصل ہو۔
ایک اوربات خیرات ہو یا صدقہ دوسروں کی مدد کا ایک اہم زریعہ ہے لیکن نمائش کرکے دیئے جانے والا صدقہ اللہ کو بالکل پسند نہیں۔کوشش ہونی چاہیے کہ  زکٰوۃ  دیتے وقت بھی یہ دھیان رہے کہ لینے والے کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔لیکن اب تو یہ عالم ہے کہ غریب کو ایک آٹے کا تھیلا دیتے وقت بھی کمیرہ کی آنکھ میں محفوظ کر لیتے ہیں اور پھر اس نیکی کی خوب تشہیر کی جاتی ہے اور لینے والا اپنے اندر ہی دفن ہوجاتا ہے۔
یاد رہے کہ ماہ رمضان نیکیوں کا موسم بہار ہے اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اس میں کی گئی عبادات اورنیکیاں ان  گنت ثواب کی حامل ہیں تو ہمیں اسے گنوانا نہیں چاہیے۔ روزہ ظاہراورباطن کی اصلاح کا طریقہ ہے، یہ بھوک پیاس اس جذبے سے برداشت کرنے کا نام ہے تاکہ ہم دوسروں کے درد کو محسوس کر سکیں اور اللہ کے دئیے رزق میں سے اس کے مستحق بندوں کو بھی دیں ۔ روزہ اپنی دنیا ،دین کے تابع کرنے کا دوسرا نام ہے ـ اگر اس مہینے بھی ہم دنیا داری اور ریاکاری کے چکر میں لگے رہے تو پھر یہ روزہ جسمانی مشقت کے سوا اور 
http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/11-05-2019/details.aspx?id=p10_10.jpg&fbclid=IwAR0K_yVOxY1nEhaMiMpHhYwYnotN_EWVXTr04daje-lQrBegmXYPtvOiXbgکچھ نہیں ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...