Skip to main content

رمضان کا مہینہ روح کی آکسیجن کا خزینہ



جیسے جیسے رمضان کی آمد قریب ہورہی ہے،دل کی حالت عجیب ہورہی ہے،ایسا لگتا ہےکہ وقت کم ہےاور بہت سے کام کرنا باقی ہیں ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا رمضان کی تیاری کیسےشروع کریں؟ استاد جی سے رہنمائی لینےکا ارادہ کیا تووہ نہرکنارے بیٹھےملے۔ مجھےدیکھ کرمسکرانے لگے گویا میری سوالیہ نظریں بھانپ گئے ہوں۔ میرے کچھ پوچھنےسے پہلے نہرکی طرف اشارہ کرکے بولےاس مچھلی کو دیکھو تھوڑی تھوڑی دیربعد اوپرآکرآکسیجن لیتی ہے پھراپنی دنیا میں چلی جاتی ہے کیا اس کواپنی دنیا میں آکسیجن نہیں ملتی؟ شائد یہ اپنے رب کا شکرادا کرنے پانی کی سطح پرآتی ہے۔
بچہ جی ! ہمیں بھی یہ آکسیجن حاصل کرنے کا موقع دن میں پانچ بارنمازکی صورت میں ملتا ہے۔ لیکن ہم دنیا کی رنگینیوں میں اتنا مگن ہیں کہ اس طرف نہیں جاتےاوراپنی روح کوآکسیجن سے محروم رکھتے ہیں۔اس کمی کوپورا کرنے کے لیےمیرے رب نے رمضان کا تحفہ دیا ہے جس میں سب سے پہلے توشیطان کوقید کردیا جاتا ہے پھراللہ اپنی رحمتوں کی سیل لگا دیتا ہے۔وہ اپنے بندوں کی نیکی اورعبادات کے بدلے آکسیجن کی مقدارمیں غیرمعمولی اضافہ کردیتا ہے۔ ایک مہینہ کے لگاتار روزے اورعبادت انسان کو سفید چادرکی طرح بے داغ کر دیتی ہے۔جواس مہینے کو صحیح طریقہ سے گزار لیتا ہے اس کی پورے 

سال کی تربیت ہوجاتی ہے۔
میں نے استاد جی سے پوچھا کہ سمجھ نہیں آتا کہ رمضان کی تیاری کیسے کریں اور کہاں سے شروع کریں گھر کی صفائی ستھرائی،اہتمام اورخریداری بھی کرنی ہے تاکہ رمضان میں اچھی طرح سے عبادات ہوسکیں۔استاد جی بولے بچہ جی !
اس بار گھر کی صفائی کے ساتھ ساتھ اپنے دل کی صفائی بھی کرتے جائو اتنا رحمتوں بھرا مہینہ ہے ،اتنے میلے کچیلے گناہوں سے آلودہ دل کے ساتھ روزے رکھو گے تو رمضان کا مقصد کبھی بھی نہیں پا سکوگے؟
بات اتنی مشکل تو نہیں تھی مگر اتنی آسان بھی نہ تھی میں نے پوچھا گھر کی صفائی تو سمجھ میں آتی ہے مگر دل کی صفائی کیسے کروں؟
استاد جی بولے ! بہت آسان ہے اگر تمہارے دل میں کسی کے لیے زرا سی بھی نفرت ہے اس کوختم کردو۔ کسی کی کامیابی دیکھ کر جلن محسوس ہوتی ہو تو اللہ سے توبہ کرو اور اس پررشک کرو۔کسی بہن بھائی عزیز نے تمہارا دل توڑا ، تمہاری حق تلفی کی ہے تو اسے معاف کردو۔ ناراض بہن بھائیوں میں صلح کرادو، ایک دوسرے کی غیبت کرنا چھوڑدو، اگر تم نے کسی کا دل دکھایا ہے تواس کے پاس جا کر اس سے معافی مانگو۔بات بات پرجھوٹ بولنے کی عادت ہو تو رمضان سے پہلے اس عادت کو ختم کرے۔  
لوگوں کی کامیابی میں روڑے اٹکانا چھوڑدو،دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھو
بات بات پرلڑنے کےعادی ہو تواپنے لہجے میں نرمی اور مٹھاس پیدا کرلو
جب اپنی الماریاں صاف کرنے لگو تو ضرورت سے زائد کپڑے نکال کر کسی ضرورت مند کو دے دو
استاد جی زرا توقف کے بعد بولے اسی طرح اپنے مال کو بھی صاف کر سکتے ہو
بازار خریداری کرنے جائو تو اپنے بچوں کے کپڑوں کے ساتھ ایک جوڑا ملازم کے بچوں کا بھی لے لو
راشن خریدو تو کچھ ضرورت کا سامان کسی ضرورت مند کو بھی دے دو۔
اپنے اردگرد ان لوگوں پر نظردوڑائو جن کی غیرت ا نہیں کسی کے آگے پاتھ نہیں پھیلانے دیتی۔ ان کی خاموشی سے مدد کرو تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
بہت سے کام ایسے ہیں جن پر پیسے نہیں لگتے مگر وہ دگنا منافع دے جاتےہیں اسلیے تم جہاں تک ہو سکے دوسروں میں خیر اورآسانیاں بانٹو۔کوئی بیمار ہو تو اس کے پاس جا کر بیٹھ جایا کرو اس سے اچھی اچھی باتیں کرو اس کا حوصلہ بڑھے گا تو یہ نیکی کڑوروں خرچ کرنے سے بہتر ہے۔
کسی غریب کے بچے کو پڑھنے میں مدد کردیا کرو،کسی بچی کا رشتہ نہیں ہو رہا اس کے لیے کوشش کرلو۔کسی کو ملازمت نہیں مل رہی اس کے لیے روزگار کا انتظام کروادواورکچھ نہیں تو کسی دکھی انسان کے پاس بیٹھ کراس کی داستان سن لو تاکہ اس کے دل کو بوجھ ہلکا ہو سکے۔ ڈاکٹر ہو تو کسی مستحق کا مفت علاج کردو اس کو خواری سے بچا لو اگر تم استاد ہو تو بچوں کی اچھی تربیت کرلوجس مضمون میں وہ کمزور ہے اس کی مدد کردو۔دکاندار ہو تو خالص مال بیچو اورجائز منافع لو۔ اگر کوئی غریب دکان پر آجائے تو اسے بغیر منافع کمائے ہی چیز بیچ دو،اس کا منافع اللہ دے گا۔منصف ہو توامیرغریب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرو۔اگر حاکم ہو تورمضان سے پہلے عوام کو ہرممکن سہولت دو تاکہ وہ اس ماہ مبارک کا لطف اٹھا سکیں۔ غرضیکہ ہزاروں طریقے ہیں دل کو صاف کرنے، روح کو پاک کرنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کے جو ہم رمضان سے پہلے کرسکتے ہیں۔
مزہ تو تب ہے کہ اس ماہ مبارک میں نہ کوئی بھوکا نہ رہے نہ بے لباس ۔ امیرغریب سب عید منائیں اوریہ مقصد حاصل کرنے کے لیے ہم سب کواپنا اپنا کردارادا کرنا ہے۔انہی کاموں کے ساتھ اپنے ضروری کام بھی نمٹاتے جائیں وہ بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔
دل اور گھر کی صفائی کے بعد ضروری ہے کہ ماہ صیام کی آمد سے پہلے اس کی فضیلت اورمقصد کو اپنے ذہن میں تازہ کریں تاکہ اس سےبھرپور فائدہ اٹھاسکیں۔کچھ اہداف سامنے رکھ لیں پھران کوحاصل کرنے کی ہر ممکن سعی کریں۔
سب سے پہلے اپنے اندرتقوٰی کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں جو روزہ کا اصل مقصد ہے۔حقوق اللہ سے متعلق امور کی لسٹ بنا لیں۔ عبادات نماز،روزہ،تراویح ،شب بیداری قرآن مجید کی تلاوت ترجمہ وغیرہ۔ روزے رکھنے کی تھوڑی بہت عادت شعبان میں ہی ڈال لینی چاہیے۔ جبکہ اسی مہینے سےقرآن پاک کی روزانہ تلاوت کا معمول بنالیں ۔ اس بات کی نیت کرلیں کہ رمضان میں ایک بارپورے قرآن کا ترجمے کے ساتھ اعادہ کرناہے اگر آپ کےآس پاس کوئی دورہ قرآن ہو رہا ہوتواسمیں ضرورشریک ہوں۔ ۔ اس رمضان توبہ کا خصوصی اہتمام کریں اس سے رب اور انسان کے درمیان فاصلہ ختم ہوتا ہے۔
حقوق العباد سےمتعلق معمولات کی بھی فہرست بنالیں جورمضان المبارک میں ادا کرنے ہیں۔جس میں سب سے اہم غربا پروری اوردوسروں کا احساس ہے۔ رمضان سے پہلے ہی زکوٰۃ ،صدقات مستحق لوگوں تک پہنچا دیں۔رمضان میں کوشش کریں کہ عزیز واقارب کےساتھ غربا کوبھی افطار کرائیں۔
الغرض رمضان کونیکیوں کا موسم بہار کہیے ، روح کی آکسیجن کا خزانہ یا پھر ہیرے جواہرات کی کان جسمیں آپ کو ایک ماہ کے لیے بھیجا جاتا ہے کہ جائواوراپنے تقویٰ اورعبادت سے زیادہ سے زیادہ ہیرے چن لو۔لیکن یاد رہے شعبان میں نیکیوں کے بیج ڈالیں گے تو رمضان میں یہ کھیت لہلہائے گا۔ اگراس کھیت کو رمضان کے بعد بھی ہرا بھرا رکھنا ہے تو کوشش کرنا کہ ظاہر باطن ایک ماہ کے لیے نہیں بلکہ سال بھر کے لیے تبدیل ہوجائے۔
!

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

آپ کا صرف ایک ریمارکس کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے ،امانت،،سچائی ،عدل ،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں ۔ظلم وناانصافی کےاس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی روئیوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔ دوسرے منقی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں  زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا  واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ  ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ ...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...