Skip to main content

بھکاری گینگ نے کیا جینا حرام معاشرہ حکومت کس کو دیں الزام

بچے کی دوا کے کر کلینک سے باہرنکلی تو ایک عورت نے فریاد کی باجی بچے نے صبح سے دودھ نہیں پیا، اللہ کے واسطے کچھ دے دیں!چونکہ میرا بیٹا بھی بیمار تھا تو اس کا بچہ دیکھ کر ترس آیا اور 100 روپے کا نوٹ اسے تھما دیا۔ نوٹ لے کر وہ عورت انتہائی  ناگواری سے بولی میرا بیٹا تو صرف لیکٹو جن 1 دودھ پیتا ہے،مجھے اس ۱۰۰ روپے کا کیا فائدہ یہ سن کر پہلے تو میں اس کی شکل دیکھتی رہ گئی پھر اچانک مجھے شدید غصہ آیا  تو میں نے اسے کہا کہ تم ہٹی .
کٹی ہو جا کر مزدوری کرو اگر بچے کے دودھ کی اتنی فکرہے!
اسی طرح ایک ساتھی نے بتایا کہ ہماری گاڑی کے قریب ایک بابا جی آئے اور کہا کہ جائے نماز خرید لیں میں نے ان کو 100 روپے دیئے تو بولے اتنی بڑی گاڑی اور بس 100 روپے اور میں حیران رہ گئی کہ سو روپے ان کو جچتے ہی نہیں۔
میرے ایک جاننے والے نے بتایا کہ ان کے ہاں کافی عرصے تک اولاد نہ ہوئی تو کافی لوگ ان کے لیے دعا کرتے تھے انہی کے محلے میں ایک خواجہ سرا تھا اس نے دعا دی کہ اگر تہمارا بیٹا ہوا توپورے پانچ ہزارلوں گی۔بحرحال اس واقعے کے کئی سالوں بعد اللہ نے ان کو بیٹا بیٹی کی دولت سے نوازا۔ ان صاحب نے دل کھول کر خیرات کی۔کافی عرصہ بعد اچانک وہ خواجہ سرا نظر آیا تو ان صاحب کو اپنا وعدہ یاد آگیا اور انہوں نے فوراً پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر اس کو تھما دیا خواجہ سرا بہت حیران ہوا کہ اس شخص نے اتنے سال پرانی بات یاد رکھی۔اب کیا ہوا کہ وہ خواجہ سرا خود کو پیر ماننے لگا،یہ تو اللہ جانتا ہے کہ کس کی دعا سے اولاد ہوئی بحرحال وہ خواجہ سرا ہر دوسرے روز پیسے مانگنے آجاتا،صاحب نے اسے دو سو روپے دئیے تو اس نے اٹھا کر زمین پر دے مارے کہ مجھے بس دو سو دے رہے ہو اپنے 


پاس رکھو!
تو جناب یہ تھے چند مشاہدات اور ان مانگنے والوں کی دماغی حالت!!
 اب اصل موضوع کی طرف بڑھتے ہیں، کسی بھی مہذب معاشرے میں بنیادی ضروریات روٹی کپڑا صحت کا ملنا ہرانسان کا حق ہے اوریہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کوروزگار مہیا کرے اور بہتری کے اقدامات کرے۔ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں، روزگار کے مواقع ہوں ان میں خود داری پیدا ہو اوروہ کما کر فخرمحسوس کریں۔ ریاست کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھیک مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی کرے۔
 خوش قسمتی سے ہمارے ملک میں نرم دل اورخدا ترس لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اگر کوئی بھکاری آ جائے تو 10 میں سے7 لوگ اس کو کچھ نہ کچھ دے دیتے ہیں اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ بنا کچھ محنت کیے ہی اچھی خاصی آمدن بن جاتی ہے،بس ایک دفعہ ہاتھ پھیلانا ہیاورپیسے حاضر، ہمارے ہاں یہ ایک انڈسٹری بنتی جا رہی ہے۔ بڑے شہروں میں ایک گھرکرائے پر لیا جاتا ہے، 50۔60 مرد عورت وہاں رہتے ہیں صبح مانگنے نکلتے ہیں اوررات کو واپس آتے ہیں پیچھے دوعورتیں چھوڑ جاتے ہیں ان کا کھانا وغیرہ تیار کرتی ہیں وہ اس کا خرچہ ان کو دیتے ہیں۔ پھریہ مختلف  حربے آزماتے ہیں۔ان میں بڑے، بچے،عورتیں اورنقلی معذور افراد ہوتے ہیں۔
بڑے شہروں میں ان کو بھیک زیادہ ملتی ہے تو وہاں زیادہ اڈے قائم کر لیتے ہیں۔ ایک قسم جعلی ہیجڑوں کی ہے جو لوگوں کی گاڑیاں بجا بجا کر بھیک مانگتے ہیں،لوگ ان کی بد دعا سے ڈر کران کو بھیک دیتے ہیں یہ بھی خوب کمائی کرتے ہیں ہراشارے پر آپ کومانگتے ملیں گے۔ پھران میں کچھ نابینا ہوتے ہیں جب ان کو کبھی کوئی پکڑ لے تو ان کی نظر واپس آ جاتی ہے۔کچھ معذوروں کوپکڑیں تو ٹانگیں واپس آجاتی ہیں۔ ان ماہرنفسیات بھکاریوں کی پسند ترین جگہیں عدالت، بس اسٹینڈ،ریسٹورنٹس، اسٹیشن، ہسپتال اورشاپنگ سینٹر ہیں جبکہ یہ ڈاکٹروں کے کلینک، میڈیکل سٹوراور کھانے پینے کے اسٹال پربھی نظر آتے ہیں۔ یہ لوگ آپ کو کہیں چین نہیں لینے دیں گے جس چوک ہوٹل دوکان پر کھڑے ہوں گے یہ آپ کی گاڑی اتنے حق سے بجائیں گے کہ آپ ڈر جایئں گے؟کھانے کی جگہ پریہ آپ کو اس طرح دیکھیں گے کہ آپ کا کھانا حرام ہو جائے گا کچھ دے کر ہی جان چھوٹے گی پھراس میں وارداتیے بھی آ جاتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے ڈرائیونگ سیٹ کی طرف کا شیشہ بجے گا آپ اس طرف دیکھیں گے تو دوسری طرف سے کوئی بچہ اپنے پتلے ہاتھ سے آپ کا موبائل یا پرس یا اور کوئی قیمتی چیز لے کر بھاگ جائے گا اور آپ کچھ بھی نہیں کر سکیں گے یہ بہت عام ہوتا جارہا ہے۔ پھر ایک اور قسم جو آپ کو مسجد میں نماز کے بعد سوال کرتے نظر آئیں گے جب آپ ان کو دیکھیں گے آپ کی آنکھ میں بھی آنسو آ جائیں گے ان کا مطالبہ تین سے دس ہزار روپے تک کا ہوتا ہے۔ کسی نے مکان کا کرایہ دینا ہے تو کسی نے فیس،بجلی گیس کا بل یا پھر کسی نے ادویات لینی ہوتی ہیں۔ ان میں ہر عمر کیمردعورتیں شامل ہیں۔ان کے ہاتھوں روز ایک بندہ بھی پھنس جائے تو اچھی خاصی دیہاڑی لگ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ان پروفیشنل لوگوں کی وجہ سے ضرورت مند سفید پوش طبقہ مارا گیا ہے ان تک لوگوں کی رسائی بہت کم ہو گئی ہے۔
اب اس کا حل کیا ہے؟
یہ مسئلہ اتنا گھبیر ہو گیا ہے کہ یوں نظر آتا ہے کہ کبھی حل نہ ہوسکے گا۔اس کے حل کی سب سے پہلی ذمہ دار تو بحرحال حکومت ہے اور مدینے کی ریاست کا دعویٰ کرنے والوں کو سب سے پہلے اس مسئلے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم سب بھی اس کے خاتمے میں اپنا کردار بخوبی ادا کرنا چاہیے۔سب اپنے اردگرد سفید پوش پر نظر رکھیں محلہ میں دفتر میں دوکان پر فیکٹری میں اپنے اردگرد والے کی ضرورت پوری کریں اصل نیکی یہ اوراسلام بھی اسی کا درس دیتا ہے اس میں اپنے بہن بھائی عزیز رشتے دار سب کا خیال کریں،کسی محنت کرنے والے بچے کی مدد کردیں کسی غریب پھل فروش سے بلا ضرورت کچھ خرید لیں۔ان پیشہ وربھکاریوں کو دینے سے بہتر ہے سفید پوشوں کی مدد کریں۔ حکومت کو بھی ایسا سخت ماحول بنانا چاہیے جہاں بھیک مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ تاکہ وہ محنت مزدوری کی طرف آئیں۔ مانگنے والے بچوں کے لیے فری تعلیم اورخوراک کا انتظام ہو،معذوراورلاوارث بزرگ اولڈ ہوم میں لے جائے جائیں،نشئی افراد کو بحالی سنٹرز کے حوالے کیا جائے۔ اس کام کیلیے حکومت کو چاہیے کہ سماجی کارکنوں اورعام لوگوں کے ساتھ مل کر ایک بڑی کمپین چلائی جائے اورایک مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ معاشرے سے اس لعنت کا خاتمہ کیا جاسکے۔

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/30-03-2019/details.aspx?id=p10_08.jpg&fbclid=IwAR3QapCYyqDNUJcCG3QZc19oRgM4vFjh7F97DJwdEJA3s5YRAIlNzgxnibE

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...