Skip to main content

ستاروں کی محفل ۔۔۔۔۔۔۔ دور ہے منزل

زندگی میں ہرکسی کی ترجیحات اورخوش ہونے کا معیارالگ ہوتا ہے کوئی ایک شمع جلا کر تنہا خوشیمحسوس کرتا ہے توکوئی ستاروں کی محفل سجا کر۔ کوئی دولت کو اپنا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتا ہے اور کوئی شہرت یا عہدے کو! لیکن درحقیقت مخلص اچھے صاف نیت کے لوگ اگر آپ کو کہیں مل جائیں تو وہ یقیناً آپ کی  زندگی کا بہترین سرمایہ ہوتا ہے۔اسی سرمائے کی جستجو میں 29 مارچ 2019 کو پرنٹ میڈیا  اور الیکٹرانک میڈیا کے منتخب ستاروں کو اپنے گھر مدعو کیا جن میں سے کچھ میرے سینئرزصحافی اور کچھ ہم عصر تھے۔ اس دعوت کا سب سے بڑا محرک سینئر خاتون صحافی رابعہ نور کو ملنے والا جمال خشوگی ایوارڈ تھا جو اس کی بے باک صحافت کی بنا پر پورے ایشیا میں صرف رابعہ کو اور پوری دنیا میں صرف پانچ لوگوں کو ملا ہے۔


چونکہ رابعہ اورمیں سابق کولیگ تھے تومیں نے سو چا اس کی بھرپور پذیدائی کی جانی چاہیے ۔ اسی دوران میرے شوہر نامدارمیاں شاہد محمود صاحب کے کالج زمانے کے دوست اورفرانس پیرس میں پاکستان پریس کلب کے صدرمیاں امجد بھی پیرس سے تشریف لائے ہوئے تھے تو سوچا ان سے بھی ملاقات ہوجائے اوروہ بھی چاہتے تھے کہ سب سینئر صحافیوں سے ملاقات کا اہتمام ہوجائے۔ چنانچہ ہم نے سب کو دعوت دینا شروع کی اورہمارے لیے یہ بات انتہائی خوشگوار حیرت کا باعث تھی کہ ایک دو لوگوں کی ذاتی مجبوری کے علاوہ سب لوگوں نے اس محفل کو رونق بخشی اتنے سینیر،استاد کا درجہ رکھنے والے صحافیوں کو سامنے دیکھ کرہماری خوشی کی انتہا نہ رہی تھی ۔ جہاں اپنے ہم عصر کےساتھ بہت اچھا وقت گزارنے کا موقع ملا وہیں ان سینئر صحافیوں سے ہلکے پھلکے ماحول میں گپ شپ کا مزہ بھی لیا۔میزبانی کے فرائض میاں شاہد محمود اورناچیز کے ذمہ تھے جبکہ تقریب کے شرکا میں ایڈیٹر نوائے وقت گروپ سعید آسی ، نامورکالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی، بی بی سی منسلک رہنے والے وقت نیوز اور سماء ٹی وی کے سینئر صحافی شاہد ملک ، اینکر پرسن سیئنر صحافی طاہر ملک ،سینئر صحافی زاہد رفیق ، ڈپٹی کے نام سے معروف محترم جناب رضوان رضی ،معروف شاعر اقبال راہی صاحب،فاروق بھٹی صاحب، نامور اینکر پرسن احتشام الرحمان، پروفیسرعاطف بٹ ،میاں آفتاب رحیم ،معروف اینکر سلمان حیدر ، یونیفائیڈ میڈیا کلب کے صدر محمد حسان احمد۔ محمد اسجد ،عرفان کلیم ،سعید زمان نیازی،رابعہ نور، صبا، بتول سرفراز ،فاروق سپرا اور نوشین نقوی نے شرکت کی ۔
پروگرام کا باقاعدہ آغاز محمد ریان شاہد کی تلاوت سے ہوا اس کے بعد رابعہ نور کو منظوم خراج تحسین پیش کیا گیا۔بعد ازاں میاں امجد نے سینئر صحافیوں کے ساتھ مل کر کیک کاٹااور پاکستان کی موجودہ صورتحال اور پیرس میں پاکستان کے مثبت پہلو اجاگر کرنے کے حوالے سے اپنی کوششوں کے بارے میں بتایا ۔اس کے بعد سب کو دعوت دی گئی کہ وہ اظہار خیال کریں۔
سینئرشاہد ملک صاحب نے پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کردلوں کو جیت لیا۔جب انہوں نے وقت نیوز مرحوم کے پرانے ہمکاروں کے نام ایک شعر بیان کیا جو پوری محفل کی دل کی آواز تھا۔
سالہا  سال  سیاہی  کا   سفر
 پر یہ اعزاز کہ ہم ساتھ رہے
تمام سینیئرز نے اپنی لطیف گفتگو سے محفل کو کشت زعفراں بنائے رکھا۔ معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی تھوڑا تاخیرسے اپنے وعدے کے مطابق تقریب میں شریک ہوئے اور دلوں پر صدارت کی۔  
سینئیرز کے تجربات ۔ واقعات ۔ ادب و تاریخ کی باتیں ۔ گزرے وقت کی یادیں ۔ شاعری اورحالات پرتبصرہ الغرض اس محفل کو یادگار بنا دینے والے سب لوازمات موجود تھے ۔ یوں لگ رہا تھا جیسےکسی نئی روایت کی بنیاد پڑ گئی ہو ۔ ہر وقت اپنی خبروں کی دنیا مہں مگن رہنے والے خلائی لوگ بھی آج عام جذبات سے بھرپور انسان لگ رہے تھے جی چاہ رہا تھا سارا منظر آنکھوں میں قید کر لوں جو بحرحال کافی کیمروں میں قید ہوگیا۔
 سب لوگوں کی گفتگو کا حاصل یہ تھا کہ ادارہ کوئی بھی ہو ماحول انسان خود بناتا ہے اوراگر ہم ایک دوسرے کے لیے  آسانیاں پیدا کریں ایک دوسرے کی کامیابی پر حوصلہ افزائی کریں تو صحافتی اداروں کا ماحول بہتر بنایا جا سکتا ہے اوراس طرح مختلف گروپوں میں تقسیم ہونے کے بجائے ایک پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کی جنگ لڑسکتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر سب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس طرح کہ تقریبات بار بار رکھی جانی چاہییں ۔یوں ایک چھوٹی سی تقریب نے ہم سب کے دلوں میں ایک دوسرے کا مقام بھی بڑھا دیااورتعلق کی تجدید بھی ہوگئی۔
دیکھا جائے تو صحافی وہ ذمہ دارطبقہ ہے جواگر ڈٹ کرکام کرے تو اس معاشرے کو گراوٹ سے نکال کر آسمان کی بلندیوں پر لے جاسکتا ہے لیکن میڈیا مالکان کے دباؤ میں مجبور ان صحافیوں کو کسی بھی چینل یا اخبار میں کوئی مالی تحفظ حاصل ہے نہ جانی۔صحافی کہلانا یا بننا اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ان کو اپنے صحافتی دورمیں بہت سے مسائل سے دوچارہونا پڑتا ہے کبھی تنخواہوں کی عدم فراہمی کبھی بنیادی سہولیات کی کمی،کبھی اپنی شعلہ بیانی یا حاکم وقت کے خلاف قلم کشائی سے انہیں جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے تو کبھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف الزمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔درحقیقت صحافی کی ذاتی زندگی تقریباً ختم ہوچکی ہوتی ہے لیکن ان مشکلات کے باوجود وہ اپنا کام جاری رکھتے ہیں جنہیں کبھی کبھار حوصلہ افزائی کے انجیکشن لگتے رہنے چاہییں نہیں تو ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور یہ بالکل روبوٹ کی مانند نظر آتے ہیں۔ عیدیں میلے ٹھیلے کسی چیزکو یہ کھل کر انجوائے نہیں کرسکتے نہ ہی کوئی ایسی نجی ادبی یا صحافتی محفلیں ہوتی ہیں جہاں یہ تھوڑا سانس لے سکیں۔نہ ان کے اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ یہ ایسی بیٹھک کا اہتمام کر سکیں۔ لیکن ہم نے مل بیٹھنے کے اس کلچر کو جلا دینے کی ایک کوشش کی یہ تھوڑا مشکل ضرور لگتا ہے لیکن اچھےمثبت سوچ والے صحافی قلمکار آگے آئیں تو کبھی کبھار ایسے پروگرام رکھے جا سکتے ہیں۔ان غیر رسمی ملاقاتوں کے بہت دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ان محفلوں میں سینئرصحافیوں کی اپنے جونئیر کے ساتھ ہلکی پھلکی گپ شپ بہت کچھ سیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور ان کے اندر کام کرنے کا نیا جذبہ بھی جنم لیتا ہے۔
 اس کالم کے ذریعے ایک ہی پیٖغام دینا مقصود ہےکہ اگرمیڈیا کے لوگ ایک دوسرے کا احساس کریں خود غرضی کے دائرے سے نکلیں تو کافی حد تک مسائل پر قابو پاسکتے ہیں اور بڑا بننے کے لیے اونچے قد کی نہیں بلکہ اعلیٰ ظرف کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ حکومت اور اداروں سےاپیل ہے کہ خدارا ان کے حقوق کا تحفظ کریں۔ اگران کو آزادی اظہارکا حق ،تحفظ اورآسودگی نہ دی گئی تو ملک میں صحافت کا مستقبل دائو پر لگ جائے گا۔
https://www.naibaat.pk/05-Apr-2019/22319?fbclid=IwAR3jDKYOB4_74LkClVxmCc0H6hs-KhmqVxHHl3uLztuJ5kqEHNVP_KatU1g

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...