آج کل ہرطرف خواتین ڈے کے موقع پرنکالی جانے والی عورتوں کی ایک ریلی کے چرچے ہیں جس میں انہوں نے اپنے نہایت عجیب و غریب اورغیر فطری مطالبات کے حق میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ان پلے کارڈ پر لکھے مطالبات سے عورتیں محروم تو لگ رہی تھیں مگر فہم و فراست سے اور عورت ہونے کے عظیم منصب سے جو اللہ نے انہیں عطا کیا ہے۔۔انہوں نے نہ تو جانے عورتوں سے کس بات کا بدلہ لیا ہے کہ ان کو ان کے منصب سے ہی گرا دیا۔یہ بلاشبہ ایک سازش اور بڑی مذموم کوشش ہے اورپرسکون معاشرے کو ہیجان میں مبتلا کرنے کی ناکام سعی ہے۔میں نے تو دیکھا ہے کہ اس کو مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کسی بھی حلقے کی جانب سے ان مطالبات کو یا اس قسم کی ریلی کو ایک فیصد بھی پذیرائی نہیں ملی۔
مجھے تو لگتا ہے کہ اس مارچ میں شریک خواتین کو صرف آزادانہ ماحول چاہیے جس کی اجازت ہمارا معاشرہ نہیں دیتا۔ان کے مطالبات سے صرف جنسی واہیاتی کے علاوہ کچھ واضح نہیں ہوتا۔ان کے کسی بھی مطالبے سے ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ خواتین کے حقوق چاہتی ہیں۔اگر خواتین مارچ دیکھنا ہی ہے تو کشمیری ماؤں بہنوں کی ریلی دیکھیں جنہوں نے اپنی آزادی کے لیے کتنی جرات اعتماد سے مطالبہ کیا!ان خواتین سے کوئی پوچھے کہ آخر پاکستان میں عورتوں کے مسائل ہیں کیا؟ کیا ان میں سے کسی نے فرسودہ رسوم و رواج ظلم کی چکی تلے پسی، کھیتوں میں کام کرنے والی جنسی زیادتی کا شکار،یا تیزاب سے جھلسی خواتین کے مسائل پر بات کی۔پاکستان کی سڑکوں پر خواتین کے حق میں نکالی جانے والی ریلی اگر واقعی عورتوں کے حق میں ہوتی تو اس میں آویزاں کئے گئے پلے کارڈ پر درج ذیل نعرے تحریر ہوتے 1۔’’تعلیم سب کے لیے‘‘ 2۔ ’’جائیداد میں حصہ میرا شرعی حق ‘‘ 3۔’’گھر کے کاموں میں عورتوں کا ہا تھ بٹانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی سُنّت ہے‘‘ 4۔’’بہترین مُسلمان وہ ہوتا ہے جو عورتوں سے اچھا سلوک کرے‘‘ 5۔ ’’مومن مردوں اپنی آنکھیں نیچی رکھو‘‘ 6۔ ’’بآ عزت روزگار ہر عورت کا بُنیادی حق ہے‘‘ 7۔ ’’ماں کے قدموں تلے جنّت ہے‘‘ 8۔ ’’بیٹیوں کو اچھی تعلیم اور تربیت دینے والا مرد جنّت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کا ساتھی ہے‘‘ 9۔’’قیامت کے دِن تُم سے عورتوں کے حقوق بارے پوچھ گچھ ہوگی‘‘ 10۔’’بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں‘‘ہمارا احترام اچھے معاشرے کی علامت ہے ، 11۔ ہم مائیں بہنیں بیٹیاں قوموں کی عزت ہم سے ہے ، 12 ۔ ہم اک قابل عزت زندہ جیتی جاگتی حقیقت ہیں۔ 13۔ ہم بیٹوں سے کسی طرح کم نہیں وقت پڑنے پر ماں باپ کا بیٹا بن سکتی ہیں۔14 ۔ اگر شادی کے بعد لڑکیوں کو اپنے ماں باپ کو ساتھ رکھنے کی اجازت ہوتی تو دنیا میں ایک بھی اولڈ ہوم نہ ہوتا۔ 15 ۔ جس گھر میں بیٹی نہ ہو وہاں رحمت نہیں ہوتی۔16 ۔ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے؟ان نعرے لگانے والی خواتین کے نام ایک پیغام میں بھی دینا چاہتی ہوں!
اپنا کھانا خود گرم کرلو کہنے والی بہنو! میری شادی کو 20 سال ہو گئے ہیں میں نے آج تک اپنے شوہر کو خود کھانا گرم نہیں کرنے دیا کیونکہ میں جانتی ہوںمیری عزت کا محافظ میرا سائبان میری معاشرے میں عزت اسی شوہر کے دم سے ہے۔ وہ جو تپتی دھوپ میں ہمارے لیے راحت کا سامان بہم پہنچاتا ہے جب وہ تھکا ہارا آتا ہے تو دل چاہتا ہے اس کے پیروں کی دھول کو اپنے ہاتھ سے صاف کروں ایسا کرنے سے میری شان میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اضافہ ہوتا ہے۔ جب ہم عید کی تیاریاں کررہے ہوتے یا شاپنگ پر جاتے ہیں تو اپنا بجٹ دیکھتے ہوئے وہ مجھے اور بچوں کو چار چار سوٹ دلا دیتا ہے اور خود پورے سیزن دو سوٹوں میں بھی گزارہ کر لیتا ہے۔ میرا شوہر خود پرانے لباس میں ہو مجھے ہر بار نئے جوڑے دیتا ہے خود سالہا سال ایک جوتے میں گزار دیتا ہے مجھے ہر بار نئے جوتے دیتا خّود سستے کپڑے لے کر مجھے برانڈڈ دلواتا ہے
تم ٹائر بدل لیتی ہو! میرا شوہر تو مجھے وزنی سامان تک نہیں اٹھانے دیتا جب ہم ساتھ جارہے ہوں گاڑی خراب ہو تو وہ ہمارے لیے ٹھنڈے پانی کی بوتل منگواتا ہے خود دھوپ میں کھڑے ہو کر ٹائر بدلتا ہے اگر ہمارے بیٹھے کوئی مانگنے والا یا بیچنے والا اندر جھانکے تو اپنی بیوی کی ذاتیات میں مداخلت کرنے پر اس سے لڑنے مرنے پر اتر آتا ہے۔تم موزہ ڈھونڈنے کا کہتی ہو! میرا شوہرتو دورنگ کے موزے بھی پہن لیتا ہے،کہیں دیر ہو جائے تو سو بار اپنے دیر سے آنے کی وجہ بتاتا ہے ہم کہیں چلے جائیں تو بے تابی سے منتظر رہتا ہے مجھے ایسے شوہر کا موزہ ڈھونڈنے سے زیادہ ضروری کوئی کام نہیں لگتا۔
تم برابری کا نعرہ لگاتی ہو! مجھے اچھا لگتا ہے باہر چلتے ہوئے اس سے ایک قدم پیچھے رہنا مکہ میں حرم کے طواف میں اس نے کہا کہ مجھے پیچھے سے مضبوطی سے پکڑ لو تاکہ راستہ بنانے میں دشواری نہ ہو اس نے ہزاروں لوگوں کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے مجھے حجر اسود کا بوسہ دلایا تاکہ میں اس شرف سے محروم نہ رہ سکوں ہاں اس نے یہاں مجھے برابری دی میرا شوہر خود سے بڑھ کر مجھے مان دیتا ہے۔
میری نادان بہنو!مجھے افسوس ہے تمہیں حق کے لیے باہر آنا پڑا میرا شوہر مجھے خود سے سارے حق دیتا ہے بدلے میں کچھ نہیں مانگتا بس اپنے گھر کے فرائض ادا کروں بچوں کی اچھی تربیت کروں اور ہاں میری تو شادی بھی بی اے کے بعد ہو گئی تھی میرے شوہر نے کہا پڑھنا چاہتی ہو تو پڑھ لو پھر اس نے مجھے خود یونیورسٹی میں داخلہ دلایا جہاں مخلوط نظام تعلیم تھا میرے سب اخراجات اٹھائے پھر میں نے اپنی مرضی سے جاب کی وہ مجھے لانے لے جانے کی ساری ذمہ داری نبھاتا رہا اور بہت خوش اسلوبی سے۔میں کما کر اس کو نہیں دیتی تھی نہ وہ حساب مانگتا تھا۔ مجھے جو بھی شوق تھے اس نے پورے کیے خواہ شاعری ہو یا ادبی محافل تو کیا وہ اس قابل نہیں کہ میں اس کی کبھی کبھار ڈانٹ برداشت کرلوں۔ وہ روز آفس سے کال کر مجھ سے پوچھتا ہے آج کیا لانا ہے؟ گویا میریرائے ہی سب باتوں پر مقدم ہے ویک اینڈ پر کہاں جانا ہے کسی کو کیا دینا ہے ہر معاملے سے مجھ سے مشورہ لیتا ہے پھر کیسی برابری کی خواہش؟ وہ مجھے ہاتھ بھی لگاتا ہے تو میری مرضی سے کبھی خود کو مجھ پر مسلط نہیں کیا
تم اپنا بتاؤ
کیا ہے کوئی جو تم سے کہے چھوڑ دو یہ میں کرتا ہوںارے نہیں نہیں!
تمہاری قسمت ایسی کہاں
تمہارا جسم تمہاری مرضیتم تو ٹائر بدلتی ہو
تمہیں تو بے طریقہ بیٹھنے کا
تمہیں تو حق چاہیےسنو میری نادان بہنو!
مرد ہی تکمیل ایمان ہے
دھوپ میں گھنا سائبان ہےمرد عورت کے لیے پورا جہان ہے
عورت کی زمیں کا آسمان ہے
میں عمر بھر اس کی خدمت کروں گی کھانا گرم کر کے دوں گی موزے بھی ڈھونڈوں گی اس کی پسینے والی بنیان بھی دھو دوں گی کیونکہ اس کے پسینے کی بو سے مجھے پیار کی خوشبو آتی ہے میرا مشورہ ہے وضو کرکے دو نفل توبہ پڑھو اور اپنے شوہر کی عزت کرو دیکھنا سارے حقوق قدموں کی خاک ہوں گے۔

Comments
Post a Comment