Skip to main content

اپنے من میں ڈوب کر تلاش کر اس کی جس نے یہ عزت بنائی



موجودہ ملکی حالات، روزبروزبڑھتی مہنگائی اوربحیثت قوم دنیا میں اپنی نا قدری جیسے کئی عوامل کے باعث دل بہت اداس تھا اسی کیفیت میں بوجھل قدموں کے ساتھ استاد جی کی طرف جانا ہوا تو وہ سادہ روٹی پرشکراوردیسی گھی ڈال کر کھا رہے تھے میں نے کہا استاد جی کیا بات ہے آج توموجیں ہو رہی ہیں۔استاد جی نے ایک نظر مجھے دیکھا اورسر جھکا لیا لیکن کچھ بولے نہیں۔ میں نے دوبارہ استاد جی کو پکارا انہوں نے سراٹھایا توان کی پلکوں کے نیچے نمی تیر رہی تھی۔ وہ بھاری آواز میں بولے  ‘بچہ جی ، ایک میرے رب کی ذات 

ہے جوعزت کے ساتھ روٹی دیتی ہے باقی تو سب رسوائی رسوائی ہے’۔
 میں نے حیرت سے پوچھا استاد جی روٹی تو سب کھاتےہیں اس میں عزت ذلت والی کیا بات ہے؟ کہنے لگے عزت والا رزق حلال ہے جواللہ تعالی اپنے بندوں کو دیتا ہے اور اس کو کھانے والا اسے ذہنی سکون اورعزت سے کھاتا ہے‘ تو بس اس رزق کی تلاش کر’۔ بچہ جی وہ بھی کوئی روٹی ہوئی  جسے کھانے کے بدلے بندوں کا شکر ادا کرنا پڑے یا جیل جانے کا ڈر ہو یا پھرایروں غیروں کی خوش آمد درکار ہو۔
 اقبال نے کیا خوب کہا ہے؛
اے طائرِلاہُوتی اُس رزق سے موت اچھی
 جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
استاد جی کی بات سن کر ذہن میں ہزاروں سوال جنم لے رہے تھے کہ استاد جی نے ایک جھوٹی سی پرچی تھما دی جس پریہ تحریر تھا۔
‘اسلام میں ہی عزت ہے’
 صحابہ رسول ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!
 جو مسلمان اپنی نسبت و تعلق کافروں کے ساتھ جوڑے گا اور کفریہ اعمال میں عزت تلاش کرے گا قیامت میں اس کا حشر کافروں کے ساتھ ہو گا۔ 
طارق بن شہاب کہتے ہیں، ایک وفد خلیفہ المسلمین حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بیت المقدس کی زیارت کے لیے روانہ ہوا ،حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے جب ہم بیت المقدس کے قریب پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اونٹنی سے اترکر پیدل چلنے لگ گئے اوراپنے جوتے اتارکربغل میں لے لیے۔ خلیفۃ المسلمین کی بے نیازی کو دیکھ کر حضرت ابوعبیدہ نے عرض کیا
امیرالمومین! بڑے بڑے یہودی ربی عیسائی پادری اورمسلم زعماء آپ کے استقبال کے لیے آ رہے ہیں آپ کی سادگی دیکھ کر وہ لوگ کیا سوچیں گے حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے ابوعبیدہ اگر یہ بات کوئی دوسرا کرتا تو میں اسےعبرت ناک سزا دیتا کیا تمیں معلوم نہیں ہم لوگ روئے زمین پر سب سے زیادہ ذلیل اور پست تھے اللہ نے اسلام کی برکت سے ہمیں عزت بخشی جب ہم غیراسلامی طور طریقوں اور عادات و اخلاق میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ تعالی ہمیں لوگوں کی نظروں میں ذلیل اور پشت کر دیں گے( رواہ الحال فی المدتی رک)
یہ پڑھ کر یوں لگا گویا کوئی تیردل پرجا لگا ہے۔سب سے پہلے توخیال آیا کہ کیا جو روٹی کھا رہے ہیں وہ عزت والی ہے یا نہیں ؟ پاکستان کے قیام سے اب تک کی صورتحال سامنے آگئی کہ کون سے حکمران تھے جنہوں نے ھمیں عزت کا نوالہ کھلایا یا اسلام پرعمل پیرا ہونے میں قوم کی عزت سمجھی ہو۔
خلاصہ یہی ہے کہ ہم نے جو بھی کام کیےوہ غیرمسلموں کی خوش آمد کے لیے کیے اوراس کے بدلےآج تک ذلت والی روٹی کھا رہے ہیں اتنا مکمل دین ،قرآن جیسی آفاقی کتاب، حضرت محمد ﷺ کے امتی اورعالمگیر نظام حیات سے وابستہ ہونے کے باوجود ہم احساس کمتری میں مبتلا لوگ ہیں جوغیرملکی آقائوں کی خوش آمد میں اتنا مگن ہوگئے کہ اپنی عزت تک نیلام کردی ۔ہم تو یہ بھی بھول گئے کہ عزت نام کس بلا کا ہوتا ہے۔
علامہ اقبال نے بھی بڑا جھنجھوڑا تھا اس قوم کو
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ﷺ
 72 لیکن
سال سے اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کرنے کے بعد بھی ہم غیروں کے درپراپنی عزت تلاش کررہے ہیں اوردربدر کی ٹھوکریں ہمارا مقدرہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ ان کو خوش کرنے کے لیے ہم نے اپنے اللہ اوررسول کو کتنا ناراض کیا ہےَ؟اپنے دینی احکامات سے کتنی روگردانی کی ہے؟ لال مسجد کا آپریشن ہو یا قبائلی علاقوں میں معصوم لوگوں کا قتل عام ، ممتاز قادری کی پھانسی ہو یا آسیہ بی بی کی رہائی ،نصاب سے جہاد اورختم نبوت کے مضامین نکالے جانے کا معاملہ ہو یا قرآن کی تعلیم دینے والوں پر سختی اور پابندی یہ وہ سب کام ہیں جو ہم باطل کو خوش کرنے کے لیے کر رہے ہیں اور اس کے بدلے بھیک لیتے ہیں لیکن یاد رکھیں بھیک منگوں کو پھرعزت نہیں ملتی ہے۔ وہ مدینہ کی ریاست جہاں تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کی کھلےعام اجازت ہو لیکن درس قرآن پرپابندی ہوتوپھراس پرصرف ماتم ہی کیا جا سکتا ہے؟
اس بات سے تو کسی کو اختلاف نہیں ہوگا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اوراس کے قیام کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ ملک جہاں مسلمان اپنے تشخص اوردین کے مطابق زندگی گزار سکیں تو اب کیا ہم اسلام کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں کیا واقعی ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے؟ کیا آج تک  کسی حکمران نے اس کو حقیقی اسلامی ملک بنانے کے لیے کوشش کی ،فوجی آمر ہوں یا جمہوری پادشاہ سب نے غیر ملکی آقائوں کے ایما اورصرف پانچ فیصد سے بھی کم سیکولر پسند یا لبرل ازم کے حامی لوگوں کے مطابق نظام بنانے کی کوشش کی اوروہ تمام اقدامات اٹھائے جن سے ہمارا تشخص زیادہ سے زیادہ پامال ہوا۔اگر کسی جماعت کی کوشش سے کوئی اچھا کام ہو بھی گیا جیسے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا تو اب یہ اس کے بھی درپے ہیں۔تشویش ناک بات تو یہ ہے کہ فیشن ناچ گانابے حیائی تو ایک طرف رہ گئی یہ تو ہمارے دین کی بنیادوں کو ہی ہلانے کی کوشش کر رہے ہیں،ختم نبوت،جہاد،قربانی ،ایثار ،سود ، یہ سب اسلام کے بنیادی اصول ہیں جن کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے نئی نسل کو ان سے بالکل بے بہرہ کیا جا رہا ہے۔ مگر کیا ایسا کرنے سے ہمارے حکمران وہ عزت کی روٹی حاصل کر پائے؟ وہ ایک لقمہ جسے ہم حلال کہہ سکیں کیا وہ ہے نصیب میں؟
ارے وہ جس کے پیچھے ہم اللہ رسول کی ناراضی مول لے رہے ہیں اپنے دین کی شکل بگاڑ رہے ہیں وہ تو ایک منٹ نہیں لگاتے آپکی  پتلون اتروانے میں۔ تف ہے ایسی عزت پر۔
آخر میں بس یہی کہنا ہے کہ جب تک اپنے دین سے دوررہیں گے ذلت و خواری ہمارا مقدر رہے گی۔ دین کیا ہے حاکمیت اعلیٰ خدا کی ذات ،عدل وانصاف ،ایمانداری ،اخوت، مساوات اورسود سے پاک معیشت توپھراس کو اپنانے سے کس بات کا ڈر ہے؟ اگر ہم نے دوبارہ اس دنیا میں سر اٹھاکر جینا ہے تو پھراسی نظام کو اختیار کرناہوگا جو ہمارے نبی آخرالزمانﷺ 
http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/04-05-2019/details.aspx?id=p10_06.jpg&fbclid=IwAR2sh43Ty9RFKEh0jVtW_DJy76wS7TzW8AgSjnmi4gG_1fWe0cBJEhFXYNwنے ہمارے لیے ترتیب دیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

آپ کا صرف ایک ریمارکس کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے ،امانت،،سچائی ،عدل ،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں ۔ظلم وناانصافی کےاس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی روئیوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔ دوسرے منقی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں  زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا  واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ  ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ ...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...