نمازعصر
کے بعد استاد جی کے ساتھ چہل قدمی جاری
تھی ۔
کہ ایک
قبرستان کے سامنے سے گزر ہوا استاد جی نے مڑکرمیری طرف دیکھا ، سرخ اور پرنم آ نکھیں
لیے بے ساختہ بولے (ماں نے بغیر تکبر کیے کئی تکبرکرنے والوں کو گود لے لیا ہے)
بات گہری
تھی اورسمجھ سے باہر تھی !
ماں اورتکبر؟
یہ کون سی ماں ہے!
جب کچھ پلے نہ پڑا تواستاد جی سے پوچھا یہ کون
سی ماں کا ذکر کررہے ہیں استاد جی نے لمبی سانس لی اور گھبیر آواز میں بولے؛
نہ کر بندیا میری میری
نہ تیری نہ میری
چار دناں دا میلہ
دنیا فیر مِٹی دی ڈھیری
مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے
ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا
اِک بندے دا دل نہ ڈھاوِیں
رَب دلاں وِچ رَیندا
نہ تیری نہ میری
چار دناں دا میلہ
دنیا فیر مِٹی دی ڈھیری
مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے
ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا
اِک بندے دا دل نہ ڈھاوِیں
رَب دلاں وِچ رَیندا
بچہ جی !
ماں سے
مراد یہ دھرتی، یہ مٹی ہےجس پر ہم اکڑ چلتے ہیں، جب موت آتی ہے یہ مٹی بغیر تکبر کے ہمیں اپنے اندر سمیٹ لیتی
ہے یہ نہیں کہتی تو تو میرے اوپراکڑکرچلتا تھا تیری بڑی شان تھی ،آگے پیچھے ہزاروں
لوگ چلتے تھے تو منہ سے کوئی بات نکالتا تو پوری ہوتی تھی میں گواہ ہوں تیری!
تو نے میرے سامنے لوگوں پرحکومت کی
تُو اپنے وقت کا بے تاج بادشاہ تھا
تیرے دورحکومت میں لوگوں کوناحق قتل کر دیا گیا پر تو انہیں انصاف
نہ دلا سکا
تو نے
موت کی قیمت لگائی تو نے موت کے چیک بانٹے
تیرے ہوتے
ہوئے بم دھماکے ہوئے غریب لوگ مارے گئے
تو ان غریبوں کے ساتھ انصاف نہ کر سکا لوگ تیرے
سامنے تنگدستی کا شکار ہوئے اور ان کی غیرت نے ہاتھ نہ پھیلانے دیئے تو خود کشی پر مجبور ہوئے
تو حکومت
کے مزے لیتا رہا اللہ نے تجھے منہ مانگی
نعمتیں دیں اقتدار دیا
لیکن یہ
اللہ کی دی ہوئی چیزتو لوگوں میں بانٹ نہیں سکا
تمہاری غرض نے تماری آنکھوں پر ہوس کی پٹی
باندھے رکھی اور تو نے غریب پروری نہیں کی تو اپنے معمولات اور خواہشات میں الجھ
کر رے گیا ۔
تمیں
اپنے ہونے پرتکبر تھا پر آج موت نے تجھے عاجز کر دیا دنیا کے سامنے!
آج تومیرے اندراور تیرے جیسے ہزاروں مدفن ہیں پر
میں نے کبھی تکبر نہیں کیا۔
استاد جی
اتنا کہتے اپنے گھر کی طرف ہو لیے اور میں اپنےراستے چل دیا۔
ذہن میں گویا
ایک فلم چلنے لگی تکبر اکڑ یا فرعونیت جو بھی تھا اس کی کئی تازہ مثالیں سامنے آگئیں۔
سانحہ بارہ مئی کا واقعہ یاد آیا !
آج وہ
مشرف اپنے تکبر سمیت اپنی بیماری سے لڑ رہا ہےکہاں گیا وہ تکبراور وہ طاقت
آج کا نواز شریف بھی کہتا تھا میں عوام کے دلوں
میں بستا ہوں ووٹوں کی اکثریت میرے پاس ہے لیکن وقت نے بتا وہ اسی جی ٹی روڈ پر
چیخ چیخ کر کہتا نظر آیا مجھے کیوں نکالا آج کا عمران خان بھی یہ کہتا نظر آیا میں
کسی کو نہیں چھوٹوں گا میں سب کو رلاوں گا میں کرپشن ختم کروں گا میں یہ سے وہ
کروں گا پھر وقت دیکھا رہا ہے کرپشن کرنے والے بھی چھوڑ رہے ہیں اور کرپٹ لوگ بھی
حکومت میں ہیں لوگوں سے جھوٹ بولا جاتا رہا نوکریوں کا لالچ گھروں کا لالچ عزت کے
ساتھ جینے کا لالچ وقت گزرتا جا رہا ہے ہاتھ سے نکل رہوں ماں انتظار میں ہے سب کی
لیکن نہ غریب کے دن پھر رہے نہ چھت کی کوئی آس ہے نہ نوکری یہاں تک کہ روٹی بھی
ایک ہو چلی ہے 70 سال سے حالات جنگ میں ہیں غربت کی قرضوں کی مشکلات کی دو وقت کی
روٹی کی لیکن امتحان ہے کہ عوام کا ختم ہی نہیں ہونے کو آ رہا دن پھرتے نظر آتے
ہیں تو صرف حکمرانوں کے دولت بچتی نظر آتی ہے ایمبیسیڈرسکیم سے لوگوں کے پیسوں کو
جائیدادوں کو تحفظ ملتا نظر آتا ہے اسمبلیوں کے ممبروں کی گنجوں میں اضافہ نظر آتا
ہے 400 سو مندروں کی کی مرمت پے لاکھوں کا بجٹ نظر آتا ہے لیکن غریب ایک روٹی پے
گزارا کرئے نہ جانے وہ لوگ کہا چلے گئ جو سوچتے تھے ہمارے اردگرد کو بھوکا تو نہیں
کوئی بے آسرہ تو نہیں یہاں تو گھر سے نکلا جائے شادی پر تو ساہیوال پچتھے ہی اس
ماں کے محافظوں کے ہاتھ نہ حق مارے جائے معصوم بچوں کے سامنے ماں بات کو لاشوں میں
تبدیل کر دیا جائے آہ بے بس بچوں کو انصاف نہ ملے اور وہ بڑے اوعنوں میں چک کی
صورت میں قمیت وصول کرتے نظر آہیں جاو ماں باپ خرید لو استاد جی نے ٹھیک کہا تھا
اس ماں نے کی تکبر کرنے والے بنا تکبر کے سمیٹ رکھے ہیں اس سے پہلے یہ وقت آئے
اپنی دنیا سوار جا کچھ ایسا کر جاو ئی قدرتی ماں یہ مٹی بھی اپنے اوپر فخر کرے

Comments
Post a Comment