Skip to main content

قومی زبان عدم توجہی کا شکاراورمیرٹ کی تلوار

ہر سال ہمارے ہزاروں طالب علموں پر میرٹ کی تلوار چل جاتی ہے اوروالدین جو دس سا ل تک بچوں کو سکول اور اکیڈمیاں بھیجنے کے لیے اپنے تمام تروسائل استعمال کرتے ہیں لیکن جونہی میٹرک یا انٹر کا نتیجہ آتا ہے تو ان کے خواب چکناچور ہو جاتے ہیں کیونکہ باقی تمام مضامین میں بہت اچھے نمبر حاصل کرنے باوجود وہ بچے اردو میں بہت کم نمبر لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا مجموعی نتیجہ متاثر ہوتا ہے اور پھر وہ مطلوبہ شعبے کے لیے میرٹ پرپورے نہیں اترتے۔


حال ہی میں حکومت کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کے سلیبس سے مسٹرچپس کا ناول نکالے جانے کا ایک نہایت احسن اقدام سامنے آیا ہے تو میں نے سوچا اگر پچاس سال بعد مسٹر چپس سے جان چھڑائی جا سکتی ہے تو پھر قومی زبان کو وہ اہمیت کیوں نہیں دی جا سکتی جو دی جانی چاہیے ۔اب مسئلے کی طرف بڑھتے ہیں چونکہ میں ایم اے ایجوکیشن میں گولڈ میڈلسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایم اے اردو میں بھی پوزیشن ہولڈر ہوں اس وجہ سے تعلیم تدریس اور انتظامی شعبے میں تقریباً بیس سال سے کسی نہ کسی طرح منسلک ہوں اور اس حوالے سے تعلیمی حکام،سکول انتظامیہ،اساتذہ والدین اورطلبہ کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزارنے کے باعث آئے روز اس مسئلے کا ذکر ہوتا رہتا ہے اس کے حل کے لیے ہم انفرادی طور پر تو کوشش کر لیتے ہیں مگر مجموعی صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایک تو یکساں نظام تعلیم اور نصاب نہیں ہے اس پر انگریزی کا نشہ سر چڑھ کر بولتا رہتا ہے۔ہر سکول کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ انگریزی کتب شامل کی جائیں تاکہ ان کا معیار دوسروں سے بلند لگے اس طرح تقریباً سات سے آٹھ مضامین انگریزی میں ہوتے ہیں جبکہ ہماری قومی زبان اردو کے لیے صرف ایک پیریڈ مختص کیا جاتا ہے۔اب ہوتا کیا ہے کہ بچے کسی نہ کسی طرح انگریزی میں تو مہارت حاصل کر لیتے ہیں مگر اردو کو صرف ایک ثانوی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جاتا ہے۔ایک زبان ہونے کے ناتے اس کی جو اہمیت ہے اور وہ مہارتیں جن کو اجاگر کرنا لازمی ہے لکھنا پڑھنا بولنا اور سننا ان پر توجہ دئیے بغیر بس ایک رٹے رٹائے طوطے کی طرح اس مضمون کو پڑھایا جاتا ہے۔بچے نہ تو ٹھیک سے پڑھ سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ میٹرک میں پہنچ جاتے ہیں یہاں بھی تشریح سلیس اور مضامین کے رٹے لگوائے جاتے ہیں اب ہوتا کیا ہے کہ چونکہ وہ اس کی بنیادی چیزوں سے واقف نہیں ہوتے لہٰذا جب نمبروں کی باری آتی ہے تو مار کھا جاتے ہیں۔یاد رہے کہ میٹرک اور انٹر میں اردو کے نمبر انگریزی کے برابر ہوتے ہیں اب اگر بچے انگریزی میں 90 فیصد نمبر لیتے ہیں تو اردو میں بمشکل ان کے ساٹھ فیصد نمبر آتے ہیں اس طرح وہ میرٹ کیتلوار کی زد میں آجاتے ہیں۔ ایک اور اہم بات کہ اردو پڑھانے کے لیے اردو زبان کے ماہراساتذہ بھی نہیں رکھے جاتے بس جس کی انگریزی کمزور لگی اسے اردو کا مضمون دے دیا جاتا ہے یہ اس مسئلے کا ایک اور انوکھا پہلو ہے۔ بات صرف نمبروں کی حد تک ہی محدود نہیں قومی زبان ہونے کے ناطے انہیں اس سے جو لگاؤ ہونا چاہیے وہ بھی نہیں ہوتا ہے۔رہی سہی کسر ہماری رومن اردو نے پوری کر دی ہے اب کوئی مانے نہ مانے لیکن یقین مانیں اس وقت یہ ہمارے والدین اور طلبہ کے لیے یہ ایک انتہائی خطرناک مسئلہ بن چکا ہے اور ہر سال کئی ہزاروں طالبعلم مستقبل کے معمار بننے کے بجائے مستقبل کے بیمار بن جاتے ہیں۔ اب اس مسئلے پر بات کریں توسکول انتظامیہ کہتی ہے ہم کیا کریں ہمارا شیڈول بہت سخت ہے ہم اردو کو ایک پیریڈ سے زیادہ نہیں دے سکتے۔ اساتذہ کہتے ہیں ہم ایک پیریڈ میں کیا کریں پڑھائی کرائیں لکھنے کی مشق کرائیں یا بولنا سکھائیں ہمارے سروں پر تو سلیبس ختم کرنےکی تلوار لٹک رہی ہوتی ہے۔والدین سے پوچھیں تو کہتے ہیں بچہ سارے مضمون پڑھ لیتا ہے مگر اردو اس کو مشکل لگتی ہے اور ہمیں بھی پڑھانی نہیں آتی۔اور بچوں کی کیا ہی بات ہے ان سے پوچھیں تو کہتے ہیں کہ سب سے برا مضمون ہمیں اردو لگتا ہے؟ یہ تھی صورت حال! اردو زبان کی تاریخ اورادب کی اہمیت سے بے بہرہ قوم تیار کر دی گئی ہے لیکن ہمارے وقتوں میں ایسا نہیں تھا ہم تو بہت چھوٹی عمر سے ہی بچوں کے رسالے کتابیں آرام سے پڑھ لیتے تھے مگر یہ بچے میٹرک میں پہنچنے کے بعد بھی اپنی سلیبس کی کتب بھی نہیں پڑھ سکتے۔ مسئلے پر بات تو ہوگئی اب آخر یہ ذمہ داری کسکی ہے آخر اتنی حکومتیں آئی گئیں کیا کسی نے اس بات پر غور نہیں کیا؟ اگر اردو کو قومی زبان کا درجہ سے ہی دیا ہے تو پھر اس کے ساتھ تیسرے درجے والے شہری کا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ میراایک سوال ہے کہ آخر انگریزی کو اتنی اہمیت دے کر بھی آپ نے کون سی ترقی کر لی ہے رہے تو پھر بھی آپ غلام کے غلام۔قسم سے جب میں اپنے ملک کے بچوں کی حالت دیکھتی ہوں تو مجھے کسی اور دنیا کی مخلوق لگتے ہیں سارا دن سکول اکیڈمی میں وقت لگا کر بھی ان کے نمبر نہیں آتے اور وہ زندگی میں اپنا مقصد کبھی حاصل نہیں کر پاتے۔مجال ہے کہ نئی نسل کو علامہ اقبال یا غالب کا کوئی ایک شعر بھی درست یاد ہو یا کسی محاروے کا صحیح استعمال کرلیں۔ اور ہاں اگر کسی کو ہماری تعلیمی پالیسی کے بار ے میں پتہ ہو تو ضرور آگاہ کرے۔مجھے تو لگتا ہے بلکہ یقین ہے کہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کوئی تعلیمی نظام ہی نہیں ہر گلی محلے میں نت نئے سکول کھل رہے ہیں اپنی مرضی کا سلیبس اپنی مرضی کے چوزے تیار کر رہے ہیں۔ہمارے یہاں تعلیم مشن تھوڑی ہے یہ تو ایک کاروبار ہے بس!اب ذرا ان ممالک پر نظر ڈالیں جو ترقی یافتہ ہیں تو جناب ان سب نے اپنی اپنی قومی زبان میں تعلیم دے کر ہی ترقی کی منازل طے کی ہیں وہاں ایسا کوئی احساس کمتری نہیں ہے۔ یاد رکھیں ملک پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اردو زبان کا عملی نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ انگریزی کوبطور مضمون پڑھایا جانا اور بات ہے لیکن ذریعہ تعلیم اُردو ہونا چاہیے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنا بچوں کی تخلیقی صلاحیتں ختم ہوتی جارہی ہیں۔

موجودہ حکومت کو اس بارے سنجیدہ اقادامت کرنا ہوں گے نہیں تو یہ نسل کسی کام کی نہیں رہے گی۔ میری نظر میں کچھ تجاویز ہیں! کہ آہستہ آہستہ اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے انگریزی کتب کو اردو میں ترجمہ کیا جائے سکولوں کو پابند بنائیں کہ وہ اردو زبان کو کم از کم دو گھنٹے روزانہ دیں۔ا ردو پڑھانے کے لیے ماہر اساتذہ رکھے جائیں۔ اردو زبان کے لیے ہر سکول ہفتہ وار سرگرمیاں کروانے کا پابند ہو۔ اساتذہ کی تربیتی ورکشاپ کرائی جائے ۔ پورے ملک میں اردو زبانکی اہمیت کے لیے والدین اساتذہ سمیت مل کر عملی اقدامات کیے جائیں۔اردو زبان میں اچھے نمبر لینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ہر سکول میں اردو کتب کی ایک لائبریری بنائی جائے اور ہفتے میں اس کا ایک دن مختص ہو۔
یہ مسئلہ اس وقت ایک گھر کا نہیں پوری قوم کا ہے میری وزیر اعظم سے درخواست ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیں اورقومی زبان کو اس کی جائز اہمیت دلائیں تاکہ ہم بھی دنیا میں سر اٹھا کر جی سکیں۔

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...