Skip to main content

جو اپنے لہو سے مہکائی،جاگیر کا سودا مت کرنا



اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِاہتمام یوم آزادی کی مناسبت اورکشمیرکی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے ایک سیمیناراورمشاعرے کا انعقاد کیا گیا ،جس میں شرکت کی دعوت ملی توانکارنہ کرسکی کیونکہ یہ ایک ایسا فورم ہے جس کے ذریعے ادیب شاعراوردانشورایک انتہائی اہم نوعیت کے  مسئلے پر اپنی سوچ پوری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں ۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹرسعادت سعید نے کی جو اردو ادب کے نامور ادیب، محقق ، نقاد  اورگورنمنٹ یونیورسٹی لاہورکے شعبہ اردور کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور ابھی بھی اس سے منسلک ہیں جبکہ اس محفل کے مہمان خصوصی سابق آڈیٹر جنرل پاکستان اور گراں قدر شاعر کرامت بخاری تھے۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے اس موقع پرسیمینار سے خطاب کرتے ہوئےبرصغیراورپاک بھارت تاریخ کے کئی اہم پہلو اجاگرکیے جن سے ہماری نئی نسل بے بہرہ ہے۔اگر یہ سب باتیں ان کو معلوم ہوجائیں تو شائد ان کو اندازہ ہوسکے کہ ہندو بنیا صدیوں سے مسلمانوں کی نسل کشی اور مذموم سازشیں کرتا آرہا 





ہے اور اس مقصد کے لیے کبھی انگریزوں کبھی سکھوں اور پھرمسلمانوں کو ہی اپنا آلہ کار بناتا رہا ہے۔
ڈاکٹر سعادت سعید نے انتہائی جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک مسلمانوں کا یقین جہاد پرتھا دنیا کی کوئی طاقت انہیں مغلوب نہیں کرسکی لیکن پھر بیسویں صدی میں اس کو ختم کروانے والا ایک فرقہ آگیا اور جہاد کو حرام قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد سے مسلمان پستی کا شکار ہیں۔ کشمیر کی صورت حال پربات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں حالات کشیدہ ہیں،کئی  روز سے کرفیو ہے ۔ لوگ مر رہے ہیں، محصور ہیں ان کا پانی بند ہے بچوں کا دودھ بند ہے گھروں میں گھس گھس کر مارا جا رہا ہے،بات کربلا سے آگے بڑھ چکی ہے اب اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے کوئی امید رکھنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ۔ اب ان نہتے کشمیریوں کو بچانے کو وقت آگیا ہے کیونکہ کشمیر پر حملہ دراصل پاکستان پر حملہ ہے کیونکہ انہیں پاکستان سے محبت کی سزا مل رہی ہے وہ ہماری شہہ رگ ہے وہ قیام پاکستان سے ہمارا حصہ بننا چاہتے ہیں ان کے شہدا آج بھی پاکستانی جھنڈوں میں دفن ہوتے ہیں۔ہمیں مغرب کی سازش کو سمجھنا چاہیے ۔ اب امریکہ نے مدد کرنی ہے نہ چین اوربرطانیہ نے۔ وہ توکہتے ہیں بات چیت کرو لیکن اس عرصے میں کشمیری عوام کی نسل کشی ہوتی رہی تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا،انہوں نے حکومت اور فوج سے کہا کہ تمام ادیبوں کا مطالبہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں ان کو تو مدد کرنے دیں کیونکہ اس وقت سکھ برادری بھی ہمارے ساتھ ہے اور پانی پت تک پورا پنجاب ہمارا حق ہے جس کا دعوٰی کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف بہانے ہیں کہ ہم کیسے مقابلہ کریں ہماری معیشت کمزور ہے لیکن جنگیں معیشتوں سے نہیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں جب آپ کے پاس پورا پنجاب آجائے گا تو معیشت خود ٹھیک ہو جائےگی ۔ مسلمانوں نے کبھی جھکنا نہیں سیکھا مگر اسے جھکا دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو اپنے مسائل میں اتنا الجھادیا گیا ہے وہ سوچیں ہی نہ کہ اپنے علاقے بھی واپس لینے ہیں۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کی کسی حکومت نےآج تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پورا پنجاب ہمارا ہے قرارداد پاکستان پڑھ لیں صاف لکھا ہےکہ اکثریتی صوبے پاکستان کاحصہ بنیں گے مگر ہندووں نے سازش کرکے پنجاب کے تین حصے ہماچل پردیش ،ہریانہ اور پنجاب کردئیے۔اس وقت صورتحال ہمارے حق میں ہے کیونکہ سکھ خالصتان تحریک عروج پر ہے۔کشمیری آزادی مانگ رہے ہیں اورہم ہندوستان کے اندراٹھائیس کڑورمظلوم مسلمانوں کی آزادی مانگ رہے ہیں۔اب ہمارا دعویٰ پورا پنجاب ہے۔ اللہ کرے کہ کشمیری کے حوصلے سلامت رہیں ہندو کو نولاکھ فوج لگانی پڑی ہے اگر ہم ان کا ساتھ دیں گے اور پانی پت تک کا دعویٰ کریں تو ہندوکو اپنی پڑجائے گی۔ آخر ایسا کون لوگ نہیں ہونے سے رہے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی زمینیں پیاری ہیں جو جہاد سے عاری ہیں اور اسی لیے مسملمان مر رہے ہیں ۔پاکستان کے غیورعوام فوج کی پشت پر ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ عملی قدم اٹھالیا جائے۔
تقریب کے مہمان خصوصی کرامت بخاری نے بھی اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ستر سال سے صرف جذباتی گفتگو ہورہی ہے لیکن سوائے مذمتی قراردادوں کے اور کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا اس کے باعث آج نوبت یہاں تک آگئی ۔قائد اعظم نے کہا تھا کہ یہ ایک بہترین لیگل کیس ہے لیکن افسوس ہمارے پاس اس بہترین لیگل کیس کا کوئی ڈاکومنٹ نہیں ہے نہ ہی ہم انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں گئے۔ ہمارا پڑوسی ایک ایسا سیکولر ملک ہے جہاں گائے کی حفاظت کا تو قانون ہے مگر انسانوں کی نسل کشی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہندو آباد کیے جارہے ہیں، زمینیں دی جا رہی ہیں ٹیکس معاف کیے جارہے ہیں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں وہ مسلم آبادی ختم کرنے جا رہے ہیں ۔ کچھ اورعرصہ اگر یونہی انتظار کرتے کرتے گزر گیا تو ہندو مسلم برابر ہوجائیں گے اور پھر کچھ نہیں بچے گا ۔ اگر ہم پانی پت تک پنجاب کا دعوی کرلیتے تو آج ہندو کو اتنی جرات نہ ہوتی ۔انہوں نے کہا ہم اپنی ایمبیسیز کے ذریعے اس مسئلے کو عالمی سطح پراجاگر کرسکتے ہیں۔جبکہ سوشل میڈیا اور میڈیا بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں تاکہ بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا بھر کر سامنے بے نقاب ہوسکے۔ آخر میں انہوں نے ایک دل سوز کلام پیش کیا جو سب کے دلوں کی آواز ہے۔
یہ جو اپنی وادی کشمیر ہے
جنت ارضی کی اک تصویر ہے
صبح نو کی دل نشیں سرخی  ہے یہ
ظلمتوں میں باعث تنویر ہے
موسم گل کی نمائیندہ تھی جو
آج وہ مغموم ہے دل گیر ہے
کفر کا غلبہ یہاں ممکن نہیں
خون مسلم میں بڑی تاثیر ہے
جذبہ شوق شہادت ہے جواں
ہر زباں پر نعرہ تکبیر ہے
یہ ہمارے عیہد کی تاریخ میں
خون سے لکھی ہوئی تحریر ہے
چھین لوں گا ایک دن اغیار سے
یہ میرے اسلاف کی جاگیر ہے
اس تقریب کے شرکا کے خیالات اورجذبات سے دل کو حقیقی سکون ہوا کہ ہمارے ادیب کتنے درد مند ہیں اور پاکستان اور کشمیر کی خاطر اپنا تن من دھن سب دائو پر لگانے کو تیار ہیں ۔اس موقع پر میں نے جو کلام سنایا وہ کچھ یوں ہے۔
جو اپنے لہو سے مہکائی ۔۔۔۔۔۔۔جاگیر کا سودا مت کرنا
مٹ جائے گا سب نام و نشاں کشمیر کا سودا مت کرنا
مائوں بہنوں کی یہ عصمت اب آن لگی ہے دائو پر
ہر بچہ بوڑھا درد کی ہے تصویر کا سودا مت کرنا
جس جس نے بیٹے کھوئے ہیں آزادی کی ان راہوں میں
تم خود سے جڑے ان خوابوں کی تعبیر کا سودا مت کرنا
چلو زہر بنا دو امرت کو اور سبق سکھا دو بھارت کو
واپس لے لو اپنی شہ رگ ،تکبیر کا سودا مت کرنا
کئی سالوں سے اندھیاروں میں گزری ہیں جن کی راتیں
ملنے کو ہے آزادی اب ،تنویر کا سودا مت کرنا
حق کے رستے میں تیری گر جاں چلی جائے عنبر
اصول پہ سمجھوتہ نہ ہو ،ضمیر کا سودا مت کرنا
عنبر شاہد

https://www.naibaat.pk/24-Aug-2019/25745

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

آپ کا صرف ایک ریمارکس کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے ،امانت،،سچائی ،عدل ،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں ۔ظلم وناانصافی کےاس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی روئیوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔ دوسرے منقی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں  زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا  واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ  ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ ...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...