Skip to main content

تلاش اس کو نہ کربتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں (قسط نمبر۳ )


جھیل عطاء آباد کے حیرت کدے سے نکلے تو اگلا پڑائو ہنزہ تھا مگر یہاں موسم بہت گرم تھا، سورج کی تمازت سے دل گھبرانے لگا مگر بچوں نے ہنزہ مین بلتت فورٹ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ۔ یہاں بھی فی بندہ پانچ سو روپے ٹکٹ تھا۔ قلعہ کے اندر 1000 سال پرانی ثقافت کو قریب سے دیکھا، ہنزہ کے بادشاہوں کو دیکھا جن کی اب بادشاہی کہیں نظر نہیں آ رہی تھی ہرطرف میرے اللہ کی بادشاہی ہی قائم تھی ۔ یہاں لوگوں کا اخلاق اچھا ہے ، کم کمیونٹی ہونے کی وجہ سے یہاں جرائم ریٹ صفر ہے ، آنے والے سیاحوں کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن یہاں مہنگائی کے اثرات کچھ زیادہ ہی نظر آئے۔ یہاں حلال گوشت نہیں ملتا۔ مقامی لوگ اپنے عقیدے کے مطابق جانوروں کا گوشت کاٹتے ہیں اس لیے ہم نے سنیکس پر اکتفا کیا اور مناپن کی جانب چل دئیے۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ ہنزہ میں سب سے مشہورعلاقہ کریم آباد ہے جس کے چاروں طرف اونچی چوٹیاں  راکا پوشی، دیران پیک، گولڈن پیک، التر پیک، لیڈی فنگر پیک ہیں۔ قریب ہی ایک اورالتت قلعہ 900 سال پرانا ہے۔۔ ہنزہ میں سب سے مشہور ایگل نیسٹ ہے جہاں جیپ کے ذریعے جایا جاسکتاہے جبکہ مناپن نگر راکا پوشی کے  دامن میں واقع جنت نذیر وادی ہے۔وہاں پہنچ کر ایک بار پھر ہم نے درخت سے توڑ کر تازہ تازہ چیری خوب کھائی اور زبان سے یہ بات ہی نکلی اورتم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں جھٹلائو گے۔۔اس کے بعد ہم مناپن گلیشئیر ،راکا پوشی اوردیران پیک کے بیس کیمپ کی طرف جانے والے ٹریک پرروانہ ہو گئے۔مناپن گلیشئیر اورقدرتی آبشارمیں پانی کے ذخائر کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس پر ڈیم بنا کر یہاں وافر بجلی بھی پیدا کی جا رہی ہے۔ اس کی خوبصورتی دیکھ کردل خوش ہوگیا ۔ آبشار کی ٹھنڈک اور مدھر ٓواز کے سنگم میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا جوں ہی شام کے سائے بڑھے ہم واپس چل دئیے ۔اس بار ہم نے رات کا کھانا ایک ایسی جگہ پر کھایا جہاں ہرکسی کو ضرور جانا چاہیے وہ جگہ تھی اسرارصاحب کا ہوٹل اوشو تھونگ جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ نگر کی ۲۰۰ سال پرانی دیگچی گورکن میں اخروٹ کے تیل میں پکا بکرے کا گوشت جس میں پیاز ٹماٹر لال مرچ اورنمک کے علاوہ اور کوئی مصالحہ استعمال نہیں ہوا تھا ایک عجیب مگر دلفریب ذائقہ دے رہا تھا ۔ کھانے کے بعد اسرار صاحب نے اپنے ہاتھوں سے گلاب کے پھول کا قہوہ پلایا تو یقین مانیں ساری کیپا چینو اور چائے اس کے آگے بے کار لگی ۔انہوں نے اپنے کچن کا دورہ کروایا اور یہاں بننے والے خالص کھانوں کے بارے میں بتایا جن میں ڈاوٹھو، چھپ شورو، آلو شورو،میٹ پائے ،ایان شورو ،درم پٹھی ،خوبانی کا جیم۔ سر فہرست ہیں۔انہوں نے بتایاکہ کھانا اخروٹ یا خوبانی کے تیل میں بنایا جاتا ہے اور سوائے پیاز کے کوئی بھی چیز بازار سے نہیں آتی یعنی ہر چیز ان کی اپنی 




پیداوار ہے یہاں تک کہ گوشت کے لے بھی وہ اپنے پہاڑی بکروں کو ذبح کرتے ہیں۔ان کے کھانوں میں نمک مرچ ٹماٹر پیاز اور اکروٹ کے تیل کے علاوہ اور کوئی چیز استعمال نہیں ہوتی اور کھانا بھی دو دو سال پرانی پتھر کی ہانڈیوں میں بنایا جاتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ یہ خوراک مناپن کے درجہ حرارت آب و ہوا سے مطابقت رکھتی ہے۔ان کے ہوٹل کانام بہت دل چسپ تھا ان سے اس کا مطلب پوچھو تو انہوں نے بتایا کہ اس کا مطلب ہے شاہی مہمان خانہ ۔ بڑے بڑے سیاستدان ادیب کھلاڑی یا ۔ہمارے جانے سے ایک دن پہلے بلاول بھٹو نے بھی یہاں دو دن قیام کیا ۔
اسرارصاحب علم و ادب کے دلدادہ اورمستنصر حسین تاڑر صاحب کے بہت بڑے مداح ہیں انہوں نے اس ہوٹل کا ایک پورا بلاک ان کی کتابوں کے ناموں پر رکھ دیا ہے۔ جبکہ کچھ کمروں کے نام مہدی حسن ،نور جہاں ،فیض احمد فیض سمیت کئی نامور شخصیات پر رکھے گئے ہیں۔ ہوٹل کے  راستے میں انہوں نے اپنے ذوق کو مد نظر رکھتے ہوئے نگر کی تمام اہم تاریخی شخصیات کی تصاویر بھی آویزاں کی ہیں جن میں مستنصر حسین تاڑر صاحب کی ایک تصویر بھی شامل ہے۔
یہاں پر راکا پوشی بیس کیمپ سے آنے والے اپنے ساتھ ایک پتھر لاتے ہیں اور اس پر کچھ یاد گار جملے لکھ کر جاتے ہیں اور ان کے پاس ایسی سینکڑوں یادگاریں موجود ہیں۔ اسرار صاحب سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ  پرنسس چشمان نے نگر میں تعلیم کے فروغ کےلیے بہت کام کیا ہے۔ اسرار صاحب بہت اچھے اخلاق ،ادبی ذوق رکھنے کے ساتھ ایک بہت تجربہ کار شیف ہیں وہ ہوٹل چلانے اور کوکنگ میں تیس سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں۔ یہی نہیں وہ ایک محب وطن پکستانی بھی ہیں اور ان کی ساری جدوجہد کا مقصد پاکستان میں سیا حت کا فروغ اور اس کا امیج بہتر بنانا ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا وہ اپنی پرانی ثقافت کو بحال کررکھتے ہوئے سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ابھی بھی وہ یہاں منگولین اسٹائیل کے کیمپ بھی بنوا رہے ہیں تاکہ سیاح یہاں کے قدرتی مناظر سے اچھی طرح فیضاب ہوسکیں۔ ہوٹل کے عملے نے گلگت نگر کی ثقافتی ٹوپیاں اور چیک والی واسکٹ کے ساتھ سفید شلوار قمیضیں زیب تن کر رکھی تھیں جو واقعی ایک شاہی مہمان خانے کا تاثر دے رہا تھا جبکہ ان کا اخلاق اور سروس بھی لاجواب تھی۔
انہوں نے گلہ کیا کہ اس علاقے میں سیاحت کے فروغ کی کوششوں میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔عید کے بعد بابوسر پاس ایک ماہ تک بند رہا جس سے ان علاقوں میں روزگار کو کافی نقصان پہنچا اگر کوئی فوری حکمت عملی طے کرلی جاتی تو یہ نوبت نہ آتی۔انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی سیاح نگر کے قدرتی حسن میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں مگر ان کے ساتھ ویزہ میں کافی سختی رکھی گئی ہے اگر سیاحت کا پورا سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہوجائے توغیر ملکی سیاح کو یہاں آنے میں دقت نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سیاح کو ایک ٹینٹ کی سہولت بھی مل جائے تو وہ یہاں آنےکو راضہ ہیں لیکن راستے کھلے ہوں اور ویزہ پالیسی میں تھوڑی آسانی دی جائے۔  اگر حکومت سرپرستی کرے تو مناپن نگر تو کیا پورےپاکستان کا مثبت پہلو دنیا بھر میں اجاگر کیا جا سکتاہے۔
ہوٹل میں نگر کی پرانی ثقافت کو بحال رکھنے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے جدید سہولیات بھی موجود تھیں ۔ رات کے اندھیرے میں راکا پوشی کی سفید چوٹیاں یوں لگ رہی تھیں گویا آسمان سے پریاں اتر رہی ہوں۔ ناجانے کیسا سکون تھا اس ماحول میں جیسے دل کسی نے اپنے بس میں کرلیا ہو۔رات بہت پرسکون گزری ۔ صبح ہوئی تو ہم نے وہاں درختوں سے ڈھیر ساری چیری لی تاکہ اپنے عزیزوں کو بھی یہ مزیدار چیز کھلا سکیں۔ جب ہم وہاں سے نکلے ایک عجیب اداسی تھی مگر چارو ناچار ہم واپسی کی راہ ہولیے ۔نگر سے تھوڑا باہر نکلے توسڑک  بلاک تھی اور وہاں کچھ لوگ  روایتی بینڈز بجا کررقص کر رہے تھے پتہ چلاکہ یہ ٹوورڈی خنجراب ‘سائیکل ریلی کے استقبال کے لیے ہو رہا ہے اور سیکنڑوں کی تعداد میں بوڑھے بچے مرد خواتین اس کے استقبال کے لیے کھڑے تھے ۔اس ریلی میں پاکستان ،سری لنکا اور افغانستان کی گیارہ ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں جبکہ ریفری ایران سے مقرر کیے گئے تھے ۔کچھ ہی دیر میں ایک سو سات سائیکلسٹ سیمت یہ ریلی نگر پہنچ گئی اور دو گھنٹہ انتظار کے بعد جا کر راستہ کھلا اور ہم نے تیز گاڑی بھگائی تاکہ شام ہونے سےپہلے پہلے بابوسر ٹاپ اور پھر ناران پہنچ جائیں جو بظاہر تو ایک مشکل ٹارگٹ تھا مگر ناممکن نہ تھا۔ راستے میں  نومل اور نلتر کی خوبصورت وادیاں بھی موجود تھیں مگر اب ہمارا واپسی کا ارادہ بن چکا تھا لہٰذا اس کو اگلے سال پر ڈالا اوربابوسر ٹاپ کی طرف روانہ ہوگئے۔ تقریباً چار بجے ہم چلاس پہنچ چکے تھے،جب بابوسر چلاس روڈ پر چڑھے تو یہاں دھوپ تیز تھی اور ہوا یا بادل کا نشان نہ تھا تقریباً آدھے گھنٹے بعد جب بابوسر کی برف پوش پہاڑیاں نظر آنا شروع ہوئیں تو دل کو سکون ملا ۔ جوں جوں گاڑی آگے جا رہی تھی دل کو سکون مل رہا تھا مگر یاد رہے یہاں چڑھائی اتنی بھی آسان نہ تھی ہم نے راستے میں دو تین گاڑیوں کو خراب دیکھا جن کی بریکیں جواب دے گئی تھیں۔ بابوسر سے تقریباً پانچ کلومیٹر پہلے جب یخ بستہ ہوائیں جسم میں داخل ہونا شروع ہوئیں تو سوچا ہلکی پھلکی شال اور جیکٹس نکال لیں۔ وہیں ایک خطرناک موڑ پر ایک خاتون ڈرائیور اپنے بچوں کے ساتھ پریشان کھڑی تھی کیونکہ ان کی گاڑی خراب ہو گئی تھی اور اب نہ تو وہ آگے جا سکتے تھے اور نہ پیچھے۔ میرے شوہر نامدار نے حتی الامکان ان کی مدد کی اور ٹاپ پر جا کر رضا کاروں کو بھیجنے کا کہہ کر آگے چل پڑے ۔
ابھی بابوسر ٹاپ تک پہنچنے میں دو کلومیٹر کا فاصلہ باقی تھا کہ ایک دم اوپر جانے والی اور نیچے جانے والی ٹریفک روک دی گئی کیونکہ بابوسر ٹاپ کے راستے میں ایک بہت بڑا گلیشئیر آن بج چکے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ کب تک ٹریفک کھلے گی تو انہوں نے کہا کہ آپ کو یہاں رات بھی گزارنی پڑ سکتی ہے یہ سننا تھا کہ ہمارے ہوش اڑ گئے ۔ کیونکہ یہاں پر نہ تو موبائیل کے سگنل ملتے ہیں اور نہ کوئی سہولیات جبکہ چھوٹے بچوں کا ساتھ تھا اور سردی بھی بڑھتی جا رہی تھی ، ہم نے خود کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور خود محو نظارہ ہوگئے۔ لیکن میری عقل اس وقت حیران ہوگئی جب میرے دیکھتے ہی دیکھتے سفید بادلوں نے بابوسر کی پہاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب منظر غائب ہوگیا اور سامنے صرف بادل تھے چند ہی لمحوں کے بعد وہ بادل ہمارے سر پر تھے اور کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا اس کے بعد ایک دم روئی کے گالے چاروں طرف گرنا شروع ہوگئے یہ منظر دیکھ کر سب پریشانی ایک دم سے غائب ہوگئی اور ایک عجیب سرور نے اپنی لپیٹ میں لے لیا بچے بڑے ہم سب اپنی کنارے پر کھڑی گاڑی اور سامنے پڑے گلشئیر کے ہٹنے کے عمل سے بے نیاز برفباری کا لطف اٹھانے لگے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک لمحے میں کیسے کایا پلٹ سکتی ہے میرے رب نے مجھے وہ کچھ دکھایا جو شائد میں کبھی خواب میں دیکھا کرتی تھی اپنے رب کی فطرت اور قدرت کو اتنا قریب سے میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے برفباری جاری رہی اس کے بعد ہمیں شدید سردی لگی گاڑی میں چائے کا سامان موجود تھا ہم نے چائے پی لیکن کپڑے پوری طرح بھیگ چکے تھے اور آگے جانے کا کوئی حال نہیں تھا جبکہ واپسی کے راستے بھی بند تھے۔ اللہ اللہ کرکے تقریباً سات بجے تک راستہ کھلا لیکن گاڑی کسی طور بھی آگے نہیں جا رہی تھی کیونکہ برف اور بارش کے باعث پھسلن بہت زیادہ تھی ۔ تاہم اللہ کی مہربانی مقامی رضا کاروں کے تعاون اور شوہر نامدار شاہد محمود کی کاوشوں سے ہم ساڑھے سات تک بابوسر ٹاپ سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ کسی طرح محفوظ مقام پر پہنچیں اور گیلے کپڑوں کی وجہ سے سردی نے ہمارا لہو بھی منجمد کردیا تھا ۔ ان دو گھنٹوں میں اللہ نے اپنی قدرت بھی دکھائی اور برفباری کے بعد پیدا ہونے والی وہ مشکلات بھی دکھائیں جن کا شائد مجھے کبھی علم نہ ہوتا اگر میں اس صورت حال کاسامنا نہ کرتی ۔
برف میں تین کلومیٹر تک گیلے جوتوں اور کپڑوں کے ساتھ پیدل چلنا ایک ایسا تجربہ تھا جس نے میرے ہوش اڑا دئیے تھے لگتا تھا شائد اب آگے کیا ہوگا انجام خدا جانے۔
سڑکیں ویران تھیں کیونکہ اب ناران سے آنے والی ٹریفک کو روک دیا گیا تھا جیسے ہی ہم نے لولو سر جھیل پار کی تو گھپ اندھیرا ہوگیا رات کے وقت گلیشئیرز کے پگھلنے کا عمل بھی بہت تیز تھا اور آبشاریں سیلابی کیفیت پیدا کر رہی تھیں اس طرح کی دو تین سیلابی آبشاروں سے ہم اندھیرے میں بڑی مشکل ہی بچ کےنکلے ۔
سخت سردی بھوک کا عالم رفع حاجت کے مسائل اور مزید تین گھنٹے تک ناران کا راستہ کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی ۔اسی کیفیت میں گم تھے بس اللہ کی ذکر اور دعا جاری تھی کہ اچانک گاڑی کا ٹائر کسی نوکیلے پتھر پر آگیا جس کے بعد ایک دم گاڑی کانیا ٹائر پھٹ گیا اورہم اندھیرے میں بے یار و مدد گار کھڑے تھے ۔میرے میاں صاحب کو بھی ایک دم سے کافی پریشانی ہوگئی میں نے پرس کے اندر دوائی لینے کے لیے ہاتھ ڈالا تو ایک پرچی ہاتھ میں آگئی یادآیا کہ بابا جی نے دی تھی کہ بیٹا جب کچھ سمجھ نہ آئے تو اسے کھول کر پڑھ لینا۔ میں نے دیکھا تو اس پر ایک دعا لکھی تھی
رب انی مغلوب فانتصر
اور ساتھ لکھا تھا بچہ جو صرف اللہ پر توکل کرتا ہے تو پھر اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے
وہ خالق کائنات  ہے بس وہی مسب  الاسباب ہے۔
میں نے جونہی پرچی واپس پرس میں رکھی تودیکھا ایک دم سے پیچھے سے ایک گاڑی آکر رکی اس میں سے دو آدمی نکلے انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ لاہور سے تعلق رکھتے ہیں۔انہوں نے شاہد صاحب سے پوچھا کہ کوئی پریشانی ہے تو بتائیں مسئلہ پتہ چلنے پر فوراً اپنی گاڑی سے ایک ٹائر سٹپنی نکال کر لے آئے اور خود ہی تبدیل بھی کردیا ۔یوں اندھیرے میں سنسان سڑک پر بیٹھے بٹھائے آپ کا کام ہوجائے تو یہ میرے رب کریم کا معجزہ نہیں تو اور کیا ہے بے شک جب ہم مغلوب ہوتے ہیں تو وہی ہمارا مدد گار ہوتا ہے اور کوئی نہیں۔
ٹائر بدلنے کے بعد دل کوسکون ہوا اور اونچے نیچے راستوں سے ہوتے ،تیز آبشاروں سے گزرتے صحیح غلط راستوں سے ہوتے آخر کار ہم گیارہ بجے ناران پہنچے اور جاتے ہی گرماگرم سوپ پیا اور اللہ کا شکر ادا کیا جس نے ہمیں خیریت سے یہاں پہنچایا۔ رات ناران میں گزارنے کے بعد صبح ہم لاہور کی طرف روانہ ہوگئے۔اس سفر کو گزرے تین ہفتے ہوچکے ہیں مگر اس کی نقوش ہمارے ذہنوں پر اس حد تک پختہ ہیں جب بھی سونے لگو یوں لگتا ہے ابھی تک اسی ماحول کے سحر میں ہوں۔ اس سفر نامے کا خلاصہ یہی ہے کہ سفر وسیلہ ظفرہے بشرطیکہ آپ کے پاس ہمت، حوصلہ ،عقل لگن اوراللہ پر یقین ہو ۔



Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...