مناپن نگر میں صبح کا موسم بہت سہانا تھا ہلکی ہلکی بارش ، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور بادلوں کی اوٹ سے برف کی دوشالا لیے راکا پوشی اور اس کے عین نیچے بہتی آبشار کی مدھر آواز مل کر ایک عجب مدہوشی کا سماں پیدا کر رہے تھے ۔ہم نے چند مناظر کیمرے میں قید کیے لیکن خنجراب (چائنہ بارڈر) کے لیے نکلنا تھا جہاں پہنچنے کے لیے کم از کم چار گھنٹے درکار تھے۔اس لیے تقریباً دس بجے ہم نے سفر کا آغاز کیا ۔ناشتہ ہم نے معمول کے مطابق بہت ہلکا کیا اور ساتھ گرم پانی کا تھرمس کافی چائے کا سامان اور کھانے پینے کا سامان رکھ لیا تھا کیونکہ ہمیں اندازہ تھا کہ خنجراب میں ہمیں ایسی کوئی سہولت میسر نہیں ہوگی۔ مناپن سے آدھے گھنٹے بعد ہنزہ پہنچے وہاں کا موسم مناپن کی نسبت گرم تھا۔وہاں رکنے کے بجائے ہم آدھے گھنٹے بعد مختلف سرنگوں کے ذریعے عطا آباد جھیل سے گزرے جو بلاشبہ پاکستانی اور چائینیز انجینئیرز کا ایک عظیم کارنامہ ہے ایک سرنگ تو اتنی لمبی تھی کہ دس منٹ تک گاڑی ڈرائیو کرتے رہے مگر وہ ختم ہونے کا نام نہ لے رہی تھی ،شسکت کے مقام پر عطا آباد جھیل پر چند منٹ رکے تصاویر لیں کیونکہ ہمارا ارادہ تھا کہ واپسی پرعطا آباد جھیل کی سیر کریں گے۔
اس دوران موسم گرم تھا اور ہلکا ہلکا پسینہ بھی آرہا تھا شاہراہ قراقرم کا یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے کہ یہاں ہمیں ہر موسم ملتا ہے سردی گرمی بہار خزاں برسات برفباری ٹھنڈی گرم ہوا اور گھٹن یہ سب کچھ ہم دیکھ چکے تھے مگر ابھی تو قدرت کے بہت سے نظارے اور موسموں کے لا تعداد اشارے باقی تھے۔ تقریباً ایک گھنٹہ بعد ہگُلمِت کا بورڈ نظر آتا ہے۔ گلمت، جسے ’’گُلِ گلمت‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ یہ شہر گلیشیئرز،بلند پہاڑوں کے بیچ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے جہاں اب کئی ہوٹل، گیسٹ ہائوس اور ایک چھوٹا سا میوزیم بھی بنا ہوا ہے۔ گلمت میں ایک پولوگراونڈ بھی ہے۔ آپ کو یہاں بھی تازہ پھل اور فطرت کے قریب ماحول ملے گا۔گلمت سے گزر کر ہم حُسینی برِج پہنچے
جو دنیا کے خطرناک ترین پُلوں میں سے ایک ہے لیکن ہم نے اس برج پر جانے کا رسک نہیں لیا کیونکہ یہ پُل بڑے بڑے رسوں اور لکڑی کے تختوں سے بنایا گیا ہے جن کا درمیانی فاصلہ اکثر جگہوں پر اتنا زیادہ ہے کہ چھوٹے بچوں کے ساتھ یہ رسک لینے کا حوصلہ نہ ہوا۔
جیسے ہی ہم حسینی کے علاقے میں داخل ہوتے ہیں ہمیں پسوکونز نظر آنے لگ جاتی ہیں لیکن جیسے جیسے قریب ہوتے جائیں یہ برف پوش،کون کی شکل والی چوٹیاں ہماری توجہ کا مرکز بن گئیں اتنا غضب کا سماں کہ نظریں ہٹائے نہیں ہٹ رہی تھیں یوں لگ رہا تھا اس منظر نے ہمیں اپنے بس میں کرلیا ہو۔ جب پسوپہنچے تو وہاں پاکستان کا دوسرا طویل ترین گلیشیئر، ’’بٹورا گلیشیئر دیکھا جس کی لمبائی 56 کلومیٹر ہے اورسیاچن کے بعد اسے پاکستان کا سب سے بڑا گلیشیئر مانا جاتاہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً چھ ہزار میٹر سے بھی بُلند پاسو کونزکی چوٹیاں ایک سحرانگیز نظارہ پیش کرتی ہیں۔ پسوجیسا لینڈاسکیپ دنیا میں اور کہیں نہیں ہے واقعی یہ ایک بے مثال شاہکار ہے رب کریم کا۔
پسو سے ہم سوست پہنچے جو شمال کی طرف سے پاکستان کا آخری آباد شہر ہے،اس کے بعد پاکستان اور چین کا بارڈر ہے۔ شاہ راہ قراقرم کی تعمیر اور پاک چائنہ اکنامک کوریڈور ہونے کے باعث اب اس علاقے میں باقاعدہ ایک بازار بن گیا ہے اور کافی رونق ہے یہاں ضروریات زندگی کا تقریباً سب سامان میسر ہے۔یہاں پاکستان کسٹمز کی دفتروں کے علاوہ ایک ڈرائی پورٹ بھی ہے جہاں پر چین سے آنے اور چین کو جانے والے تجارتی سامان کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ہم جاتے وقت سوست میں نہیں رکے بس ہمیں چائنہ بارڈر دیکھنے کی لگن تھی ۔ یہاں اب موسم میں ٹھنڈک میں اچانک اضافہ ہوتاجارہا تھا ہم نے فوراً اپنے جیکٹیں اور ٹوپیاں نکال لیں کیونکہ سننے میں آرہا تھا کہ بارڈر پر برفباری ہو رہی تھی اور درجہ حرارت منفی دس تھا۔ ہم سوست سے نکلے تو سلک روڈ
خُنجراب نیشنل پارک کی برف پوش پہاڑیوں اورخشک لینڈ اسکیپ سے گزرنے لگی۔پہلے ہم پاکستان کی چیک پوسٹ پر پہنچے جہاں ہم نے اپنی شناخت کراوائی اور پھر خنجراب نیشنل پارک میں داخل ہوگئے یہاں سے خنجراب ٹاپ تقریباً ایک گھنٹہ بعد آتا ہے۔گلگت ہنزہ میں واقع خُنجراب نیشنل پارک پاکستان کا تیسرا جبکہ دنیا کے چند بلندترین پارکس میں سے ایک ہےجو دو لاکھ چھبیس ہزار نو سو تیرہ 226913 ہیکٹرز پر پھیلا ہوا ہے اس میں وادی خنجراب اور شِمشال شامل ہیں۔خنجراب کی اونچائی
فٹ ہے 15,397.
اس لیے سال کے بیشتر مہینوں میں پورا علاقہ برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ یہ پورا علاقہ گلیشیئرز اور برفانی جھیلیوں سے سجا ہےجبکہ سبزہ بہت کم ہے۔یہاں پر مارخور بہت زیادہ پائے جاتے ہیں لیکن پہاڑوں اور ان کی رنگت ایک جیسی ہونے کی وجہ سے ہم کسی مارخور کو نہیں دیکھ پائے۔یہاں بھیڑوں کی ایک نایاب نسل ’’مارکو پولو شیپ‘‘بھی موجود ہے یہ جانور پورے پاکستان میں اور کہیں نہیں پایا جاتا۔
خنجراب نیشنل پارک سے ہوتی ہوئی سلک روڈ پر سردی کا احساس بہت زیادہ ہوتا جارہا تھا اور بلندی پر ہونے کی وجہ سے آکسیجن کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش ہونے لگا۔بحرحال کئی اتار چڑھائو اور پیچ و خم کے بعد یہ سڑک خُنجراب ٹاپ پر پہنچ گئی۔ یہاں پر تیز برفباری تھم چکی تھی جبکہ ہلکی ہلکی ہو رہی تھی ہم نے جونہی گاڑی سے باہر سرنکالا تو ایک دم ٹھٹھر کر رہ گئے، گرمیوں کے لاہور کے پینتالیس ٹمپریچر کے عادی جو سردیوں میں بھی چھ یا سات ٹپمریچر پر ہیٹر جلا کر بیٹھتے ہیں ان کو ایک دم سے منفی دس درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑجائے تو سوچیں کیا حالت ہوگی۔ ایک تو آکسیجن کی کمی کے باعث سانس لینے میں دقت دوسرا شدید سردی سے چلنا دوبھر ، ہم نے ہمت کی اور تقریباً آدھا کلومیٹر دور چائنہ بارڈر کی دیوار تک جا پہنچے گویا بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو یہاں کوئی بھی پانچ یا دس منٹ سے زیادہ رک نہیں پا رہا تھا لیکن ہمیں برف کا جنون تھا ہم بچوں سمیت برف کے گلیشئیر میں گھس گئے اور انجام کی پرواہ کیے بغیر تقریباً پون گھنٹہ گزار دیا کیونکہ ہمیں پتہ تھا سردی تو چلی جائے گی مگر یہ وقت یہ موسم پھر نہیں آئے گا ۔یہاں پر پاکستان کی طرف سے تو کافی رش تھا اور لوگوں کی خوشی دیدنی تھی مگر چائنہ کی طرف سے ایک بھی انسان نظر نہیں آیا جو تھوڑا عجیب لگا۔بحرحال ہمیں یہاں جا کر بہت اچھا لگا کیونکہ یہاں بھی ہم نے بہت سے معجزے اور ریکارڈ دیکھے مثلًا درۂ خُنجراب سلسلۂ کوہ قراقرم میں ایک بلند پہاڑی درہ اورقراقرم ہائی وے کا سب سے اونچا پوائنٹ ہے جو پاکستان اور چین کی دوستی کا علمبرداراور دنیا کی سب سے اونچی سرحدی کراسنگ ہے۔ یہاں پرموجود اے ٹی ایم دنیا کی سب سے اونچی اے ٹی ایم ہے اور یہاں سے گزرنے والی روڈ دنیا کی سب سے اونچی پکی سڑک ہے۔گلگت سے خبجراب پاس تک ہم نے کئی موسم نظارے اور عجوبے دیکھے۔شاہراہ قراقرم بلاشبہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے جس نے پاکستان اور چین کو دنیا کے اونچے ترین سرحدی مقام پر ملایا۔ پھر ہم گاڑی میں بیٹھے اور گرما گرم کافی اور سنیکس کے مزے لیے اور پھر واپسی کی طرف روانہ ہوگئے۔ واپسی پر راستہ اترائی کا تھا اور ہم ڈھیر ساری یادیں لیے محو سفر تھے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد ہم سوست کے بازار میں پہنچ چکے تھے اور چھ بج چکے تھے۔ ہم نے یہاں چل پھر کر تھوڑا تازہ ہوا لی چائے پی اور ایک ریستوران سے رات کا کھانا لے کر آگے چل دئیے۔ تھوڑی دیر بعد پسو کا مقام آیا تو سرمئی شام میں پسو کون کا لینڈ سکیپ ایک عجیب تاثر دے رہا تھا دل بار بار اپنے رب کی کبریائی بیان کر رہا تھا اور زبان اس کے شکر کے ترانے پڑھ رہی تھی جبکہ نظریں اس کی تخلیق پر یوں جم گئی تھیں گویا برف ہو۔
مغرب کے کچھ دیر بعد ہم گلمت پہنچ چکے تھے سو ہم نے فیصلہ کیا کہ آج رات گلمت میں ہی قیام کیا جائے یہاں پر ہم نے گل شیر بھائی کے ملبری لاجز میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا ۔گل شیر بھائی گلگلت ہنزہ میں فوڈ کے محکمہ میں ملازمت کرتے ہیں اور ان کی اہلیہ بھی ایم اے اکنامکس ہیں اور وہ اپنے گھر بچوں کے ساتھ ساتھ گیسٹ ہائوس کے معاملات بھی بہت اچھی طرح سنبھالتی ہیں۔ انہوں نے ہمارا بہت اچھی طرح خیال کیا اور ہمیں بالکل بھی اجنبیت محسوس نہیں ہونے دی رات دیر تک ان سے گلمت کے کلچر اور رہن سہن پر بات ہوئی اور اندازہ ہوا کہ ہماری زندگی کتنی غیر فطری ہے ۔جب انہوں نے بتایا کہ صبح ان کے بچے ناشتے میں درخت سے پھل توڑ کر کھاتے ہیں اور گائے کا تازہ دودھ پیتے ہیں اور بہت دلچسپ لگا۔ وہ لوگ کراچی اور لاہور بھی آتے ہیں مگر ان کو یہ شہر بالکل اچھے نہیں لگتے اور وہ جلد ہی واپس اپنی فطرت کی طرف لوٹ آتے ہیں،سردیوں کا دشوار ترین موسم بھی یہ لوگ بہت اچھے طریقے سے بسر کرتے ہیں اس کے لیے انہوں نےالگ گھر بنا کر کررکھے ہیں جن میں اسٹوو کا انتظام ہوتا ہے اور انہوں نے بتایا کہ کس طرح وہ تین ماہ کا راشن ذخیرہ کرلیتے ہیں اور پھلوں سے خود ہی مختلف طرح کے جیم اور چٹنیاں بنا کر رکھ لیتے ہیں۔ان کی باتیں بہت دلچسپ تھیں مگر نیند نے ہمیں زیادہ دیر جاگنے کا موقع نہیں دیا اور ہم سکون سے سو گئے۔صبح اٹھے تو بچے پھر غائب تھے میں نے گھبرا کر باہر دیکھا تو میرے صاحب زادے نے ایک اچھے بھلے فوڈ انسپیکٹر کو درخت پر چڑھا دیا تھا کیونکہ گلمت میں اس وقت مالبری (شہتوت) کا موسم تھا باقی پھل ابھی کچے تھے۔ یہاں کا موسم مناپن کی طرح ٹھنڈا تھا اور دھوپ میں ایک عجیب طمانیت تھی ۔ شہتوت کے درختوں کے پیچھے سے نظر آتی پسو کون کا صبح کا منظر بھی ہم جیسے لوگوں کا ایمان پکا کر دینے کے لیے کافی تھا۔
یہاں سے ہم تقریباً نو بجے نکلے اور سیدھا عطا آباد جھیل کا رخ کیا۔
عنبر شاہد
http://e.naibaat.pk/Magazine/Sunday/04-08-2019/index.html
Comments
Post a Comment