Skip to main content

انسان تو انسان کوے بھی جنک فوڈ کے عادی نکلے!


آج میرے کالم کا عنوان شاید آپ کو تھوڑا عجیب لگے گا لیکن یقین مانیں یہی حقیقت ہے جس کا مشاہدہ میں نے دو روزقبل ریس کورس پارک میں کیا۔ ہوا کچھ یوں کہ آسمان پر کالے بادل تھے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اورحبس کا نام و نشان نہیں تھا بچوں نے پارک جانے کی فرمائش کرڈالی۔ ہم نے بھی فوراً ہی آم ساتھ رکھ لیے۔سوچا کیوں نہ کمرے کی گھٹن سے چھٹکارا حاصل کریں اور تازہ ہوا میں مینگو پارٹی (دعوت آم ) کی جائے۔ گاڑی میں سامان رکھا اور چل دئیے۔موسم خلاف توقع کچھ زیادہ ہی خوشگوار تھا لہٰذا ہم نے ایک مناسب جگہ دیکھ کر دری بچھائی اورمینگو پارٹی میں مصروف ہوگئے۔ سامنے دیکھا تو ایک کوا بہت غصے سے ہمیں دیکھ رہا تھا ،سوچا کیوں نہ اس کو بھی شامل دعوت کرلیں۔ آم کے چند ٹکڑے اس کی طرف پھینکے تو وہ لپکا اورآم لے کردرخت پرجا بیٹھا تھوڑی دیرچونچیں ماریں پھراسکو وہیں چھوڑ کراڑ گیا۔ مجال ہے کسی اور کوّے نے بھی آم کی طرف دیکھا ہو۔ مجھ سے آم کی یہ بے حرمتی برداشت نہ ہوئی۔ لیکن وجہ سمجھ نہ آئی کہ آخر کوّے کو 



آم مزے کا کیوں نہیں لگ رہا تھا؟
کچھ ہی دیر بعد دیکھا تو ہمارے ساتھ ہی ایک فیلمی بھی پکنک منانے آئی تھی ۔ان کے بچے جنک فوڈ کھا رہے تھے انہوں نے چپس کے کچھ ٹکڑے کوّے کی طرف اچھالے اتنے میں کیا دیکھنا تھا کہ کوّوں کا ایک غول سر پر منڈلانے لگا۔ کم ازکم ایک یا دو پیکٹ مصالحے والے چپسوں کے ان کوّوں نے مزے لے لے کر کھائے اور آپ یقین نہیں کریں گے کہ ایک بچے نے جوس  کا ڈبہ ان کی طرف پھینکا تو ایک کوا باقاعدہ سٹرا کی مدد سے جوس کو پینے کی کوشش کر رہا تھا۔میرے ذہن میں ایک دم پیاسا کوا کہانی گردش کرنے لگی کہ اس کے آباو اجداد نے پیاس بجھانے کے لیے کتنی مشقت کی اور یہ کوے بغیر کسی مشقت کے جنک فوڈ کے مزے لے رہے ہیں۔ یہی نہیں اس سے پہلے یہ منظر ہم نے چڑیا گھر میں بھی دیکھا کہ وہاں بچوں نے بندروں کو پھل وغیرہ دیے تو ادھر ادھر اٹھا کر پھینک دیا اور چپس کا پیکٹ ان کے ہاتھ سے چھین کر لے گئے۔
میں سوچ رہی تھی کہ انسان تو انسان اب ان پرندوں اور جانوروں کو بھی زرا دیکھیں کس طرح جنک فوڈ کے عادی ہوگئے ہیں؟


استاد جی سے ذکر کیا تو مسکرا کر بولے!

تازہ ہوا اور تازہ غذا
دیتی ہے جینے کا مزا
فطرت سے جب دور ہوں ہم
ملتی ہے پھر اس کی سزا

بس دوعشرے قبل کا ہی ذکر ہے کہ گھرمیں صرف تین وقت کا کھانا بنتا تھا جس میں زیادہ تر سبزی اور دالیں بنتی تھیں اور بڑا اورچھوٹا گوشت زیادہ استعمال ہوتا تھا۔
 چکن کبھی کبھار آتا تھا جب کبھی کوئی بہت بڑی دعوت ہوتی ۔ اماں جان روز کے روز تازہ شامی کباب بناتی ۔کہتی تھیں کہ ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ فریزر میں رکھا کھانا کھانے سے جگر خراب ہوجاتا ہے۔ ابا حضور روز پیدل جاتے اورتازہ گوشت سبزی پھل لاتے ۔ فریزر میں سوائے برف کے اور کوئی شے نہیں ہوتی تھی۔ اس وقت تک ہماری صحت بھی ٹھیک تھی نہ نظر کمزور نہ فضول موٹاپا نہ کند ذہنی نہ ہڈ حرامی اور سب سے بڑی بات بڑوں کا ادب اورتعظیم بہت تھی اور ہاں یہ انٹر نیٹ ٹیبلٹ اور موبائیل کا فتنہ بھی نہیں تھا۔
اس کے بعد کبھی کبھار ہم تفریح کے لیے نہر کنارے چلے جاتے، بچوں کے ساتھ مل کر پکڑن پکڑائی کھیلتے یا برف پانی۔ رات کو کبھی کبھی کون کھانے بھی چلے جاتے۔
بڑی حسین یادیں تھیں،جب رشتوں میں اخلاص اور خون میں مٹھاس تھی۔ پھر آہستہ آہستہ ہم نے ترقی کرلی۔ ہمارے بڑے چلے گئے اپنی یادیں چھوڑ کر مگر وقت تیزی سے گزرتا گیا اور پتہ ہی نہیں چلا کب ہماری زندگی میں چارپائی کی جگہ بیڈ، اے سی کولر آگئے اور ہم اس کے عادی ہوگئے ۔پھر تازہ بننے والے شامی کبابوں کی جگہ فروزن فوڈ  نے لے لی ۔ناشتے میں دیسی گھی کے پراٹھوں اور تازہ مکھن  کی جگہ ڈبل روٹی ،کورن فلیکس ،سوسیجز اورمارجرین نے لےلی۔  پھل سبزی کی جگہ مرغی نے لے لی اور صرف گھروں تک ہی نہیں بیکری ،پیزا شوارما فاسٹ فوڈ ہر چیز میں صرف چکن اور تیز مصالحے استعمال ہونے لگے۔ا س کے ساتھ ہی پھر یہ پیکٹ والے چپس جیلی سیریلز ،ڈبے والے جوس آگئے۔  ساتھ ہی ساتھ انٹر نیٹ موبائیل اور نت نئے چینلز آگئے ۔پھر ان آنکھوں نے دیکھا کہ وہ تعلیم رہی نہ وہ بچے نہ وہ استاد، نہ وہ  صحت رہی نہ وہ لذت۔ نہ دین کا لحاظ رہا نہ اقدار کا پیمانہ ۔
نہ رشتوں میں مٹھاس رہی نہ احساس۔ ہر چیز غیرمحسوس طریقے سے غیرفطری ہوتی چلی گئی اور ہم دیکھتے رہ گئے یہ کیا ہوتا جا رہا ہےَ؟ اس پر ستم کے جو چیزیں ہمارے لیے زہر قاتل ہیں ان کی اتنی اچھے طریقے سے مارکیٹنگ کی جاتی ہے کہ ہماری اس نسل کو لگتا ہے کہ اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہیں گے ۔ڈبے والے جوس مارجرین ، ایسڈ اور مصنوعی ذائقوں سے بنی اشیا ہماری زندگی میں اس طرح شامل ہو گئی ہیں جیسے خون رگوں میں دوڑتا ہے۔ ہم لاکھ بچوں کو گھر میں چپس،کباب، جوس بنا کر دے دیں مگر جب تک وہ بازار سے پیکٹ والے چپس ،جوس نہ لے لیں ان کی تسکین نہیں ہوتی ہے۔ایک اورذہرجو ہمارے ہاں تریاق سمجھ کر پیا جاتا ہے وہ کولڈ ڈرنکس ہیں ڈاکٹر بتا بتا کر تھک گئے کہ یہ آپ کو ہڈیوں کی بیماری اور شوگر کا مریض بنا رہی ہیں مگر ایسی لت پڑگئی ہے کہ کئی لوگوں کو تو اس کے بغیر کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا اور تو اورآپ مہمان کوروح افزا دیں تو وہ اپنی توہین سمجھ لیتے ہیں۔بچوں کو جب تک آپ ان کو پیزا برگر نہ کھلا دیں لگتا ہے جیسے انہوں نے کچھ کھایا ہی ںہیں۔ تیزاور گرم مصالحے ، چکن اورچیزچاکلیٹ جیسی چیزیں کھا کر اورسارا سارا دن موبائیل پکڑا کر ہم نے بچوں کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے اور یہی چیزیں انہیں بد مزاج، چڑچڑا اور کاہل بھی بنا رہی ہیں۔ آج ایک دس سے بارہ سال کا بچہ دس منٹ چل لے تو اسے سانس چڑھ جاتا ہے ۔اتنی عجیب وغریب بیماریاں دیکھنے میں آرہی ہیں کہ اللہ معاف کرے ۔اچانک اموات ،ہارٹ اٹیک،معدے جگر کے امراض، شوگر، گردے فیل ہونا یہ سب فطرت سے دوری اور جنک فوڈ کا نتیجہ ہے۔
  سمجھ نہیں آتا کیا کریں؟
 ترقی یافتہ ملک اپنا عذاب ہمیں دے کر خود نامیاتی خوراک
)organic food(
کی طرف آگئے ہیں لیکن اب ہمیں اس سے جان چھڑانے کئی سال لگ جائیں گے وہ بھی جب ہماری نسل کو اس کی آگہی ہوگی۔


https://www.naibaat.pk/02-Aug-2019/25262

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...