Skip to main content

با پ ہی وہ ہستی ہے جس کےدم سے ساری مستی ہے


عید کی آمد قریب تھی ہم سب نے اپنی تیاری مکمل کرلی تھی مگر ابا جان نے اپنے لیے ابھی تک کچھ بھی نہیں خریدا تھا ہماری ساری فرمائشیں تقریباً پوری ہوچکی تھیں بس جوتے لینا باقی تھے۔ رات بہت دیر تک ہم خریداری کرتے رہے مگر ابا جان کو کوئی جوتا پسند نہیں آیا وہ بس جوتا اٹھاتے قیمیت دیکھتے اور واپس رکھ دیتے جبکہ ہم سب نے اپنی پسند کے جوتے خرید لیے۔لیکن ابا جان اسی طرح 

واپس آگئے مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ابا جان کو کوئی چیز کیوں پسند نہیں آرہی
صبح فجر کی نماز کے بعد چہل قدمی کرتے ہوئے استاد جی سے ملاقات ہوگئی میں نے ان سے پوچھا کہ عید کی تیاری کے وقت ابا جان کا رویہ بہت عجیب ہوتا ہے وہ اپنے لیے کچھ خریدتے ہی نہیں جب بھی پوچھو تو کہتے ہیں کچھ پسند نہیں آیا استاد جی زیر لب مسکرائے اور ایک نظم سنائی ۔


‘ باپ ہی وہ ہستی ہے !
جس کے دم سے ساری مستی ہے ’
جو چیز ہمارے لیے بہت ہی مہنگی ہے
پرایک باپ کی محبت کے آگے بڑی سستی ہے
جب زمانے کی دھوپ ہم کو ڈستی ہے
وہیں اس کی شفقت رحمت بن کر برستی ہے
باپ بڑی نعمت ہے اولاد کے واسطے
یہ چھن جائے تو ساری دنیا ہم پہ ہنستی ہے۔
اس کے بعد استاد جی بولے بیٹا باپ کی بہت قدر کرو اس کی محبت بڑی نرالی ہے ۔
میں گھر واپس آگئی اور استاد جی کی باتوں پر غور کرنے لگ گئی واقعی ہم باپ کی زرا سے ڈانٹ پر دل برداشتہ ہوجاتے ہیں اور برا منا لیتے ہیں یہ نہ کھائو وہ نہ پہنو یہاں نہ جائو ۔بات بات پر روک ٹوک ۔دیر سے کیوں آئے کہاں جا رہے ہو؟
مگر اس سب کے پیچھے کیا مصلحت چھپی ہے اور وہ ایسا کس کی بھلائی کے لیے کرتے ہیں اس کی سمجھ ہمیں بہت دیر بعد آتی ہے۔
میں رات کمرے سے اٹھ کر باہر پانی پینے آئی تو ابا فون پر کسی سے بات کر رہے تھے اور آواز بہت بھاری تھی ۔میں نے پہلی بار ان کے لہجے میں پریشانی دیکھی وہ شائد کسی قریبی دوست سے بات کررہے تھے انہوں نے کہا کہ میری تنخواہ تو کب کی خرچ ہوگئی بس آفس میں پچییس ہزار کی کمیٹی ڈالی تھی عید کے لیے، شکر ہے بچوں کی تمام تیاری مکمل ہوگئی ۔ بس اب پانچ ہزار باقی ہیں سوچتا ہوں کچھ عزیزوں کے بچوں کو عیدی دینی ہے اور کچھ سودا سلف باقی کچھ نہیں بچا ۔ کافی پریشانی ہورہی ہے ، بچے گرمیوں کی چھٹیوں میں سیرکرنے بھی جانا چاہتے ہیں اس کے لیے کم از کم تیس ہزار کی ضرورت ہوگی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ وہ شام والی جاب کرلوں ؟ میں رات کو بھی ایک دو گھنٹے فالتو دے دیا کروں گا تاکہ اضافی آمدنی سے بچوں کے داخلوں کے لیے بھی آسانی ہوجائے۔ پھر کہنے لگے ہاں بس ایک دو بلڈ ٹیسٹ کروانے ہیں وہ عید کے بعد کروائوں گا کیونکہ اب بازو میں دردزیادہ رہنے لگا ہے لیکن ابھی گھرمیں کسی سے ذکر نہیں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے خدا حافظ کہا اور فون بند کر دیا اس کے بعد وہ واک کرنے چلے گئے۔
میں اپنی جگہ پر ساکت کھڑی رہی اپنے باپ کا یہ روپ تو میں نے آج پہلی بار دیکھا تھا وہی پرانے کپڑے تین سال سے وہی پرانے جوتے اپنی صحت سے بے خبری اور ہماری ہر خواہش اورضروریات پوری کرنے والا وہ شخص کوئی مہربان فرشتہ لگ رہا تھا۔ ماں کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن باپ کی یہ قربانیاں اور ایثار تو میں نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا تھا۔ میں نے اپنے  بھائی کو ساری بات بتائی تو وہ آبدیدہ ہوگیا ۔ اس کے بعد ہم دونوں نے دل ہی دل میں ایک فیصلہ کیا اور اپنا غلہ توڑا تو اس میں سے تین ہزار نکل آئے ۔جیسے ہی ابا آئے ہم نے ضد کی کہ بازار جانا ہے وہ چا رو ناچار ہمیں بازارلے گئے اور ہم نے ابا کو وہی جوتا لے کر دیا جس کو دیکھ کر انہوں نے چھوڑ دیا تھا اور ایک شلوار سوٹ بھی خریدا اور واپسی پر آئس کریم بھی کھائی اور ہنسی خوشی گھر واپس آگئے۔
ہم نے اس دن کے بعد یہ فیصلہ کرلیا کہ اپنے ابا جان کی ہر بار مانیں گے ان کے خوابوں کو پورا کریں گے اور کبھی ان کا دل نہیں دکھائیں گے اور نہ ہی ان سے بے جا فرمائشیں کریں گے ۔
باپ کی عظمت پر جتنا بھی لکھیں لفظ کم پڑ جائیں گے مگر ہم ساری عمر خدمت کر کے بھی  باپ کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ ایک حدیث میں ہے
ہر عمل کے لیے اللہ تعا لیٰ کے یہاں پہنچنے کے لیے درمیان میں حجاب ہوتا ہے مگر لا الہ الا اللہ اور باپ کی دعا بیٹے کے لیے ،دونوں کے درمیان کوئی  حجاب نہیں ہوتا۔ (جامع الترمذی)



Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

آپ کا صرف ایک ریمارکس کسی کی زندگی تباہ کرسکتا ہے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اخلاقی طور پر ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہے ،امانت،،سچائی ،عدل ،فرض شناسی جیسی اقدارناپید ہوچکی ہیں ۔ظلم وناانصافی کےاس دورمیں لوگ اجتماعی فکر سے خالی اپنے مفادات کے لیے دوڑتے نظر آتے ہیں۔ان منفی روئیوں پرہم افسوس تو کرسکتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کر پارہے۔ دوسرے منقی رویوں کی طرح ایک اور بری چیز یہ ہے کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں ہر وقت لوگوں کو طرح طرح کے ریمارکس دیتے رہتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے؟ ہمارے لیے بہت ہی آسان ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنا اس کی کردار کشی کرنا اس کے بارے میں اندازے لگانا چاہے اس میں  زرا بھی صداقت نہ ہو، پہلے میں بھی اس بات کی سنگینی سے اتنی واقف نہ تھی جتنا اندازہ مجھے کل ہوا جب میں نے وجیہہ عروج کا  واقعہ پڑھا یقین مانیں یہ  ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔واقعہ کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ آج سے 18 سال قبل پنجاب یونیورسٹی لاہور کی ایک طالبہ وجیہ عروج نے یونیورسٹی پر ایک بہت دلچسپ ...

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟ استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی ! جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا   پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔   بیٹا یاد رکھنا!   سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں...