Skip to main content

زندگی کی دعا اس لیے کہ عبرت بنا رہے


عصر کے بعد استاد جی کے ساتھ چہل قدمی اور ان کی حکمت بھری گفتگو جاری تھی کہ ایک دم انہوں نے مجھ سے پوچھا کیا تم نے ایسا بدنصیب شخص دیکھا ہے جو ایک سمجھ میں نہ آنے والی اذیت ناک بیماری میں مبتلا ہے اورلوگ اس کی مشکل آسان ہونے کے دعائیں کرنے کی بجائے اس کی زندگی کی دعا محض اس لیےکررہے ہیں کہ وہ تا حشرعبرت کی تصویر بنا رہے؟ میں سوچ میں پڑ گئی ، الآمان الحفیظ اس سوچ سے ہی روح کانپ جاتی ہے کہ لوگ آخر اس کو اذیت میں مبتلا دیکھ کر کیوں سکون محسوس کر رہے 


ہیں ؟
بے شک دنیا فانی ہے ، کسی نے یہاں نہیں رہنا ،موت دنیا کا وہ سچ ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔
 رب کائنات ارشاد فرماتے ہیں”تم جہاں کہیں بھی رہو موت تم کو پالے گی اگر چہ تم مضبوط قلعوں میں بند ہو(النساءآیت نمبر ۸۷)
سورت اعراف میں ارشاد خداوندی ہے ہرگروہ کے لئے موت کا ایک وقت مقرر ہے جب ان کا وقت آجاتا ہے تو نہ ایک ساعت آگے جاتا ہے اور نہ ایک ساعت پیچھے۔
سورہ جمعہ میں ارشادی باری تعالی ہے ”آپ فرمادیجئے؛جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تمہیں آ پکڑے گی پھر تم اس ذات کی طرف لوٹائے جاو گے جو ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والی ہے پھر وہ تم کو تمہارے سب کئے ہوئے کام بتائے گی۔
موت کی آواز کوئی سننا نہیں چاہتا مگر موت دبے پاوں یا علی الاعلان آجاتی ہے،موت کے آگے امیرغریب ،آقا غلام کمزور طاقتور سب بے بس ہیں۔ لیکن بعض اوقات انسان اپنی زندگی کے ہاتھوں اتنا بے بس ہو جاتا ہے کہ وہ خود اپنی موت کی دعائیں مانگتا ہے لیکن موت تو بحر حال اپنے وقت پر آنی ہے ۔لیکن اس سے بھی زیادہ کرب ناک وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایسے شخص کو لمبی عمر کی دعا سی جائے تاکہ وہ اسی اذیت میں مبتلا رہے آخر ایسا کیا کر دیا اس نے کہ لوگ اس طرح کی خواہش کرنے لگے؟
ارے جینا ہے تو ایسے جیو کہ لوگ تمہاری صحت خوش حالی اور اور سکون کی ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا مانگیں اور تم جب اس جہاں سے جائو تو اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ اس طرح تم دنیا میں بھی امر ہوگے اورآخرت بھی سنور جائے گی۔

 “
زمین پر چلو تو اس طرح جیسے میرے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ چلتے تھے بولو تو ایسا جیسا ہمارے نبی کا شیوہ تھا۔حکمران بنو تو ریاست کے ساتھ ساتھ دلوں پر بھی حکومت کروجس طرح جیسے میرے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ کرتے تھے۔
مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر استاد جی بولے بچہ جی!
بچا دنیا فانی ہے اس سے دل لگانا نادانی ہے
دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی مر جانا
 ڈیگر تے دن ھویا محمد اوڑک نوں ڈب جانا
بس اللہ سے پناہ مانگو ایسی موت سے جو دوسروں کے  لیے عبرت بن جائے اوراس سے انسانیت پناہ مانگے اللہ سب کوسیدھا راستہ دیکھا ایسا راستہ جو اس نے اپنے بندوں کے لیے منتخب کر دیا ہے استاد جی نے بات ختم کی چل دیے۔
 میں سوچوں میں گم سم اپنی راہ ہولی ذہن میں ایک ہی جملہ گردش کررہا تھا
کیا تو نے ایسا بندہ دیکھا کہ لوگ جس کی زندگی دعا اس لیے مانگیں کہ وہ تا دیرعبرت کی تصویر بنا رہے؟
 گھر جا کر فیس بک آن کی تو جا بجا مشرف کی بیماری کی حالت میں تصاویر نظر آئیں اور اس کے کمنٹس پڑھ کر میرا سر چکرا گیا ۔ اس کے متعلق ایسے ایسے ریمارکس پڑھنے کو ملے کہ میں دم بخود رہ گئی اور استاد جی کی بات میں چھپی بے بسی اورپریشانی سمجھ آ گئی۔
 میرے سامنے مشرف کا سارا دورگھوم گیا ۔ احتساب کے نعروں، طاقت کے مکوں سے شروع ہونے والا سفر دبئی کے ایک ہستپال میں اختتام پذیرہوتا نظرآ رہا ہے۔ یہ وہ کمانڈو جنرل مشرف ہے جس کی بہت اونچی للکار تھی کہ جو ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ،وہ کہتا تھا ہم بلوچ اکبر بگٹی کوکہا تھا وہاں پر ہٹ کریں گے کہ انکو پتہ بھی نہ چلے گا۔ ایک وقت تھا کہ اس کی طوطی بولتی تھی ۔ پارلیمینٹ اسکے ہاتھ کی چھڑی اور میڈیا اسکی جیب کی گھڑی تھا۔ اسکا فرمایا ہوا ہر لفظ سب کے لیے پتھر کی لکیرہوا کرتا تھا وہ پوری پارلیمینٹ کو مکے دکھا دکھا کر للکارتا تھا ، جامعہ حفصہ میں نہتے طلبہ اور طالبات کو چند لمحوں میںاس طرح سرمہ بنا دیا کہ 22 کروڑ عوام میں سے کوئی اف نہ کر سکا کوئی ان کے جنازے نہ پڑھ سکا۔
 کوئی ان کو مظلوم تو کیا انسان کہنے سے بھی خوف زدہ رہا۔
 ہمارے میڈیا کا یہ حال تھا یہ سارا موت کا تماشا لائیو عوام کو دکھایا گیا۔
 ڈیرہ بگٹی میں نہتے عوام کے مقابل اسکی طاقت کی داستانیں رقم تھیں۔
 اکبر بگٹی کو مارا بلوچوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا آج جو بلوچستان کا حال ہے سب کے سامنے ہے۔ جب چاہا میڈیا کو تالے ڈال دئیے، جب چاہا چیف جسٹس کو کان سے پکڑ کر نکال باہر کیا اورپھر کیا ہوا۔۔۔ 12 مئی کا واقعہ یہ قوم نہیں بھول سکتی اس کمانڈو کے کہنے پر پورے کراچی کو سیل کر دیا گیا چیف جسٹس کے آمد کو روکنے کے لیے اپنی اتحادی ایم کیو ایم کو کھلا چھوڑ دیا گیا لاشوں پرلاشیں گر رہیں تھیں میڈیا پوری قوم کو لائیو دیکھا رہا تھا کوئی روکنے والا نہیں تھا۔
 50 سے اوپر لوگوں کو قتل کیا گیا اوریہ کمانڈو اس موقع پراسلام آباد جلسے میں مکے لہرا لہرا کے دیکھا اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہا تھا یہ کوئی بہت پرانا قصہ بھی نہیں ہے۔
 آہ ! اب وہ بستر مرگ پرایسی بیماری کا شکارہے جو انسان کو آہستہ آہستہ موت کی طرف لے جاتی ہے اوردھیرے دھیرے دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔
 اپنی عوام کو مکے دکھانے والے کی بہادری اور دانشمندی کا یہ عالم تھا کہ ایک ٹیلی فون کال پر 22 کروڑ جیتے جاگتے انسانوں کا ملک امریکہ کے حوالے کردیا مگر آج یہ جنرل عبرت کی تصویر بنا ہواہے ۔ ایسا بدنصیب کہ جا بجا لوگ اس کی مشکل آسان ہونے کے بجائے اس کی زندگی کی دعا اس لیےکررہے ہیں کہ وہ تا دیرعبرت کی تصویر بنا رہے ۔الآمان الحفیظ آج وہ مشرف بسترمرگ پر پڑا ہے اوروہ افغان طالبان جن کودہشت گرد کہا جاتا ہے روس میں سج دھج کے ساتھ امریکہ سے سر اٹھا کر اپنے بہترمستقبل کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ افغان طالبان بھی کمال کرتے ہیں روس میں بیٹھ کر روس کو کہتے ہیں کہ ہم نے اپکو ٹکڑے ٹکڑے کردیا یعنی پہلے اپ کو شکست دی اب امریکہ کو شاندار شکست دے کر دنیا میں رسوا کردیا۔ باقی یاد رکھیں نام انہی قوموں کا ہی باقی رہتا ہے جو سر اٹھا کر 
جینا جانتی ہیں ورنہ بزدل تو کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلے جاتے ہیں۔
http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/08-06-2019/details.aspx?id=p10_06.jpg

Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...