Skip to main content

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی تقاضے اور ہم


 

ربیع الاوّل کا مہینہ اپنی با برکت ساعتیں لئے آچکا ہے ،اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ رمضان میں قرآن نازل ہوا، جبکہ ربیع الاول میں صاحب قرآن کی تشریف آوری ہوئی۔ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النّبیین، سید المرسلین اوررحمت للعالمین بنا کر اس دنیا میں بھیجا۔ ہر سال ربیع الاول کا مہینہ رحمتوں اور برکتوں کا تحفہ لے کر آتا ہے اور امت میں نبی اکرم کی چاہت کی نئی روح پھونک دیتا ہے۔ لیکن افسوس کا پہلو یہ ہے کہ دورحاضر میں عید میلاد النبی منانے یا نا منانے کی بحث نے ہمیں اصل مقصد سے بہت دورکردیا 
ہے۔

 میں نے کئی بار سوچا اس موضوع پر لکھوں لیکن لوگوں کی بے معنی بحث اورعجیب دلائل مجھے الجھا دیتے ہیں لیکن اس بار میں نے تہیہ کیا کہ ضرور اس پر بات کی جائے۔
ہماری خوش قسمتی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی رگوں میں عشق نبی خون بن کر دوڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب جب ناموس رسالت پر کوئی حرف آئے تو پوری دنیا کے مسلمان ایک ہوجاتے ہیں ۔یہی وہ جذبہ  ہے جو اتحاد بین المسلمین کی روح ہےاور ہمارے دشمنوں کے اصل خوف کی وجہ بھی !
اسی لیے وہ اس جذبے کو کھوکھلا کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ چند سالوں سے ایک سوچی سمجھی چال کے تحت ہمیں بے معنی بحثوں میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ آج وہ محبت جو مسلمانوں کے درمیان اخوت اوراتحاد کا باعث تھی اب ان کو فرقوں میں منقسم کر رہی ہے ۔آج ہماری بحث محض جشن میلاد النبی منانے یا نہ منانے تک محدود ہوگئی ہے۔ میں حیران ہوں ہم کتنے کم فہم ہیں کہ دشمن ہمیں اپنے مقصد سے ہٹانے میں اتنی آسانی سے کامیاب ہوجاتا ہے۔ دشمن نےعیاری سے پہلے پتہ لگایا کہ ہمارے دل تواسی محبت سے دھڑکتے ہیں اور اس کی خاطر ہرمسلمان اپنی جان بھی دے سکتا ہے پھر عین اس نشانے پرتیرآزمائی کی اورکامیاب ہوگیا ۔
آج ہم نمازبھی پڑھتے ہیں قرآن خوانی بھی ہوتی ہے، میلاد کی محافل بھی منعقد کرتے ہیں مگر نبی اکرم کی تعلیمات سے کوسوں دور ہیں۔ جبکہ اغیار نے نہ صرف تسلیم کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی سب سے زیادہ با اثر شخصیت ہیں بلکہ انہوں نے نبی اکرم کے بنائے ہوئے نظام حیات پرعمل کیا او پوری دنیا میں چھا گئے۔ایمان داری،اخلاق، اعلٰی کاروباری اصول، معاشرت، عدل مساوات وہ کون سی خوبی ہے جو ہمیں گوروں میں نظر نہیں آتی اور ہم ان کی مثالیں دیتے ہیں یہ سب انہوں نے سے لیا، جی ہاں ہمارے نبی کی سیرت سے؟ لیکن ہم جو ان کی محبت کے دعوے دار بنے پھرتے ہیں دشمن کی چالوں کا شکار ہو کر صرف اس بحث میں الجھے ہیں میلاد منانا ہے یا نہیں،  نبی اکرم نور ہیں یا بشر؟
پیارے نبی تو جہالت کے نشان مٹانےآئے تھے تو ہم پھر کیوں اس دورجہالت میں پہنچ گئے؟

ہمارے ذہن کھولنے کے لیے تو بس قرآن پاک میں سورہ احزاب کی آیت نمبر ۲۱ ہی کافی ہے۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا
حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لئے رسول اﷲ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کیلئے جو اﷲ سے اور یومِ آخرت سے اُمید رکھتا ہو، اور کثرت سے ﷲ کا ذکر کرتا ہو
میرے پیارے مسلمان بہن بھائیو!
 تمہیں  کب عقل آئے گی؟
 نبی اکرم سے محبت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ میلاد منانا ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم ان کو کس طرح رول ماڈل بنا تے ہیں ان کی سنتوں پر کتنا عمل کرتے ہیں؟
نبی اکرم کی محبت کا تقاضا کیا ہے؟
اگر تو ہم ان کی محبت کے دعوے دار ہیں تو ہمیں بے معنی بحثوں سے باہر نکل کر دور حاضر کے فتنوں کا مقابلہ کرنا ہے ۔اس میں سب سے بڑا فتنہ قادیانیت کا ہے اس کے خلاف ڈٹ جانا اور حرمت رسول کے لیے کوئی سمجھوتہ نہ کرنا سب سے پہلا تقاضا ہے۔
اس کے بعد ہمیں چاہیے کہ قرآن کے احکامات کے مطابق نبی اکرم کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں ۔ ان کی سنتوں کا احیا کریں ۔ احادیث کامطالعہ اور ان پر عمل کرنا اپنا معمول بنا لیں۔ ان کی سیرت کے ہر پہلوسے استفادہ کرتے ہوئے وہ تمام اوصاف اپنائیں جن سے ایک خوبصورت معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ تحمل رحمدلی ،انصاف، درگزر اخلاق،صداقت ،امانت ، مساوات ،صلہ رحمی کی کئی مثالیں ہمارے نبی کی حیات طیبہ سے مل جاتی ہیں۔
ان کی سیرت کے صرف ایک پہلو اچھے اخلاق اور اچھے برتائو سے ہمارے معاشرے سے پچاس فیصد بہتری آسکتی ہے سوچیں اگر ہم سو فیصد عمل کرلیں تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جائیں گے۔
آئیے اس عید میلاد النبی پر پیارے نبی کو مل کر ایک تحفہ دیں اوردشمن کو کرارا جواب دیں۔ کیوں نہ اس بار بے معنی بحثوں میں الھجنے کی بجائے سب ایک کام کریں ۔نبی کریم کی سنتوں کو زندہ کریں،میلاد کی محفلوں میں ادب کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان پر درود وسلام بھی بھیجیں، نعتیں بھی پڑھیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی سیرت اوراحادیث کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کریں۔ جس میں بچے بوڑھے جوان سب شریک ہوں۔اس مبارک ماہ کی خوشی میں کسی سے ناراضی ہے تو اسے منا لیں کیونکہ یہ ہمارے نبی کا شیوہ ہے کوئی غریب قرضدار ہے تو اسے قرض معاف کردیں، کسی یتیم کے پر پہ ہاتھرکھ دیں ، کسی بیمار کا علاج کروادیں۔ کسی غریب بچی کی شادی کروا دیں،الغرض جو کام بھی اس نیت سے کریں کہ ہمارے نبی کا شیوہ تھا تو یقین مانیں اس سے بڑھ کر اس میلاد کا کوئی تحفہ نہیں ہوسکتا۔ایک اور بات نبی اکرم کی محبت کو کاروبار مت بنائیں کیونکہ جو ان سے سچی محبت کرتا ہے وہ اس کی قیمت نہیں لیتا ،میلاد اور نعت کی محفلوں کو برکت کا باعث بنائیں کاروبارمت بنائیں اس میں نئی نئی بدعات مت شامل کریں ان سے وہ باتیں اور طریقے منسوب مت کریں جو انہوں نے کہی ہی نہیں۔ یاد رکھیں روز محشر ایسے لوگوں کی شفاعت تو دور کی بات ان کی طرف وہ دیکھیں گے بھی نہیں!
آئہے عہد کریں اس بار نبی اکرم کے میلاد کی خوشی میں ان کو سب سے اچھا تحفہ دیں گے۔ خود کواور نئی نسل کو ان کی سیرت کی روشنی میں بدلیں گے۔
یقین مانیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا عصری تقاضا یہی ہے اور بہترین اظہار بھی ۔
اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ مسلمان اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ عبادت، درودپاک کی کثرت اور پرنورمحافل کا انعقاد کریں لیکن ساتھ ہی ساتھ  دنیا و ؤآخرت کی کامیابی کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات پرعمل پیرا بھی ہونا چاہئے اوراسے فروغ بھی دیناچاہیے۔
یہ بھی یاد رہے کہ عشق نبی کا تعلق کسی خاص مہینےاور موسم سے نہیں یہ تو وہ سدا بہار موسم ہے جو ہرلمحہ مومن کی زندگی کو پرکیف بناتا ہے اور تازگی بخشتا ہے ، اس لیے اس محبت کو ایک ماہ تک محدود نہ رکھیں بلکہ آخری سانس تک ہر لمحہ اسے نبھاتے رہنا ہی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اصلی تقاضا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...