میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ پڑھی تو وہ مجھے بہت
اچھی لگی اور مجھے اپنے نئے کالم کے لیے ایک اچھا عنوان بھی مل گیا وہ کچھ یوں تھی
۔
؛اگر خواتین کو لگتا ہے کہ مرد ان پر ظلم کرتے
ہیں تو بطور ماں اپنے بیٹوں کی بہترین تربیت کریں!
اگر غور کیا جائے تو یہ بہت گہری بات ہے کیوں کہ اکثرخواتین ہر وقت شوہر کے مظالم کا تذکرہ کرتی
ہیں کوئی سخت رویے سے نالاں ہے تو کوئی دوسری عورتوں میں دلچسپی لینے پر ناراض ۔
کچھ خواتین کو یہ بھی شکایت ہے کہ مرد ان پر ہاتھ اٹھاتے ہیں اوربہت بری زبان کا
استعمال کرتے ہیں۔
اگر ایسا ہے اور واقعی ہم مرد کے رویے میں بہتری
لانا چاہتے ہیں تو کیوں نا اس مشن کا آغاز اپنے بیٹوں کی تربیت سے کیا جائے !
اس مسئلے کا واحد حل یہی ہے کہ مائیں اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ خواتین
پر ہاتھ اٹھانے کا سوچیں بھی نہیں۔
یقین مانیں اگر مائیں بچپن سے ہی اپنے بیٹے کو
عورت کی عزت کرنا سکھائیں گی تو وہ مرد بڑا ہو کر ضرورعورت کی قدر کرے گا ۔ ماں
بیٹے کو سکھا دے کہ کسی کی بہن بیٹی پر غلط نگاہ نہیں ڈالنی تو وہ نوجوان ضرور سب
خواتین کا احترام کرے گا۔
کیا آپ کو پتہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بگاڑ کی
وجہ کیا ہے؟ وہ ہے غیرمنصفانہ رویہ جو ہمارے گھروں میں بیٹے اور بیٹی کے درمیان
برتا جاتا ہے ۔بیٹی کی تو ہر لحاظ سےتربیت دی جاتی ہے کہ اس نے اگلے گھر جانا ہے، شوہر
کی عزت کرنی ہے لیکن کبھی بیٹے کو سکھایا جاتا ہے کہ اس کی زندگی میں کسی عورت نے
آنا ہے، اس نے کیا رویہ برتنا ہے، اس کی عزت کرنی ہے اس کے جذبات کا احترام کرنا
ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ عالم ہے کہ اگر کوئی نوجوان بہت بگڑا ہوا ہو تو کہہ دیا جاتا
ہے اس کی شادی کردو خود ہی ٹھیک ہوجائے گا ، یعنی آپ کی غلط تربیت دوسروں کی بچی
بھگتے یہ بہت ہی غلط رویہ ہے۔
شادی کے بعد تو چھوڑیں اس سے پہلے کی زندگی میں
ہی دیکھ لیں ۔ ایک لڑکی کو ساری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اوراس کی ایک غلطی
اسے عمربھر کے لیے مجرم بنا دیتی ہے لیکن ایک مرد اس کی زندگی برباد کرکے اطمینان
سے زندگی گزارتا ہے اسے کسی مخالفت کا سامنا کیوں نہیں کرنا پڑتا کیا یہ سب قانون ،اصول اوراقدار صرف عورت کے
لیے ہیں ؟ کیا مرد ان سب سے بری الذمہ ہے۔ میں مانتی ہوں عورت کے لیے گھر اور اس
کی چار دیواری میں رہنا مقدم ہے بہ نسبت باہر جانے کے لیکن کسی کی کوئی مجبوری بھی
ہوسکتی ہے ہوسکتا ہے باپ نہ ہو کوئی بھائی نہ ہو اور وہ مجبوراً رزق کمانے کے لیے
باہر نکلتی ہو۔ضروری نہیں ہر عورت گناہ کے ارادے سے گھر سے نکل رہی ہے، آپ کوکوئی بس ہوسٹس ، ریسپشنسٹ ، سکول ٹیچر ، بیوٹی پارلر
پر کام کرنے والی یا سیلز گرل نظر آتی ہیں تو سب اپنی کسی نہ کسی مجبوری کے تحت
گھر سے نکلتی ہیں لیکن ہمارے ہاں زیادہ تر مرد عورت کوصرف ایک ہی نظر سے دیکھتے
ہیں ان کی نظر اور دل میں ان خواتین کا کوئی احترام نہیں ہوتا یہ انہیں صرف ایک
چیز سمجھتے ہیں ۔کئی اداروں میں یہ حال ہے کہ ملازمت کے لیے نکلی لڑکی کی مجبوری
کا فائدہ اٹھایا جاتا ہےپھر جب ان کی زندگی برباد ہوجاتی ہے تو ماں باپ ،معاشرہ
صرف اورصرف ان پر انگلی اٹھاتا ہے لیکن مجال ہے کہ کسی مرد پر حرف آئے وہ ویسے کا
ویسا ہی محترم بنا پھرتا ہے ۔
ایسا کیوں ہے آخر؟
مرد کو اللہ نے حاکمیت دی ہے عورت سے بلند مقام
دیا ہے ،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بے لگام گھوڑا بن جائے اور عورت کی مجبوری
سے فائدہ اٹھائے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کسی بھی فیلڈ میں عورت کی کامیابی اس کی
کارکردگی سےزیادہ جسم کی نمائش سے مشروط ہوتی ہے جو ماتحت لڑکی اپنے باس کے غلط
اور صحیح احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرے ، حیا کا پاس نہ رکھے تو وہ بہت
جلد کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتی ہے یہاں تک کہ اشتہار بنانے والی کمپنیاں بھی عورت
کا استعمال صرف ایک پراڈکٹ کی طرح کرتی ہیں جس میں عورت کے جسم کی نمائش کرکے ہی چیز
بیچی جاتی ہے۔ کیا عورت کوئی پراڈکٹ ہے ؟ بہت کم ایسا دیکھا گیا ہے کہ ایک با حجاب
مگر با صلاحیت لڑکی کسی ادارے میں اپنی قابلیت پر آگے آئی ہو۔
اصل میں تربیت گھروں میں ہوتی ہے اور مجھے بہت
افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہمارے گھروں میں تربیت صرف بیٹیوں کی جاتی ہے اور بیٹوں کے
صرف ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں کیونکہ بیٹوں کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے نسل آگے بڑھانی ہے ،وہ بڑھاپے کا
سہارا ہیں لیکن یہ بات غلط ثابت ہے کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ بیٹیاں شادی کے بعد بھی
ماں باپ کے لیے بیٹوں سے زیادہ فکرمند ہوتی ہیں ۔ بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والوں کے
لیے ان پانچ پاکستانی شیر بہنوں کی مثال کافی ہے جنہوں نے سی ایس ایس میں کامیابی
حاصل کرکے نیا ریکارڈ قائم کردیا اور اپنے باپ کو عمر بھر صرف بیٹیاں ہونے کے طعنے
ملنے کا خوبصورت جواب بھی سے دیا۔
یا د رکھیں کہ ایک اعلیٰ تربیت یافتہ نوجوان جب گھر سے باہر نکلے
گا تو اچھی صحبت میں بیٹھے گا اس کی نظروں میں پاکیزگی ہوگی وہ دوسری لڑکیوں کو
عزت کی نظر سے دیکھے گا۔ لڑکوں کی قرآنی تعلیم اورمسجد میں نماز پڑھنے سے مضبوط کردار جنم لیتا
ہے جو کبھی برائی کو نزدیک نہیں آنے دیتا۔ مگرہم دنیاوی تعلیم کے آگے دینی تعلیم
ضروری نہیں سمجھتے۔
مجھے لڑکوں کی تربیت میں چند چیزوں کا فقدان نظر آتا ہے ایک
توماں کی طرف سے بیٹوں کی غلطیوں پربے جا طرف داری کرنا ، ان میں خود انحصاری پیدا
نہ ہونے دینا ، بے جا ضدیں پوری کرنا ۔ اس کے علاوہ جھوٹ اور منافقت کی عادت والدین سے آتی ہے
لوگوں کے منہ پراخلاق پیٹھ پیچھے برائیاں ،یہی تو بچوں میں منافقت لاتی ہے ۔۔وہی
لڑکا جو راہ چلتے ہرلڑکی کو چھیڑتا ہے جب اس کی اپنی بہن کے ساتھ کوئی ایسا کرے تو
غیرت مند بن جاتا ہے یہی منافقت ہے!
اس کے علاوہ لڑکوں کے دوستوں پرنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ بسا اوقات گھر کی تربیت بہت اچھی ہوتی ہے لیکن دوستوں کی صحبت میں لڑکے بہت سی برائیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ لڑکوں کا رات دیر گئے تک باہررہنا لڑکیوں کی طرح ہی خطرناک ہے، جن لڑکوں کو یہ لت پڑجائے، وہ ساری عمر ٹھیک نہیں ہوسکتی، ان کے اس روئیے سے پہلے ماں باپ اور پھراس کے بیوی بچوں کو مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے ۔ ان میں لاابالی پن اور غیر ذمہ دارانہ رویہ جنم لیتا ہے۔
اس کے علاوہ لڑکوں کے دوستوں پرنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ بسا اوقات گھر کی تربیت بہت اچھی ہوتی ہے لیکن دوستوں کی صحبت میں لڑکے بہت سی برائیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ لڑکوں کا رات دیر گئے تک باہررہنا لڑکیوں کی طرح ہی خطرناک ہے، جن لڑکوں کو یہ لت پڑجائے، وہ ساری عمر ٹھیک نہیں ہوسکتی، ان کے اس روئیے سے پہلے ماں باپ اور پھراس کے بیوی بچوں کو مسائل کا سامنا کرناپڑتا ہے ۔ ان میں لاابالی پن اور غیر ذمہ دارانہ رویہ جنم لیتا ہے۔
اگرآپ نے اپنے بیٹے کی اچھی تربیت کی تو وہ ایک اچھا بیٹا ،
بھائی ، شوہر ، باپ ، دوست ، افسر،تاجر،
سائنس دان، انجنئیر ، مفکر ، صحاٖفی اور مفید انسان ثابت ہوگا ۔اچھی تربیت کے لیے
دور جانے کی بھی ضرورت نہیں ، اس کے لیے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہی کافی ہے

Comments
Post a Comment