Skip to main content

جو اللہ کی نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔ اللہ اس کی نہیں مانتا


نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں ،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائےگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی ۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی؟



استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی !
جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا  
پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چلینج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ھمیں چھوڑ دیتا ہے۔
 بیٹا یاد رکھنا!
 سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں گرا دیتی ہی اور اپنےپائوں پر کبھی کھڑا نہیں ہونے دیتی۔
 یہ اللہ کا حکم ہے کہ سود لینے والا اور دینے والا دونوں ہی جہنمی ہیں ۔
 آہ نہیں سنتاکوئی ، نہیں دیکھتا کوئی ، نہیں سمجھتا کوئی ، نہیں مانتا کوئی ، نہیں مانتا کوئی ، نہیں مانتا کوئی ۔
کاش کہ کوئی میرے رب کا یہ فلسفہ سمجھ جائے
شائد یہ سن کر کوئی سنبھل جائے
بچہ کبھی کسی سے سود نہ لینا نہ دینا
ورنہ تم کسی کام کے نہیں رہو گےکسی کام کے نہیں رہو گے۔
یاد رکھنا سود سے اٹھ جاتی ہیں برکتیں ہر چیز سے
سود کسی چیزکو پائوں پہ کھڑا نہیں ہونے دیتا
سود وہ بھٹی ہے جس میں ڈل کر مٹی سونا نہیں بنتی بلکہ راکھ بن جاتا ہے ۔
 استاد جی اداس لہجے میں اپنی راہ ہولیے اور میں سوچ میں گم ان کی باتوں کی گہرائیوں میں ڈوبی گھر لوٹ آئی۔
 جس بات پہ دھیان جاتا جس چیز پہ غور کرتی جس کاروبار پر نظر ڈالتی  وہاں سود کا بسیرا نظر آتا اورساتھ ہی ساتھ نفسا نفسی   حالات اور  کرادار کی گراوٹ کی انتہا نظر آتی ۔
آج اگر ہم اپنے بجٹ پر اور ملکی معیشت پر نظر دوڑائیں تو اتنا قرضہ نہیں لیا کہ  جتنا ہم سود ادا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم سودی نظام میں پھنس گئے ہیں یہ ایک ایسی دلدل ہے جس سے باہر نکلنا اب تقریبا ناممکن ہو چکا ہے۔ اگر روپے کی قیمت دیکھیں تو وہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی بدترین سطح تک گر چکی ہے ۔ کیا وجہ ہے؟
 کیونکہ ہم نے اللہ کی نہیں مانی اس لیے اب اس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔

 اسی لیے آج ہر بندہ پریشان ہے،غریب تو غریب  امیر اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ بھی رو رہے ہیں شریف توشریف  ، بدمعاش بھی رو رہے ہیں ۔
سب سے پہلے تو ہم دیکھتے ہیں کہ سود کے بارے میں قرآن کا کیا حکم ہے؟
اللہ تعالی کا فرمان ہے :"اے ایمان والو ! اﷲ سے ڈرو اور جو سود لوگوں کے پاس باقی رہ گیا ہے اگر ایمان والے ہو تو اسے چھوڑ دو ، اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبر دار ہوجاو .... " ( البقرہ :275)
اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے
٢٧٦... سورة البقرة
اسی طرح اگر ہم حدیث کی رو سے دیکھیں تو
حضرت جابر رضی اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود لینے والے، دینے والے، تحریر لکھنے والے اور گواہوں، سب پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔ 
(
مسلم: کتاب البیوع، باب لعن آکل الربوا و مُوکِله)

یہاں پرایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سود سے بڑے بھی کئی گناہ ہیں جیسے شرک، قتل ناحق اور زنا وغیرہ لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺ نے جتنی ممانعت سود کی کی ہے وہ کسی اور گناہ کی نہیں آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب یہ ہے کہ سود اسلامی تعلیمات سے براہِ راست متصادم ہے اور یہ انسان کے معاشرتی اورمعاشی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ اسلام ہمیں مروّت، ہمدردی اور ایثار کا سبق سکھلاتا ہےجبکہ سود بخل، حرص،ہوس اور زرپرستی پیدا کرتا ہے۔ یہ اسلامی بھائی چارے اور اخوت کا دشمن ہے۔سود اسلامی سنہرے معاشی نظام کے منافی ہےجو کہتا ہے کہ دولت گردش میں رہے اور اس کا بہائو امیر سےغریب کی طرف ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے نظامِ زکوٰۃ و صدقات کو فرض کیا گیا ہے جبکہ سودی نظام میں دولت کا بہائو ہمیشہ غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے سود اسلام کے پورے معاشی نظام کی ضد ہے۔یہی وہ ہے کہ ہماری دولت پورے ملک کے چند خاندانوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔
آج جب میں موجودہ دور کو دیکھتی ہوں تو عین نبی پاک کی اس حدیث کے مصداق نظر آتا ہے کہ

''لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جب ہرکوئی سود کھانے والا ہوگا۔ اگر سود نہ کھائے تو بھی اس کا بخار (اور ایک دوسری روایت کے مطابق) اس کا غبار اسے ضرور پہنچ کے رہے گا''
 (نسائي : کتاب البیوع، باب اجتناب الشبهات في الکسب)

اور آج کا دور بالکل ایسا ہی ہے۔ معاشرے کی رگ رگ میں بھی سود کچھ اس طرح سرایت کر گیا ہےکہ ناچاہتے ہوئے بھی ہر کوئی اس سے متاثرہو رہا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی اس چنگل سے بچنا بھی چاہے تو بھی اسکے لیے ہر موڑ پر دشواری ہے۔تاہم اگر کوئی شخص صدق دل سے سود سے بچنے کا ارادہ کرلے  تو وہ اس میں کامیاب ہوسکتا ہے اگر لالچ اور ہوس کا پجاری نہ ہو تو !
بظاہریہ لگتا ہے کہ سود سے مال بڑھتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ :
جس معاشرہ میں سود کا رواج ہوگا، اس میں برکت نہیں رہے گی ،وہ بالآخر کنگال ہوجائے گا۔ غریب طبقہ کی تعداد دن بدن بڑھتی جائے گی  اور وہ اپنی ضروریات پاوری کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرے گا اور حلال حرام کی تمیز بھی کھو دے گا۔
لب لباب یہ ہے کہ ہماری موجودہ حالت زار کا باعث یہی سودی نظام ہے جس کے خاتمے کے لیے آج تک کوئی اقدامات نہیں کیے گئے بلکہ ہر نئی حکومت نے پہلے کی پیروی  کرتے ہوئے سودی نظام کو مزید مستحکم کیا  ہے۔حال تو یہ ہے کہ پاکستان کی شریعت کورٹ نے سود بتدریج ختم کرنے کا
حکم دے رکھاہے جبکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت کی میاں نواز شریف کی گورنمنٹ نے اس کے خلاف سپریم کورٹ سے سٹے لے رکھا ہے اور معاملہ یہیں پر رکا ہوا ہے پھر ایسے حاات کیوں نہ پیدا ہوں جب ہم اللہ کے قانون کو چیلنج کر رہے ہیں۔
 یاد رکھیں اسلامی نظامِ معیشت کے بنیادی اُصولوں میں ملک سے سود کا خاتمہ اور نظامِ زکوٰ ۃ و خیرات کی ترویج ہے۔ سود کے خاتمہ سے نظامِ سرمایہ داری کی جان خود نکل جائے گی جبکہ اسلامی نظام وراثت اورزکوٰۃ وصدقات کا نظام لاگوہوجانے پر طبقاتی تقسیم بھی ختم ہوجائے گی اورمعاشرہ خوشحالی کی طرف گامزن ہوجائے گا۔امید ہے وطن عزیزکو مدینہ کی ریاست بنانے کی دعویدار حکومت پہلی فرصت میں سود کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی۔ 
ا


Comments

  1. Faith in Allah is essential, and reflecting on it brings guidance, just like reading Surah Kahf in Roman English strengthens belief and understanding.

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلئہ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کےبعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا ۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں ۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا ۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچھ نصیحت بھی کردیں۔استاد جی نے سر پہ ہات...

تلاش اس کو نہ کر بتوں میں۔۔۔وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں

(سفر نامہ ۔۔۔۔ (عنبر شاہد) پہلی قسط  لاہور کی اندھا دھند گرمی سے جی گھبرایا تو سب گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سیر کی جائے اور خاص کر وہ جگہیں جو پہلے نہ دیکھی ہوں اور سفر برائے سفر نہ ہو بلکہ وسیلۂ ظفر بھی ہو۔ پہلے تو اس کے لیے بجٹ دیکھنا بھی ضروری تھا کہ کچھ ایسا کام ہو جو کم خرچ بالا نشیں بھی ہو اور زیادہ سے زیادہ سیر کا موقع بھی مل جائے۔اس کے بعد سب نے اپنی جمع شدہ عیدیاں پٹرول کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں تاکہ ایک طرف سے بے فکری ہو۔ اس کے بعد انٹرنیٹ پر موسم کی صورت حال دیکھی تو سب سے دل فریب ناران بابوسر ٹاپ کا موسم لگا۔ کافی غور وفکر کے بعد ہم نے ارادہ کیا کہ بابوسر ٹاپ سے ہوتے ہوئے بابوسر چلاس روڈ کے راستے چائنہ بارڈر تک ہو کر آئیں گے۔ اس حساب سے کچھ گرم کپڑے کھانے پینے کا سامان اور ضروری ادویات رکھ لیں۔ جانے سے پہلے سوچا استاد جی کو ملتے چلیں۔ میں ان کو سلام کرنے ان کے گھر پہنچی تو سورہ رحمٰن کی تلاوت کر رہے تھے ان کی آواز اور انداز نے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔میں نے انہیں بتایا کہ ہم لوگ سیر کرنے جا رہے ہیں دعا کریں خیریت رہے اور کچ...

ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی

دو ہزارانیس چند دنوں کا مہمان ہے اوردو ہزار بیس کی آمد آمد ہے ، لیکن سردی اورمعاشرے میں بڑھتی ہوئی انارکی اورسرد مہری سے لگتا ہے گویا سب  کچھ جامد جامد ہے۔ ڈبو نہ دے، کہیں یہ نا خدا کی خاموشی یوں تو گزشتہ کئی سالوں سے عوام اپنی حالت میں بہتری کے خواب سجائے اگلے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اسے شومئی قسمت کہیے یا پھر اپنے سیاہ اعمال کے دن بدن حالات بہتری کی طرف مائل ہونے کی بجائے ابتر ہوتے جا رہے ہیں آج بھی یاد ہے جب اکیسویں صدی کی آمد کا شور تھا اور بڑے مباحثے ہوتے تھے کہ دیکھنا کیسی ترقی ہوگی یہ ہو جائےگا ، وہ ہو جائے گا۔ مگرآج جب بیس سال بعد میں جائزہ لیتی ہوں تو مجھے انیسویں صدی کا وہ آخری عشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور جوں جوں پیچھے چلے جائیں آپ کو لگے گا کہ واقعی اس وقت میں ہم زیادہ خوش تھے اور پرسکون تھے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم جسے ترقی سمجھ رہے ہیں وہ سراسر تنزلی ہے یا پھر ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ بےشک ہم نے بہت ترقی کرلی ہے بڑی بڑی عمارتیں ، سڑکوں کا جال ،نت نئی ٹیکنالوجی   لیکن اس کے بدلے میں جو ہم نے کھویا ...